یورپ میں مقیم طلبہ کی اسلامی انجمنوں کے نام امام خامنہ ای کا مختصر پیغام + تشریح

خبر کا کوڈ: 1302651 خدمت: ایران
ایرانی طلبا و طالبات کا امام خامنہ ای سے ملاقات

امام خامنہ ای نے فرمایا: "نوجوانی اور طالب علمی" طاقتور قوت محرکہ [Powerful Propellant] کی طرح، اعلی ہدف کے حصول میں انسان کو مدد دیتی ہے؛ آپ عزیزوں سے توقع کی جاتی ہے کہ اپنے ارد گرد کے ماحول پر اثر انداز ہوجائیں اور اپنی زبان اور عمل سے راہ خدا کے راہیوں کی تعداد میں اضافہ کریں۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: رہبر انقلاب اسلامی امام سید علی خامنہ ای (دام ظلہ العالی) نے یورپ میں مقیم طلبہ کی اسلامی انجمنوں کی اکاون ویں اجلاس کے نام اپنے پیغام میں فرمایا:

"نوجوانی اور طالب علمی" طاقتور قوت محرکہ [Powerful Propellant] کی طرح، اعلی ہدف کے حصول میں انسان کو مدد دیتی ہے؛ آپ عزیزوں سے توقع کی جاتی ہے کہ اپنے ارد گرد کے ماحول پر اثر انداز ہوجائیں اور اپنی زبان اور عمل سے راہ خدا کے راہیوں کی تعداد میں اضافہ کریں"۔

رہبر انقلاب اسلامی کے پیغام کا متن:
بسم اللہ الرحمن الرحیم

عزیز نوجوان طالبعلمو!

نوجوانی اور طالبعلمی ہر ایک بجائے خود، ایک طاقتور قوت محرکہ [Powerful Propellant] کی طرح، اعلی اہداف کے حصول میں مدد دیتی ہے۔

آپ ان دو خصوصیات کے ساتھ ساتھ اسلامی انجمنوں کے مؤثر منظومے میں شمولیت کی امتیازی خصوصیت سے بھی بہرہ ور ہیں، [اور یوں] آپ پر حجت تمام ہوچکی ہے، آپ عزیزوں سے توقع، ـ علمی، دینی اور اخلاقی خودسازی سے بڑھ کر ـ ہے؛

کفر و استکبار کے محاذ کے خلاف غیر متوازن جنگ [Asymmetric warfare] میں خالص اسلام کے لہلہاتے پرچم کے ساتھ، یہ ہم سب کا فریضہ ہے کہ [ہم میں سے] ہر ایک اسلام کی صحیح معرفت اور اللہ کی صراط مستقیم کا پر برکت چشمہ ہو۔

پر نشاط، پر امید، اور روشن ہوں آپ کے پاک دل۔

سید علی خامنہ ای
20 جنوری 2017ء

مختصر سی تشریح:

نوجوانی محرک ہے، نشاط آور ہے، آگے بڑھانے والی ہے، طالبعلمی بھی ایسی ہی ہے، اور یہ دو خصوصیات انسان کو اعلی اہداف کے حصول میں مدد دیتی ہے۔

پیغام یہ کہ "اس عمر میں اور طالبعلمی کی فرصت میں اپنے لئے اعلی اہداف کا تعین کرو؛ اور ان کے حصول کو مطمع نظر بناؤ تو یہ دو اوصاف تمہیں ان کے حصول میں مدد دیں گے"۔

توقع یہ ہے کہ علمی لحاظ سے ـ جو فی الحال تمہاری زندگی کا ہدف اول ہے ـ کامیابی حاصل کرو، دینی لحاظ سے بھی پیچھے نہ رہو اور دینی حوالے سے علم و آگہی حاصل کرو اور عمل کرو؛ اور یہ کہ یورپی معاشرے میں رہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دین کی قید سے آزاد ہوگئے ہو، لہذا علمی اور دینی لحاظ سے اپنے وجود کی تعمیر کرو اور اخلاقی لحاظ سے بھی خودسازی کرو۔ [خودسازی سے مراد: Self Making یا Self improving]

