پاکستان میں دہشت گرد آزاد لیکن پرامن قلمی جدوجہد پر پابندی، رابعہ باجوہ

خبر کا کوڈ: 1298846 خدمت: پاکستان
سلمان حیدر

پروفیسر سلمان حیدر اور دیگر بلاگرز کی جبری گمشدگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئےسماجی کارکن و ایڈوکیٹ رابعہ باجوہ نے کہا کہ ملک میں دہشت گرد اور کالعدم تنظیموں کے لوگ آزاد پھر رہے ہیں لیکن ایک امن پسند قلم کی جدوجہد کو پابند کیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ڈان نیوز کے پروگرام ' نیوز وائز' میں سماجی کارکنان و بلاگرز کے لاپتہ ہونے کے معاملے پر رابعہ باجوہ نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی جانب سے سلمان حیدر و دیگر بلاگرز کی بازیابی کے حوالے سے سینیٹ میں بیان کے باوجود باوجود دس دن گزر جانا ریاستی رٹ کی کمزروی ظاہر کرتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ جبری گمشدگیوں کےمعاملے پر پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا اہم کردار بنتا تھا جو ان جماعتوں کی جانب سے ادا نہیں کیا گیا۔

رابعہ باجوہ نے کہاکہ پاکستان کے تمام طبقات جو کسی منفی سوچ کو خود پر مسلط یا طاری نہیں ہونے دینا چاہتے انھیں چاہیے کہ وہ جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔

اس دوران گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے سماجی کارکن و پروفیسر علی عثمان قاسمی نے کہا کہ اس معاملے پر حکومت کی بے بسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیکیورٹ جیسے اہم معاملات سمیت سولین حکومت کے پاس کسی بھی نوعیت کے اختیارات نہیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حکمران جماعت کے پاس صرف پل اور سڑکوں کے افتتاح کرنے کے اختیارات ہیں۔

علی عثمان قاسمی کے مطابق پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان سماجی کارکنان و بلاگرز کی گمشدگی کے خلاف جدو جہد میں عوام کا ساتھ دیں تا کہ آنے والے وقت میں جمہوریت کی بقا کے لئے سہولت پیدا ہو ۔

سماجی کارکن کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ آزاد رائے سے زیادہ ان افراد کو گمشدہ کر دئے جانے کے عمل کا ہے جو کہ مکمل غیر قانونی ہےاور ہم اسی بات کو سامنے لانا چاہتے ہیں کہ جس طریقہ کار کو اپنایا گیا ہے وہ بالکل غلط ہے اس لئے ان افراد پر اگر کوئی الزام ہے تو انھیں عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے۔

علی عثمان قاسمی کے مطابق وہ گذشتہ 16 برس سے سلمان حیدر کو جانتے ہیں جنھوں نے پورے ملک میں اپنی شاعری، کالم اور تھیٹر کے ذریعے جہاں بھی ظلم ہوا اس کے خلاف آواز بلند کی۔

واضح رہے کہ پروفیسرسلمان حیدر سمیت دیگر بلاگرز کی گمشگی کو دس دن سے زائد گزر چکے ہیں تاہم وفاقی وزیر داخلہ سمیت اب تک کسی کو ان کے بارے میں کچھ علم نہیں، اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ نے سینیٹ میں بیان دیا کہ' سیکیورٹی اداروں سے بات ہو چکی ہے چند دن میں ان بلاگرز کی بازیابی ہو جائے گی'۔

دوسری جانب ملک کے تمام بڑے شہروں میں ان بلاگرز کی بازیابی کے لئے مظاہرے اور حکومت سے ان کی بخیریت بازیابی کا مطالبہ بھی کئے گئے اس کے علاوہ ان بلاگرز کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک مہم کا عنصر بھی سامنے آیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی کے پورفیسر اور انسانی حقوق کے کارکن سلمان حیدر اسلام آباد جبکہ دیگر کئی بلاگرز ملک کے مختلف حصوں سے گمشدہ ہوئے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں