پاکستان سے بے دخل افغان مہاجرین مشکل میں ہیں، اقوام متحدہ

خبر کا کوڈ: 1305189 خدمت: پاکستان
اقوام متحدہ اجلاس

اقوام متحدہ نے افغان شہریوں کے لیے ساڑھے پانچ سو ملین ڈالر سرمایے کی اپیل جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سے بے دخل افغان مہاجرین کی صورتحال انتہائی ابتر ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ایک تہائی آبادی کو فوری مدد کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ برس کے مقابلے میں امداد کے متقاضی افغان شہریوں کی تعداد میں تیرہ فیصد کا اضافہ ہو گیا ہے اور اب تقریبا9.3 ملین افراد امداد کے منتظر ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہناتھا کہ امداد کے متلاشی افراد کی تعداد میں اضافے کی بنیادی وجہ طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے ساتھ ساتھ ان ہزاروں مہاجرین کی وطن واپسی بھی ہے، جو پاکستان سے بے دخل کیے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہیومینیٹیرین رابطہ کار مارک باؤڈن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ افغان شہریوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات کے انسداد کے لیے بین الاقوامی برادری انسانی بنیادوں پر امداد میں اضافہ کرے۔

اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں قریب نصف ملین افراد داخلی طور پر مہاجرت اختیار کرنے پر مجبور ہیں، جب کہ گزشتہ برس پاکستان اور ایران سے قریب چھ لاکھ افغان مہاجرین کو واپس افغانستان بھیجا گیا جب کہ یہ تمام افراد امداد کے متقاضی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امدادی اداروں کو توقع ہے کہ مزید ایک ملین افغان باشندے رواں برس افغانستان واپس بھیج دیے جائیں گے اور انہیں بھی امداد کی ضرورت ہو گی۔

افغانستان میں پندرہ برس تک اربوں ڈالر کی بیرونی امداد کے باوجود وہاں غربت خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے اور انسانی ترقی کے انڈیکس میں یہ ملک انتہائی پستی کو چھو رہا ہے۔

افغانستان میں سن 1979ء میں سوویت دستوں کی پیشقدمی کے بعد شہریوں کی ایک بڑی تعداد نقل مکانی پر مجبور ہوئی تھی، تاہم سن 2001ء میں طالبان حکومت کے خاتمے کے باوجود وہاں مجموعی طور پر صورتحال میں کوئی زیادہ بہتری دکھائی نہیں دے رہی۔

    تازہ ترین خبریں