اللہ نے آپ کو ایک موقع یہ بھی دیا ہے کہ طلبہ تنظیموں کے رکن ہو تو اس عظیم مجموعے اور منظومے سے بھی مذکورہ بالا اہداف کے حصول کے لئے فائدہ اٹھاؤ اور اس کی قابلیتوں کو بھی بروئے کار لاؤ۔

تمہارے پاس علم ہے، نوجوان ہو، طالبعلم ہو، اچھی خاصی باضابطہ تنظیم کے رکن بھی ہو، دنیا بھر کے حالات سے آگاہ ہو، جانتے ہو کہ ذمہ داریاں کیا ہیں، فکری لحاظ سے پیشرفتہ ہو، دشمن کو جانتے ہو، دوست کو بھی جانتے ہو، اپنے گرد کے ماحول کو بھی جانتے ہو [اور یوں] تم پر حجت تمام ہوچکی ہے،

تم نوجوان ہو، یورپی اور مغربی یا کسی بھی ملک کی جامعات کے طلبہ ہو، لیکن تمہاری تبلیغی ذمہ داری ختم نہیں ہوئی بلکہ بڑھ گئی اور توقع یہ ہے کہ اپنے قول کے ذریعے اور اپنے فعل کے ذریعے بھی ارد گرد کے ماحول پر اثر انداز ہوجاؤ اور لوگوں کو راہ حق کی طرف بلاؤ اور انہیں راہ حق کے راہی بنا دو اور یوں راہ حق پر گامزن انسانوں کی تعداد میں اضافہ کرو۔

قول یعنی حقائق بیان کرنا اور فعل یعنی جو کچھ حاصل احکام و معارف میں سے حاصل کرچکے ہو، اس پر عمل کرو، تا کہ جاننے والے آپ کے قول و عمل سے متاثر ہوکر حق کی طرف رجوع کریں۔

تم سے صرف صرف یہی توقع نہیں ہے کہ علمی، دینی اور اخلاقی لحاظ سے اپنی ذات اور اپنے وجود کی تعمیر کرو بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ اس وقت دنیا جہاں میں کفر و استکبار کی یلغار ہر لحاظ سے اور ہر شعبے میں جاری ہے، عالمی کفر و استکبار کے چیلے بھی گردنیں کاٹ کر اسلام کی جگ ہنسائی کا سامان کررہے ہیں، وہ خود بھی میڈیا کے ذریعے بھی، عسکری لحاظ سے بھی، تبلیغ و تشہیر کے لحاظ سے بھی، اسلام پر حملہ آور ہوئے ہیں، ایک غیر متوازن جنگ [Asymmetric warfare] ہے بدقسمتی سے اسلامی محاذ کمزور ہے، اس کے وسائل کم ہیں، میڈیا پر یہودی و نصرانی تسلط ہے، اسلامی محاذ کے اندر متعدد حکومتیں اس کی نوکری چاکری پر فخر کررہی ہیں، اور ان حکومتوں نے کفر و استکبار کی مدد کرکے دشمن کو دوست کی جگہ بٹھایا ہے اور دوست کی دشمن کی جگہ؛ ان ہی کے باہمی تعاون سے دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے، تو ایسے میں ہم سب کی کچھ ذمہ داریاں ہیں اور ہم سب کا فرض ہے کہ خالص اسلام کے لہلہاتے پرچم کو اٹھا کر، اسلام کی صحیح معرفت اور اللہ کی صراط مستقیم کا پربرکت سرچشمہ بنیں اور غیر مسلموں کو اس معرفت کی طرف بلائیں اور صراط مستقیم کی طرف ان کی راہنمائی کریں۔

انہیں اسلام کا تعارف کراؤ، اصل اور خالص محمدی اسلام کا تعارف، انہیں بتاؤ کہ جو کچھ اسلام کے نام پر ہورہا ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، انہیں بتاؤ کہ جو لوگ اسلام کے نام پر دھبہ ہیں وہ کفر و استکبار کے چیلے ہیں اور ان کا بھی مسلمانی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

رہبر کی آرزو نوجوان طلبہ کے لئے:
پر نشاط، پر امید، اور روشن ہوں آپ کے پاک دل۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری