اسلامی تعاون تنظیم اجلاس؛

وزرا خارجہ کی جانب سے امریکی سفارتخانہ کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کے اقدام پر شدید مذمت

خبر کا کوڈ: 1302737 خدمت: دنیا
او آئی سی

اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) نے اسرائیل میں امریکی سفارتخانہ کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے فیصلے پر نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جنہوں نے اسرائیل میں امریکی سفارتخانہ کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ او آئی سی ایسے کسی بھی اقدام کی مذمت کرے گی جس سے مقبوضہ بیت المقدس کی مستقبل کے فلسطینی ریاست کے دارالحکومت بننے کی کوششوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔

مذکورہ بیان میں تمام اسلامی ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ اس طرح کی کسی بھی کوششوں سے باز رہیں جن سے اسرائیل کو اپنی ظالمانہ پالیسیاں آگے بڑھانے کی حوصلہ افزائی مل سکے۔

جلسے میں تنظیم کے تمام رکن ممالک سے اس زمرے میں عملی اقدامات کیلئے بھی درخواست کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار اور راکھین صوبے میں انسانی امداد کی فراہمی سے متعلق اقدامات پر تبادلہ خیال  کرنے کی غرض سے یہ غیر معمولی اجلاس ملائیشیا کی حکومت کی درخواست پر بلایا گیا تھا۔

کوالالمپور میں اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کے موقع پر پاکستان کی نمائندگی کرنے والے مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور ملائیشیا کے وزیر خارجہ انیفا امان کے درمیان ملاقات بھی ہوئی۔

دونوں رہنماؤں نے باہمی طور پر متفقہ تاریخوں پر اعلیٰ سطح کے وفود کے تبادلوں پر اتفاق کیا انہوں نے دوطرفہ دلچسپی کے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا اور باہمی تعاون کا جائزہ لیا۔

خیال رہے کہ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر یورپی ممالک بالخصوص فرانس اور جرمنی کی قیادت نے بھی سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے جبکہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی چیف نے امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے پر سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔

اس زمرے میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی ہائی کمشنر فیڈریکا موگرینی نے کہا ہے کہ یورپی یونین فلسطین سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد کی پاسداری کرتے ہوئے اپنا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل نہیں کرے گی۔

برسلز میں یورپی مندوبین کے ایک اجلاس کے دوران صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسز موگرینی نے کہا کہ ہم سب کے لیے زیادہ بہتر اور مناسب یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی یک طرفہ اقدامات سے گریز کرے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری