پروفیسر سلمان حیدر کیس؛

جبری گمشدگیاں اہل قلم و دانش کیلئے تشویش کا باعث بنتی جا رہی ہیں، غنویٰ بھٹو

خبر کا کوڈ: 1293430 خدمت: پاکستان
ghinwa

پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) کی چیئرپرسن نے کہا ہے کہ ریاست کی نظر میں اگر پروفیسر سلمان حیدر سمیت دیگر افراد مجرم ہیں تو انہیں عدالت کے سامنے لایا جائے بصورت دیگر عدالت عالیہ کو ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اپنا موثر کردار ادا کرنا ہوگا ورنہ عوام اور ریاست کے درمیان موجودہ خلیج میں اضافہ ہو تاجائے گا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کی رپورٹ کے مطابق غنویٰ بھٹو نے جبری گمشدگیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو ) کی چیئرپرسن محترمہ غنویٰ بھٹو نے اسلام آباد سے فاطمہ جناح یونیورسٹی کے پروفیسر سلمان حیدر سمیت پنجاب سے چار بلاگرز کے دن دہاڑے اغوا اور سندھ اور بلوچستان سے قومی کارکنوں کے جبری گمشدگی کے کاروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کی کاروائیاں اہل قلم و دانش کیلئے تشویش کا باعث بنتی جا رہی ہیں جن کی روک تھام میں تمام حکومتی ادارے مکمل طور پرناکام ہو چکے ہیں۔

سترکلفٹن سے جاری ہونے والے ایک بیان میں محترمہ غنویٰ بھٹو نے کہا کہ ماضی قریب میں بلوچستان اور سندھ سے سیاسی کارکنان کی گمشدگی ریاست کیلئے ایک چیلنج بن چکا تھا جس کے خاتمے کیلئے عدالت عالیہ سمیت تمام اداروں کی کوششوں کے باوجود بھی اس مسئلے کو مکمل طور پر حل نہیں کیا جا سکا تاہم ایسے واقعات میں کچھ کمی واقع ہوئی لیکن پروفیسر سلمان حیدر سمیت دیگر افراد کے دن دہاڑے اغوا سے ملک کے سیکورٹی اداروں کے کردار کے بارے میں سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں جو ملک و ملت کیلئے کسی بھی صورت میں فائدہ مند نہیں۔

محترمہ غنویٰ بھٹو نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ریاست کی نظر میں اگر پروفیسر سلمان حیدر سمیت دیگر افراد مجرم ہیں تو انہیں عدالت کے سامنے لایا جائے بصورت دیگر عدالت عالیہ کو ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اپنا موثر کردار ادا کرنا ہوگا ورنہ عوام اور ریاست کے درمیان موجودہ خلیج میں اضافہ ہو تاجائے گا۔

    تازہ ترین خبریں