وائس چیئرمین سنی اتحاد کونسل کا تسنیم نیوز کے ساتھ خصوصی انٹرویو؛

سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والا اتحاد اسلامی نہیں مسلکی ہے

خبر کا کوڈ: 1293217 خدمت: انٹرویو
jawad

سنی اتحاد کونسل پاکستان کے وائس چیئرمین اور انجمن طلباء اسلام کے سابق مرکزی صدر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والا اتحاد اسلامی اتحاد نہیں بلکہ مسلکی اتحاد ہے جو عرب کے بدمست اور غیرت سے عاری حکمرانوں کا ایجاد کردہ ہے۔ کعبے کی کمائی سے عیاشی کرنے والوں نے اس وقت یہ اتحاد کیوں نہ بنایا جب فلسطین اور کشمیر کے مسلمان مرتے رہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم نیوز کے نمائندہ کو دئے گئے انٹرویو کا متن ذیل میں پیش خدمت ہے۔

تسنیم نیوز: ایسا اتحاد جس میں داعش کے ساتھ لڑنے والے اصل ممالک عراق، ایران، شام اور لبنان شامل نہیں ہیں، اور اسے مسلکی کے بجائے اسلامی اتحاد کہا جارہا ہے، آپ کے خیال میں کیا اس اتحاد کو اسلامی کہا جاسکتا ہے؟

سید جواد الحسن کاظمی: میں سمجھتا ہوں کہ اس اتحاد کو اسلامی اتحاد قرار دینا حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے، اگر یہ اتحاد واقعی اسلامی ممالک کا اتحاد ہوتا تو اس میں تمام مسلمان ممالک ہوتے، چونکہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہو تو پورا جسم آرام سے نہیں رہ سکتا، اگر یہ اسلامی ممالک کا اتحاد ہے تو یہ اتحاد اس وقت کیوں نہیں بنا جب مسلمان پوری دنیا میں رسوا ہوتے رہے، مسائل سے دوچار رہے، مرتے رہے، فلسطین کب سے جل رہا ہے، پاکستان اور کشمیر جل رہے ہیں، بوسنیا اور چیچنیا کے مسلمان طرح طرح کے مصائب کا شکار رہے، اگر یہ اتحاد اسلامی ممالک کا اتحاد ہے تو اسے اس وقت بننا چاہیے تھا، اگر اب بنا ہے تو اس میں اگر تمام اسلامی ممالک شامل ہوتے تو یہ ایک اسلامی اتحاد ہوتا، اس سے قبل بھی جو ادارے مسلمانوں کے نام پر بنائے گئے ہیں، اسلامی سربراہی کانفرنس کی مثال ہمارے سامنے ہے، امت مسلمہ کی بھلائی کے لئے ان پلیٹ فارمز سے کچھ نہیں کیا گیا۔ 39 ممالک کے اس اتحاد میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جو امریکہ کے اتحادی ہیں، حتیٰ کہ وہ ممالک بھی شامل ہیں جو غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے حامی ہیں، اس اتحاد کو ہم کسی بھی حوالے سے اسلامی ممالک کا اور اسلامی مفادات کے تحفظ کا اتحاد نہیں قرار دے سکتے۔

تسنیم نیوز: جنرل راحیل شریف کا اس نام نہاد اسلامی اتحاد کے لئے خدمات پیش کرنے کا فیصلہ کس حد تک درست ہے؟

سید جواد الحسن کاظمی: میرے سمیت تمام پاکستانیوں کے لئے یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہے، ماضی میں ہم نے پرائی جنگوں میں شامل ہو کر اپنا بہت سارا نقصان کیا ہے، افغانستان میں ہونے والی جنگ میں کود کر دہشت گردی کی آگ کو ہم اپنے ملک میں لائے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک ایسا اتحاد ہے جو فرقہ واریت کی بنیاد پر بنا ہے، حتیٰ کہ بہت سی جگہوں پر یہ اتحاد دہشت گردوں کی حمایت کرتا ہوا نظر آتا ہے، ہم نے اس اتحاد میں شامل ہو کر دہشت گردی کی نئی آگ جو داعش کی صورت میں ہے، اسے اپنے ملک میں لانے کی بنیاد رکھ دی ہے۔

تسنیم نیوز: پاک فوج کے ریٹائرڈ فوجیوں نے پہلے آل خلیفہ کے لئے خدمات پیش کیں اور اب سابق آرمی چیف آل سعود کے لئے اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں، ایسے غیر مقبول فیصلے کیا پاک فوج کی ساکھ کو متاثر نہیں کریں گے؟

سید جواد الحسن کاظمی: پاک آرمی پاکستان کا ایک باوقار ادارہ ہے، عسکری اداروں کے ذمہ داران کو غور کرنا چاہیے کہ پاک آرمی اور پاکستان کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھ کر تمام فیصلے کئے جائیں، ایسے فیصلے نہ کئے جائیں جو غیر مقبول ہوں اور جن سے اس باوقار ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچے۔ دوسرا ہمارے اپنے مسائل اس قدر زیادہ ہیں، آج پاکستان ایک اہم ترین اسلامی ملک ہے، جو واقعی اسلامی ملک ہے، ہم کسی بھی دہشت گرد قوت کے ساتھ نہیں کھڑے، اسرائیل کی طرف سفر کے لئے ہمارا پاسپورٹ ویلڈ نہیں ہے، ہم دنیا بھر میں ہونے والے مظالم کی مذمت کرنے والی قوم ہیں، ہم دنیا میں دہشت گردی اور ظلم کا حصہ نہیں بن سکتے۔ ہم خود دہشت گردی کا شکار ہیں، سابق آرمی چیف جیسے لوگوں کی پاکستان کو زیادہ ضرورت ہے، ہم دوسرے ممالک کے فرقہ وارانہ مسائل میں الجھنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

    تازہ ترین خبریں