شہید سید ضیاء الدین کی بارھویں برسی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی/ تصویری رپورٹ

خبر کا کوڈ: 1304475 خدمت: پاکستان
بلتستان

شہید سید ضیاء الدین کی بارھویں برسی کے موقع پر علمائے کرام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1988 سے تا حال ملت تشیع کے ہزاروں افراد دہشت گردی کا شکار ہوچکے اور گلگت بلتستان میں سید ضیاء الدین رضوی جیسے عالم دین کو بھی شہید کردیا گیا.

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق شہید سید ضیاء الدین کی بارھویں برسی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی. جس میں علاقہ بھر سے ہزاروں عقیدتمندوں نے شرکت کی.علمائے کرام نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1988 سے تا حال ملت تشیع کے ہزاروں افراد دہشت گردی کا شکار ہوچکے اور گلگت بلتستان میں سید ضیاء الدین رضوی جیسے عالم دین کو شہید کردیا گیا۔

آج تک شہید کے قتل کے پیچھے اصل محرکات سامنے نہیں لائے گئے۔ گرفتار قاتل شاکر اللہ کو جیل سے فرار کروایا اور بتایا جاتا ہے کہ پچھلے دنوں شیخوپورہ کے نزدیک پولیس مقابلے میں مارا گیا۔

گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا اور شہید ضیاء الدین رضوی کی پوری زندگی گلگت بلتستان میں امن اور اتحاد کا مظہر تھی اس کی شہادت سے علاقے میں قیادت کا جو خلا پیدا ہوا وہ کبھی پر نہیں ہوگا۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قائد گلگت بلتستان سید راحت حسین الحسینی نے کہا کہ شہید ضیاء الدین جیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں لیکن افسوس کہ ہماری قوم نے ان کی زندگی می اس کی قدر و منزلت کو نہ پہچانا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج بھی ہماری قوم بد قسمتی سے شخصیات کے پیچھے چلتے ہیں حق کو معیار نہیں بناتے اور جو قومیں حقیقت سے آنکھیں چراتے ہیں وہ ہرگز کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوتیں بلکہ کامیابی تک پہنچنے کیلئے کردار کے ساتھ ساتھ ایمان اور عملی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ کامیابی کیلئے غیرقانونی راستوں کا انتخاب کرتے ہیں وہ بہت جلد نیست و نابود ہوتے ہیں اور جو انقلاب پرامن اور مبنی بر حق ہوگا وہ پائیدار ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ امام خمینی کی قیادت میں آیرانی قوم نے پرامن جدوجہد سے انقلاب برپا کیا اور خدا کے فضل سے ہر قدم پر کامیابی ان کے قدم چومتی ہے جبکہ طالبان اور القاعدہ نے غیر قانونی راستے کا انتخاب کیا اور اپنے انقلاب کی بنیاد ظلم و بربریت اور قتل و غارت پر رکھی جس کی وجہ سے بہت ہی کم عرصے میں اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں گلگت بلتستان کے محروم عوام کو اپنے حقوق کیلئے پرامن راستہ اختیار کرنے کی تلقین کی۔ موجودہ گلگت بلتستان حکومت کے تعصبانہ رویے پر تنقید کرتے کہا کہ کرپشن اور اقربا پروری  کی مثالیں رقم کی جارہی ہیں اور شیعہ علاقوں میں ترقیاتی سکیموں پر کٹوتی کرکے اپنے تعصب کو آشکار کردیا ہے۔ ملازمتوں میں میرٹ کو پامال کرکے اپنے بندوں کو نوکریاں دی جارہی ہیں اور اگر یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو تمہارا حشر بھی رئیسانی جیسا ہوگا۔

    تازہ ترین خبریں