افغان طالبان پاکستان کی سرزمین استعمال نہیں کر رہے، پاکستان کی افغانستان کو ایک بار پھر وضاحت

خبر کا کوڈ: 1301177 خدمت: پاکستان
سرتاج عزیز

وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بگڑتی ہوئی سیکورٹی کی صورتحال کا ذمہ دار پاکستان نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے حوالے سے افغان حکومت خود تذبذب کا شکار ہے اور افغان حکومت کا یہی طرز عمل افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بین الاقوامی حمایت یافتہ امن مذاکرات کے آغاز میں رکاوٹ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ قومی اتحاد پر مبنی افغان حکومت کامیاب ہو۔ طالبان و دیگر گروہوں کو یہ پیغام بھیجتے ہیں کہ پوری دنیا چاہتی ہے کہ وہ حکومت سے مذاکرات کریں اور مسئلے کو حل کریں کیوں کہ کوئی بھی افغانستان میں لڑائی جاری رہنے کا خواہاں نہیں۔

انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پاکستان نے بارہا افغان صدر اشرف غنی کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ افغان دشمن باغیوں پر پاکستان میں زمین تنگ کردی گئی ہے اور جو بھی پاکستان میں چھپے ہوئے تھے وہ واپس افغانستان جاچکے ہیں۔

سرتاج عزیز نے باور کروایا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ 2600 کلو میٹر طویل سرحد پر سیکورٹی بڑھانے کی کوششیں مزید تیز کردی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب ماضی کی طرح سرحد پر آزادانہ نقل و حمل ممکن نہیں، مسافروں کو افغانستان یا پاکستان میں داخل ہونے کے لیے قانونی دستاویز دکھانے پڑتے ہیں۔

سرتاج عزیز نے افغانستان پر بھی زور دیا کہ وہ بھی اپنی طرف اس طرح کے اقدامات کو یقینی بنائے تاکہ سرحد پر نقل و حرکت کی نگرانی ممکن ہوسکے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کابل میں متعدد افراد نے شدت پسندوں کی مبینہ حمایت پر پاکستانی سفارتخانے کے باہر پاکستان کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

مظاہرین نے پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے خلاف بھی نعرے بازی کی تھی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ 'آئی ایس آئی باغیوں کی معاونت کرتی ہے اور ملک میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کی پیچھے بھی اسی کا ہاتھ ہے'۔

اس کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان صدر اشرف غنی کو ٹیلی فون کرکے دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر نہ صرف افسوس کا اظہار کیا تھا بلکہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے موثر بارڈر مینجمنٹ میکنزم اور انٹیلی جنس شیئرنگ کی تجویز بھی پیش کی تھی۔

آرمی چیف نے یہ بھی کہا تھا کہ 'ایک دوسرے پر الزام تراشیوں سے خطے میں امن دشمن عناصر کو فائدہ پہنچتا ہے'۔

واضح رہے کہ چند ہفتے قبل بھی افغانی مظاہرین نے پاک افغان سرحد پر اس وقت سھاوا بول دیا تھا جب پاکستانی عوام بھارتی وزیراعظم مودی کے خلاف پرامن ریلی نکال کر نعرے بلند کر رہے تھے۔ افغان عوام نے سرحد پر سیکورٹی فورسز پر بھی پتھراؤ کیا تھا اور پاکستانی سبز ہلالی پرچم بھی نذر آتش کر دیا تھا۔ 

تاہم تاحال یہ معمہ حل نہیں ہو سکا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے خلاف مظاہرہ کرنے والے پاکستانیوں پر اسلامی برادر ملک افغانستان کے باشندوں نے کس بات پر مشتعل ہو کر حملہ کیا تھا؟؟؟

    تازہ ترین خبریں