پاراچناردھماکہ ۔۔۔

نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل ہوتا تو پارا چنار کا سانحہ نہ ہوتا/ اہلسنّت رہنماؤں کا شہدا کے لواحقین سے تعزیت

خبر کا کوڈ: 1306290 خدمت: پاکستان
پاراچنار

اہلسنّت رہنماؤں نے وزیر داخلہ سے اس مطالبے ساتھ کہ کالعدم فرقہ پرست تنظیموں کے بارے میں نرم گوشہ ختم کریں تاکید کی کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل ہوتا تو پاراچنار کا سانحہ نہ ہوتا۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، جماعت اہلسنّت پاکستان کوئٹہ کے مرکزی رہنما الحاج مفتی محمد حیات القادری، جماعت الصالحین پاکستان کے سربراہ الحاج صاحبزادہ پیر محمد خالد سلطان القادری، تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان بلوچستان کے صدر سردار مولانا محمد وزیرالقادری، علامہ ایم ایم اقبال قادری، علامہ رحیم بخش قادری، علامہ نثار احمد قادری اور قاری نذیر احمد سلطانی نے پارہ چنار میں ہونیوالے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل ہوتا تو پارا چنار کا سانحہ نہ ہوتا۔

اہلسنّت رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ وزیر داخلہ کالعدم فرقہ پرست تنظیموں کے بارے میں نرم گوشہ ختم کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ بے گناہ انسانوں کا خون بہانے والے انسان نہیں بلکہ شیطان ہیں۔

انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ حکومت نام بدل کر کام کرنے والی کالعدم تنظیموں کے خلاف سخت کاروائی کرے۔

اہلسنّت رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ پاراچنار دھماکے میں شہید اور زخمی ہونیوالے بےگناہ شہریوں کے لواحقین سے دلی افسوس اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری