اردن: امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنا خطے کی سلامتی کے لئے خطرناک

خبر کا کوڈ: 1307560 خدمت: اسلامی بیداری
قدس

اردن کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی امریکی کوششوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے خطے کی سلامتی کے لئے نہایت خطرناک قرار دیا ہے۔

تسنیم نیوز کے مطابق، اردن کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی امریکی کوششوں کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے  کہ امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو خطے کے لئے نہایت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

اگر امریکہ اپنا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرتا ہے تو یہ فلسطینیوں، عرب ممالک اور پورے عالم اسلام کی سلامتی کے لئے نہایت خطرناک ثابت ہوگا، امریکی اس اقدام سے پورے خطے کو آگ کی لپیٹ میں لے لے گا۔

اردن کی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کی ذیلی شاخ اسلامی لیبر فرنٹ کا کہنا ہے کہ امریکی سفارت کانے کی منتقلی تسلط پسندانہ، احمقانہ اور غیر سنجیدہ اقدام ہے جو پورے خطے کے امن و سکون کے لئے زہر ثابت ہوگا۔

اردن کی سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کا اصل مقصد مشرقی فلسطین پر قبضہ کرنا ہے جو کہ کسی بھی صورت میں مسلم امہ اور عرب ممالک کو قابل قبول نہیں ہے۔

اردن کی بعث پارٹی کا کہنا ہے کہ بیت المقدس اسلامی اور عربی شہر ہے اس پر کسی دوسری طاقت کا قبضہ کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا، اس پارٹی نے بین الاقوامی سطح پر اسلامی ممالک کی خاموشی پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ اسلامی ممالک کو مجرمانہ خاموشی کے بجائے میدان میں آکر فلسطین کا دفاع کرنا چاہئے۔

اردن کی الحشد پارٹی نے امریکی اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے کیونکہ یہ اقدام اقوام متحدہ کی قانون کے مادہ نمر242 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

دوسری طرف فلسطینوں کا کہنا ہے کہ  امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان عالمی معاہدوں، بین الاقوامی قوانین اور فلسطینیوں کے مسلمہ حقوق کی پامالی ہے۔

واضح رہے کہ  ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

فلسطینی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا مقصد اس شہر کو یہودیوں کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے مترادف ہے، امریکہ اور اسرائیل  اس مقدس شہر سے  فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی  اور اسرائیلی حکومتوں  نے امریکی سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری