پاک ایران فیری سروس منصوبہ ناکام ہونے کا خدشہ، سیکریٹری پورٹس

خبر کا کوڈ: 1292895 خدمت: ایران

سیکریٹری پورٹس اینڈ شپنگ نے کہا ہے کہ کراچی سے گوادر، ایران اور دبئی تک فیری سروس چلانے کا منصوبہ میں سرمایہ کاری کے لیے صرف ایک کمپنی سامنے آ سکی اور وہ بھی سرکاری ہے تاہم کسی نجی کمپنی نے دلچسپی کا اظہار نہیں کیا جس کی وجہ سے فیری سروس کے منصوبے کی ناکامی کا خدشہ ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، سیکریٹری پورٹس اینڈ شپنگ خالد پرویز نے کہا ہے کہ کراچی سے گوادر، ایران اور دبئی تک فیری سروس چلانے کا منصوبہ میں سرمایہ کاری کے لیے صرف ایک کمپنی سامنے آ سکی اور وہ بھی سرکاری ہے تاہم کسی نجی کمپنی نے دلچسپی کا اظہار نہیں کیا جس کی وجہ سے فیری سروس کے منصوبے کی ناکامی کا خدشہ ہے۔

واضح رہے کہ فیری سروس کا اعلان اکتوبر 2015 میں کیاگیا تھا تاکہ پاکستان سے ایران و عراق جانے والے زائرین کو محفوظ راستہ فراہم کیا جاسکے، ابتدائی منصوبہ کراچی سے گوادر تا ایران 400 سے 600 مسافروں کی گنجائش کی حامل 2 فیری سروسز چلانے کا تھا، یہ 18گھنٹے کی مسافت زمینی راستے سے مہنگی مگر فضائی سفر سے سستی ہوگی مگر لینڈ روٹ کے مقابل زیادہ محفوظ سفری سہولت بھی ہوگی۔

یہ منصوبہ وزارت پورٹس اینڈ شپنگ نے تیار کیا جس کے تحت مسافر کے ساتھ کارگو سروس بھی شروع کی جانی تھی، اس منصوبے میں جدید سفری سہولتیں دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

منصوبے پر پاکستان کے ایرانی اور دبئی حکام سے مذاکرات ہوئے جو کامیاب رہے لیکن یہ منصوبہ اس وقت کھٹائی کا شکار ہونے کے خدشات سے دوچار ہوا جب وزارت پورٹس اینڈ شپنگ نے فیری سروس چلانے کے لیے درخواستیں طلب کیں مگر 3 ماہ کے عرصے میں صرف 1کمپنی نے فیری سروس چلانے میں دلچسپی ظاہر کی جسے اس کا لائسنس دے دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے رابطہ کرنے پر سیکریٹری پورٹس اینڈ شپنگ خالد پرویز نے بتایا کہ اس منصوبے میں دلچسپی نہیں لی جا رہی، 1کمپنی پی این ایس سی نے درخواست دی تھی اسے لائسنس دے دیا گیا ہے، اب اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری