پاک آرمی چیف کی سرحد پر دہشتگردوں کی نقل و حرکت روکنے کیلئے افغان حکومت کے تعاون پر تاکید

خبر کا کوڈ: 1297783 خدمت: پاکستان
قمر جاوید

پاکستان آرمی چیف نے افغان صدر کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ کرکے اس ملک کے مختلف شہروں میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کی مذمت کرتے ہوئے شرپسند عناصر کی مشترکہ سرحد پر نقل و حرکت روکنے کیلئے تعاون پر تاکید کی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان صدر اشرف غنی کو ٹیلی فون کرکے دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر افسوس کا اظہار کیا۔

ڈان نیوز نے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں حالیہ دنوں میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات اور ان کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ آرمی چیف نے افغانستان پر زور دیا کہ وہ دہشت گردوں کی سرحد پر نقل و حرکت کو روکنے میں تعاون کرے۔

آرمی چیف نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے موثر بارڈر مینجمنٹ میکنزم اور انٹیلی جنس شیئرنگ کی تجویز بھی پیش کی۔

بیان کے مطابق آرمی چیف نے یہ بھی کہا کہ 'ایک دوسرے پر الزام تراشیوں سے خطے میں امن دشمن عناصر کو فائدہ پہنچتا ہے'۔

آرمی چیف نے مزید کہا کہ 'پاکستان سے دہشت گردوں کی تمام محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کردیا گیا ہے'۔

بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل باجوہ نے گزشتہ چند برسوں کے دوران دونوں برادر ممالک میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات پر دکھ کا اظہار کیا۔

آرمی چیف اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے افغان حکومت اور عوام کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے لیے پر عزم ہے جو خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'پاکستان ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کرتا آیا ہے اور اس دوران شدت پسندوں کے تمام محفوظ ٹھکانوں کو ختم کردیا گیا ہے۔

آرمی چیف نے مزید کہا کہ 'دونوں ملکوں کو آپریشن ضرب عضب میں حاصل ہونے والی کامیابیوں سے فائدہ اٹھانے پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیئے'۔

آئی ایس پی آر کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے آرمی چیف جنرل باجوہ کا شکریہ ادا کیا اور خطے کے امن و استحکام کو بہتر بنانے کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کابل میں متعدد افراد نے شدت پسندوں کی مبینہ حمایت پر پاکستانی سفارتخانے کے باہر پاکستان کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

مظاہرین نے پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے خلاف بھی نعرے بازی کی تھی۔

مظاہرین نے کابل میں پاکستانی سفارتخانے کو 'جاسوسوں کا گھونسلہ' قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ 'آئی ایس آئی باغیوں کی معاونت کرتی ہے اور ملک میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کی پیچھے بھی اسی کا ہاتھ ہے'۔

یاد رہے کہ چند ہفتوں قبل آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ افغان قیادت نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو دورے کی دعوت دی ہے۔

آرمی چیف نے سال نو کے موقع پر افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور اپنے افغان ہم منصب کو ٹیلی فون کرکے نئے سال کی مبارک باد دی تھی اور 2017 میں خطے کے امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری