موجودہ حکومت ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش کررہی ہے، سیدراحت حسین الحسینی

خبر کا کوڈ: 1297991 خدمت: پاکستان
سید راحت الحسینی

گلگت کے امام جمعہ و الجماعت سید راحت حسین الحسینی کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت خاص مکتب فکر کو دیوار سے لگانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔

تسنیم نیوز ایجنسی نے علاقائی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا ہے کہ گلگت کے امامیہ مسجد کے امام جمعہ و الجماعت سید راحت حسین الحسینی کا امپھری گلگت میں سید ضیاء الدین رضوی کی بارہویں برسی سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ شہیدعلامہ سید ضیاء الدین رضوی نے ہمیشہ اس علاقے میں امن و اتحاد کی بات کی اور علاقے کے حقوق  کے لئے کردار ادا کیا مسائل کو ہمیشہ افہام و تفہیم کے ساتھ حل کیا مگر شر پسندوں کو اس عظیم قائد کے اقدامات پسند نہیں آئے اور اس عظیم قائد کو اس کے باوفا ساتھیوں سمیت شہید کردیا گیا۔ 

الحسینی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: 12 سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود شہید ضیاء الدین کے قاتل آزاد ہیں، حکومت قاتلوں اور جابروں کو سزا دینے کے بجائے ان کی پشت پناہی کررہی ہے۔

انہوں نے گلگت بلتستان کی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا: ایف آئی آر میں نامزد ملزم و مجرم دندناتے پھر رہے ہیں ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جارہی ہے۔ قاتلوں کو جیل سے فرار کروا کر موت کی سزا سنائی جاتی ہے،  اور جو مجرم جیل میں ہیں ان کے خلاف معمولی نوعیت کی ایف آئی آر درج کی گئی ہے تاکہ مختصر مدت میں بہ آسانی رہا ہوسکیں۔

علامہ راحت نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے خاص مکتب فکر کو  دیوار سے لگانے کی پالیسی اپنائے رکھی ہے ہماری زمینوں پر دفعہ 144 لگا کر خالصہ سرکار قرار دیا جارہا ہے بے گنا ہ افراد کو پھانسی کے تختوں پر لٹکایا جارہا ہے جبکہ قاتل آزاد ہیں۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرکے اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کریں۔

علامہ نے سیاسی پارٹیوں پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا: ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والی سیاسی پارٹیاں الیکشن کے بعد سے غائب ہیں انتخابات کے بعد انہوں نے علاقے کی خبر تک نہیں لی ہے۔

سید راحت الحسینی نے عوام پر زور دیتے ہوئے کہا: وقت آگیا ہے کہ عوام پارٹیوں کے خول سے باہر نکلیں اور سیاستدانوں کی باتوں میں آنے کی بجائے ملی وحدت کامظاہرہ کریں کیوںکہ اتحاد اور وحدت میں ہی مسائل و مصائب کا حل موجود ہے۔

جلسہ عام سے تحریک جعفریہ کے سابق ممبر قانون ساز اسمبلی دیدار علی نے بھی خطاب کیا۔

دیدار کا کہنا تھا کہ  ہمارے ملک میں ایک مخصوص مائنڈ سیٹ ہے جو پاک فوج، اتحاد، یکجہتی اور امن کی مخالفت کرتا ہے اس مائنڈ سیٹ نے جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا نقصان کسی اور نے پاکستان کو نہیں پہنچایا۔

اس  مائنڈ سیٹ نے ملک میں انارکی اور انتشار پھیلانے کے لئے دن رات ایک کیا ہوا ہے، پاک فوج کو ملک کے جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ نظریاتی حدود کے تحفظ کے لئے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

سابق رکن قانون ساز اسمبلی سید ضیاالدین رضوی کی تحریک نصاب تعلیم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ہم سب کے لئے قابل قبول نصاب تعلیم چاہتے ہیں جس میں اتحاد امت کی بات ہو، شہید سید ضیاء الدین رضوی نے ہمیشہ عوام کی اتحاد و اتفاق کی بات کی، شہید سب کے لئے قابل قبول نصاب کے خواہاں تھے، 12 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود نہ تو شہید کے قاتلوں کو گرفتار کیاگیا ہے اور نہ ہی نصاب تعلیم کامسئلہ حل کیا گیا۔

انہوں نے سانحہ چلاس اور بابو سر سمیت مختلف شیعہ دشمن کارروائیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حکومت کو چاہئے سانحہ لولوسر اور سانحہ چلاس کے مجرموں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچائے۔

ریاست اور حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔

انہوں نے حکمرانوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ یہاں پر حکمران اپنے اقتدار کے نشے میں مست ہیں اور ملک و عوام سے کسی صورت مخلص نظر نہیں آرہے ہیں۔

دیدار علی نے کہا کہ ہم انصاف کے طلب گار ہیں اور انصاف کے لئے ہی جدو جہد کرتے رہیں گے۔

    تازہ ترین خبریں