بھارت کو آبی جارحیت سے باز رکھنے کے لئے پاکستان قومی اسمبلی میں قرارداد منظور

خبر کا کوڈ: 1303175 خدمت: دنیا
سندھ طاس

قومی اسمبلی کی 2 کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس میں بھارت کے متنازع آبی منصوبوں کشن گنگا اور رتلے پر فوری کام رکوانے اور دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع کے حل کے لیے ثالثی عدالت کے قیام کے لیے متفقہ طور پر قرارداد منظور کرلی گئی۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، قرارداد قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے خارجہ امور اور پانی و بجلی نے منظور کی جس میں عالمی بینک سے بھارت کے متنازع آبی منصوبوں کشن گنگا اور رتلے کے قیام کے خلاف پاکستانی اعتراضات کو حل کرنے کے لیے ثالثی عدالت کے قیام کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

سندھ طاس معاہدے کے تحت ورلڈ بینک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے کو مزید ملتوی کیے بغیر معاملے میں اپنا کردار ادا کرے۔

جب تک عالمی بینک ثالثی عدالت کی تشکیل نہیں دیتا، اس وقت تک ضروری ہے کہ وہ بھارت کو ان منصوبوں کی تعمیر روکنے کی ہدایت جاری کرے اور اس مشترکہ قرارداد پر عمل کرے جسے دونوں ممالک کی حکومتوں اور کمیٹی کے اپوزیشن اراکین نے متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ بھارت کے مغربی دریاؤں پر ان دو ڈیموں کی تعمیر سے بھارت اور پاکستان کے بیچ تناؤ کی ایک فضا قائم ہو چکی ہے اور سندھ طاس معاہدے کے موجودگی کے سبب عالمی بینک بھی بطور ثالث اس کا حصہ ہے۔

اس موقع پر بین الاقوامی معاہدوں کے ماہر اور اجلاس کے خصوصی مہمان احمر بلال صوفی نے کمیٹی کے ممبران پر واضح کیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو نظرانداز نہیں کرسکتا، معاہدے کو یک طرفہ طور پر نظرانداز کرنا معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔

احمر بلال صوفی کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا بیان کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو کسی خاطر میں نہیں لائیں گے خطے کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہوگا۔

مودی کے اس بیان کی پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے سخت مذمت کی گئی ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری