راحیل شریف کی تعیناتی سے متعلق خبروں نے بہت سے سوالات کو جنم دیا/ اجازت ضروری قرار

خبر کا کوڈ: 1294402 خدمت: پاکستان
naved

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر دفاع نے کہا کہ کوئی بھی سول اور فوجی شخص جس نے ملک کے کسی بھی ادارے میں کام کیا ہو، اسے کم از کم دو سال تک کسی ایسی جگہ جانے کے لیے حکومت اور اپنے ادارے سے اجازت لینی پڑتی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور سابق وزیر دفاع سید نوید قمر نے کہا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ راحیل شریف کی سعودی اتحاد کی سربراہی سے متعلق خبروں نے عوام اور سیاسی حلقوں میں بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کوئی بھی سول اور فوجی شخص جس نے ملک کے کسی بھی ادارے میں کام کیا ہو، اسے کم از کم دو سال تک کسی ایسی جگہ جانے کے لیے حکومت اور اپنے ادارے سے اجازت لینی پڑتی ہے، جہاں پر مفادات میں تضاد پیدا ہونے کا خدشہ ہو، لہذا اس وقت سب جاننا چاہتے ہیں کہ اس کے پیچھے کیا حقیقت ہے، جسے عوام کے سامنے نہیں لایا گیا۔

خیال رہے کہ کچھ روز قبل وزیر دفاع خواجہ آصف نے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو دہشت گردی کے خلاف 39 اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد کا سربراہ بنائے جانے کی تصدیق کی تھی تاہم گزشتہ روز بیان جاری کرتے ہوئے انہوں نے یوٹرن لی اور کہا کہ راحیل شریف نے اس اتحاد میں شامل ہونے سے متعلق حکومت سے رابطہ تک نہیں کیا ہے۔

    تازہ ترین خبریں