ٹرمپ انتظامیہ نے معاہدہ منسوخ کیا تو اپنے ایٹمی پروگرام پر دوبارہ کام شروع کردیں گے، ایران

ایران کے صدر حسن روحانی کہتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ایٹمی معاہدے پر دوبارہ مذاکرات نہیں کریں گے، یہ ایسی حالت میں ہے کہ نومنتخب امریکی صدر نے اسے بد ترین معاہدہ قرار دیا تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے معاہدہ منسوخ کیا تو اپنے ایٹمی پروگرام پر دوبارہ کام شروع کردیں گے، ایران

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران امریکہ ایٹمی معاہدے کی پہلی سالگرہ کے موقع پر پریس کانفرنس میں ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظوری کے بعد جوہری معاہدہ اب ایک بین الاقوامی دستاویز بن چکا ہے، اس سے پہلے نومنتخب امریکی صدر نے انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران سے جوہری معاہدہ اب تک کئے گئے بد ترین معاہدوں میں سے ایک ہے اور وہ اس سے مطمئن نہیں ہیں، تاہم ایران ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ایٹمی معاہدے پر دوبارہ مذاکرات نہیں کرے گا۔

دوسری جانب ایرانی توانائی ایجنسی کے سربراہ علی اکبر صالحی نے عرب ٹی وی کو انٹرویو میں کہا کہ ایران ایٹمی معاہدے میں کوئی بھی ترمیم یا رد وبدل ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔

انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ یا تو معاہدے کو موجودہ شکل میں قبول کرے یا مسترد کرکے نتائج بھگتنے کی تیاری کرے۔

واضح رہے کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے ایران امریکہ ایٹمی معاہدے کی سخت مذمت کی تھی۔ ایک موقع پر ان کا یہ بیان بھی سامنے آیا تھا کہ صدر بننے کے بعد وہ مذکورہ معاہدے کو پارہ پارہ کر دیں گے۔

مربوط خبریں
سب سے زیادہ دیکھی گئی ایران خبریں
اہم ترین ایران خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری