ٹرمپ نے ایٹمی معاہدہ منسوخ کردیا تو ایران مناسب جواب دے گا، صالحی

خبر کا کوڈ: 1304108 خدمت: ایران
صالحی

ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ حکومت کی طرف سے جوہری معاہدہ منسوخ کردیا گیا تو تہران کے پاس آپشنز موجود ہیں، تہران فوری طورپر رد عمل دکھائے گا۔

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، علی اکبر صالحی کا سی بی سی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا اگرٹرمپ حکومت نے ایٹمی معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان کیا تو اسلامی جمہوری ایران فوری طور پر رد عمل دکھائے گا۔

صالحی کا کہنا تھا: ٹرمپ نے حلف برداری کے موقع پر ایٹمی معاہدے کے بارے میں کسی قسم کا کوئی اظہار نہیں کیا یہ میرے خیال میں ایک مثبت قدم ہے۔

انہوں نے وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ میں ایران اور شمالی کوریا کے میزائل حملوں کا مقابلہ کرنے کی تاکید والی خبر پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا: امریکہ ایران سے 10 ہزار میل یعنی 16 ہزار کلومیٹر دور ہے، ہم نے 16 ہزار کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے والے میزائل بنانے کی نہ کوشش کی ہے  اور نہ کررہے ہیں، ایران کے خلاف غلط تبلیغات سیاسی بنیادوں پر کی جارہی ہیں۔

باراک اوباما نے صدارت کے آخری ایام میں کہا تھا: ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے نے امریکہ کو پہلے سے زیادہ محفوظ  بنادیا ہے۔

صالحی نے ٹرمپ کی دھمکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امریکی صدر نے ایٹمی معاہدے کوپھاڑنے کی دھمکی دے رکھی ہے اگر ایسا کیا تو اسلامی جمہوری ایران فوری طور پر رد عمل دکھائے گا۔

انہوں نے کہا اسلامی جمہوری ایران نہایت تیزی کے ساتھ جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس سے قبل ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایٹمی معاہدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد ہے اور کسی ملک میں حکومت کی تبدیلی سے اس قرارداد میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی، معاہدے میں تبدیلی  لانے کی کوشش کی گئی تو ایران مناسب جواب دے گا۔

یاد رہے کہ امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران  ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان طے پانے والے ایٹمی معاہدے کو ایک المیہ اور دنیا کا بدترین معاہدہ قرار دیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ وہ اگر اقتدار میں آئے تو اس معاہدے کو پھاڑ کر پھینک دیں گے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری