تحریر: فرحت حسین مہدوی

نیا قصہ: جنرل راحیل کی شرطیں !؟

خبر کا کوڈ: 1296246 خدمت: مقالات
راحیل شریف و سلمان

ایک پاکستانی تجزیہ نگار نے اس بیان کے ساتھ کہ ضرب عضب نامی آپریشن کے دوران دہشتگردوں کو کوئی گزند نہیں پہنچی ہے، کہا کہ یہ راحیل شریف کا ہی دور تھا جب پاکستان میں داعش کی تنظیم سازی کی خبریں میڈیا کی زینت بن گئیں چنانچہ اب یہ اندیشے تقریبا عام ہوچکے ہیں کہ جنرل صاحب ملک کے اندر اور باہر جو بھی کردار ادا کریں گے وہ علاقائی تنازعات میں ایک فریق کی حیثیت سے ہوگا اور ان سے مصالحتی کوششوں وغیرہ جیسی چیزوں کی توقع نہیں رکھی جاسکے گی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کو ارسال کردہ مضمون میں پاکستانی تجزیہ نگار فرحت حسین مہدوی نے جنرل (ر) راحیل شریف کی سعودی اتحاد کی سربراہی سے متعلق تین شرطوں کا تجزیہ کیا ہے جس کا متن من و عن پیش خدمت ہے:

سماء ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے جنرل (ر) امجد شعیب کا کہنا تھا کہ سعودی حکام نے وزیراعظم نواز شریف سے بات کی تھی کہ جنرل راحیل شریف کو اسلامی فوجی اتحاد کا سربراہ بنایا جائے جس کی انہوں نے اجازت دی تھی۔

٭ جنرل (ر) نے یہ نہیں بتایا کہ سعودی حکام کے ساتھ نواز شریف کی بات چیت کس سورس نے نقل کی ہے اور کس نے اس کی تصدیق کی ہے؟

اُنہوں نے کہاکہ راحیل شریف نے اسلامی فوجی اتحاد کا سربراہ بننے کیلئے سعودی عرب کے سامنے 3 شرائط رکھی تھیں: پہلی شرط، ایران کو فوجی اتحاد میں شامل کیا جائے، چاہے وہ مبصر کی حیثیت سے ہی ہو، دوسری شرط یہ تھی کہ راحیل شریف کسی کی کمان میں کام نہیں کریں گے، ایسا نہ ہو کہ اصل سربراہی کسی سعودی کمانڈر کے پاس ہو اور انہیں اس کے نیچے کام کرنا پڑے جبکہ تیسری شرط یہ تھی کہ انہیں مسلم ممالک میں ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے صلح کار کے طور پر کام کرنے کی اجازت ہونی چاہئے، بوقت ضرورت وہ مسلم دنیا میں اپنا کردار اداکرسکیں۔

٭ چند آسان سے سوالات:

پہلی شرط: ایران کو شامل کیا جائے چاہے مبصر کی حیثیت ہی کیوں نہ ہو

٭ تو بات یہ ہے کہ سعودیوں نے یمن پر چڑھائی اسی بہانے سے کی ہے کہ وہ بقول ان کے "یمن میں ایران کے اثرورسوخ کو ختم کرنا چاہتے ہیں؛ سعودیوں نے نام نہاد اتحاد بھی اسی لئے تشکیل دیا کہ وہ یمن میں اپنی جنگ اسرائیل، امریکہ اور عرب ممالک کی مدد سے آگے بڑھانے میں ناکام ہوچکے تھے چنانچہ انھوں نے ایک نام پیش کیا "دہشت گردی کے خلاف 34 ملکوں کا اتحاد"، "دہشت گردی کے خلاف 39 ملکوں کا اتحاد"، اور اب "دہشت گردی کے خلاف 42 ملکوں کا اتحاد" جس میں فعال کردار ادا کرنے والے ممالک کی تعداد ایک ہاتھ کی انگلیوں سے زیادہ نہیں ہے؛ اور مقصد وہی ہے: "ایران کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا ہے، شام اور عراق بھی جو دہشت گردی کے نشانے پر ہیں اور سعودی عرب وہاں دہشت گردی کو فیڈ کررہا ہے، اس اتحاد میں شامل نہیں ہیں"، تو سعودی ایران کو کیونکر اس اتحاد میں شامل کریں گے؟ یہ بات ہم جیسوں کو سمجھ میں آتی ہے تو جنرل صاحب اور ان کی تقرری سے ملک کے اندر اتفاق کرنے والے اس کو نہیں سمجھے ہیں کیا؟

دہشت گردی کے خلاف اتحاد قائم کرنے کی قیادت دہشت گردی کو پوری دنیا میں رائج کرنے والی حکومت کرے گی، یہ الگ بات ہے جو ہضم نہیں ہوسکتی کسی بھی عقلمند شخص کے نزدیک۔۔

۔ چنانچہ اس نے پہلے تو ہزاروں یا لاکھوں ریٹائرڈ فوجی اور دہشت گرد وہاں منتقل کئے اور ان کے جنگی نظام کو ایک جیسا بنانے کے لئے جنرل صاحب کو بھی بھرتی کیا۔

دوسری شرط: راحیل شریف کسی کی کمان میں کام نہیں کریں گے، ایسا نہ ہو کہ اصل سربراہی کسی سعودی کمانڈر کے پاس ہو اور انہیں اس کے نیچے کام کرنا پڑے۔

٭ یعنی یہ کہ 34، 39 یا 42 ملکوں کا یہ اتحاد جنرل صاحب کے ماتحت ہوگا جس کا بانی سعودی وزیر دفاع ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ سعودی اپنے ماتحت قائم اتحاد کو اپنے ایک ملازم کے حوالے کریں؟ اس کا مطلب تو یہ بھی لے سکتے ہیں کہ جناب راحیل شریف کل سعودی حکمرانی کو بھی اپنے ہاتھ میں لینے کی خواہش ظاہر کریں گے تو پھر انہیں کیا کرنا پڑے گا۔ کیا راحیل شریف محمد بن سلمان کو تنخواہ دیں گے یا بن سلمان انہیں تنخواہ دیں گے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ تنخواہ دینے والا تنخواہ لینے والے کی کمان میں کام کرے؟

تیسری شرط: تیسری شرط یہ تھی کہ انہیں مسلم ممالک میں ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے صلح کار کے طور پر کام کرنے کی اجازت ہونی چاہئے، بوقت ضرورت وہ مسلم دنیا میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔

٭ اگر جناب راحیل شریف کو سفارتکاری کا اتنا شوق تھا اور وہ مسلمان ملکوں کے درمیاں ہمآہنگی پیدا کرنے کے لئے کام کرنا چاہتے تھے تو کیا اس کے لئے ضروری تھا کہ وہ جاکر ایک مسلم ملک پر چڑھائی کرنے والی فوج کے سربراہ بن جائیں؟ کیا وہ پاکستان میں ہی ایسا کردار ادا نہیں کرسکتے تھے؟ اور کیا اگر وہ پاکستان کی طرف سے امن کے سفیر کی حیثیت سے اسلامی ممالک میں امن و آشتی قائم کرنے کے لئے نکلتے تو ان کا عمل زیادہ مؤثر نہ ہوتا؟ اور پھر یہ بات کون مان سکتا ہے کہ جناب کو فوج کی کمان سنبھالنے کے لئے بلایا گیا ہو اور پھر انہیں اس ملک کی سفارتکاری میں مداخلت کی اجازت دی جائے اور وہ ایک جارح فوج کے کمانڈر کے طور پر امن پسندانہ سفارتکاری کا بیڑا بھی اٹھائیں۔ اس صورت میں سعودی کس طرح ان کی پشت پناہی کریں گے جو پورے عالم اسلام کو آگ میں جھونک چکے ہیں اور ان کی جارحانہ پالیسیوں نے پوری دنیا کو تشویش میں ڈال دیا ہے؟

٭ فلہذا عرض یہ ہے کہ یہ سب بہانے ہیں، اگر جنرل صاحب کو اپنی اور ملک کی اور مسلح افواج کی عزت عزیز ہے تو انہیں اس ملازمت کو خیرباد کہنا پڑے گا اور اگر انہیں امن پسندانہ سفارتکاری کا شوق ہے تو میرا نہیں خیال کہ پاکستان میں ان کی اس خواہش کی کوئی بھی مخالفت کرے گا۔ یا پھر مان لیں کہ ایک فرقہ وارانہ تنظیم کا حصہ بن گئے ہیں، جو ہوگا سو ہوگا ۔۔۔

جنرل (ر) امجد شعیب نے دعویٰ کیا ہے کہ راحیل شریف سے رابطہ ہوا اور یہ سب کچھ راحیل شریف نے ہی بتایا۔

٭ جنرل (ر) صاحب نے البتہ یہ نہیں بتایا کہ راحیل شریف کے ساتھ کس کا رابطہ ہوا اور یہ ساری باتیں انھوں نے کس کو بتائیں۔

کچھ ضروری نکتے:

جنرل راحیل شریف نے اپنی سپہ سالاری کے تین سالہ دور میں سعودی عرب کے پانچ دورے کئے ہیں جو ایک غیر معمولی ریکارڈ ہے؛ انھوں نے ان دوروں کے دوران سعودی بادشاہ اور وہاں کے مؤثر ترین شخص محمد بن سلمان سے کئی بار ملاقاتیں کیں اور سعودی حکام کے ساتھ اپنے روابط بڑھا دیئے۔

سعودی وزیر خارجہ اور سعودی وزیر دفاع پاکستان کے دورے پر آئے تو انھوں نے راحیل شریف سے ملاقات کو غنیمت سمجھا اور عادل الجبیر سے ملاقات کے دوران تو وہ بہت جذباتی بھی ہوئے اور جذباتیت سے مغلومب ہوکر انھوں نے کچھ دھمکیاں بھی دے ڈالیں جو تاریخ میں ثبت ہوئے گو کہ بعد میں ثالثی ٹرپ میں بھی شامل رہے۔

انھوں نے اس عرصے میں امریکہ کے بھی دورے کئے لیکن ایران اور عراق سمیت کسی بھی اور اسلامی ملک کے دورے پر نہیں گئے۔

ایک دفعہ نواز شریف کے ساتھ ثالثی کے عنوان سے سعودی دورے کے بعد ایران کے دورے پر گئے لیکن ان کی کسی ایرانی اہلکار سے ملاقات نہیں ہوئی بلکہ نواز شریف کی ملاقاتوں کے بعد وہ واپس پاکستان آئے۔

جناب اسحق ڈار نے ایک ٹی وی گفتگو کے دوران کہا: جنرل راحیل شریف کے فیصلے کی مجھے خبر نہیں ہے، وہ عمرے پر گئے ہیں لیکن مجھے نہیں معلوم کہ کیا سعودی حکام نے انہیں اپنے اتحاد کی کمان سنبھالنے کی دعوت بھی دی ہے یا نہیں لیکن بہر حال جناب راحیل شریف صاحب اپنے دور سپہ سالاری کے دوران بھی سعودی اتحاد میں اپنا کردار ادا کرنے کے خواہشمند تھے لیکن قانونی لحاظ سے وہ ایک ہی وقت میں دو مقامات پر کردار ادا نہیں کرسکتے تھے چنانچہ وہ اس وقت یہ کردار ادا نہیں کرسکے۔

نتیجہ:

جناب اسحق ڈار کے موقف سے معلوم ہوتا ہے کہ سعودی اتحاد میں ان کی شمولیت کے بارے میں شاید ان کا ذاتی کردار زیادہ نمایاں ہے اور وہ یہ کہ وہ سعودیوں کے ساتھ جذباتی حد تک تعلقات میں الجھ گئے ہیں، شاید ریالات کا کردار بھی کچھ کم نہ ہو لیکن یہ خدشہ بھی پایا جاتا ہے کہ گویا وہ کچھ زیادہ ہی فرقہ وارانہ رجحانات رکھتے ہیں کیونکہ جن علاقوں میں انھوں نے ضرب عضب نامی کاروائی کی قیادت کی وہاں دہشت گردوں کو کوئی گزند نہیں پہنچی اور ان ہی علاقوں سے ایک ڈویژن جتنے دہشت گردوں کی داعش میں بھرتی کی خبریں پاکستانی میڈیا کی زینت بنی ہیں جبکہ ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی ان ہی کے اس سنہری دور میں داعش کی تنظیم سازی کی خبریں عام ہیں چنانچہ اب یہ اندیشے تقریبا عام ہوچکے ہیں کہ جنرل صاحب پاکستان میں اور پاکستان سے باہر بھی جو کردار ادا کریں گے وہ علاقائی تنازعات میں ایک فریق کی حیثیت سے ہوگا اور ان سے مصالحتی کوششوں وغیرہ جیسی چیزوں کی توقع نہیں رکھی جاسکے گی۔

ہمارے خیال میں اس مسئلے کا واحد علاج ان کی وطن واپسی ہے۔

    تازہ ترین خبریں