نقشہ پاکستان کشمیر کی آزادی سے مکمل ہوگا، قیام کیلیے مودی من صاف کر لے، سید اظہار بخاری

خبر کا کوڈ: 1307729 خدمت: پاکستان

چیرمین امن کمیٹی اور معروف مذہبی سکالر علامہ پیر سید اظہار بخاری نے مودی جارحیت پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیریوں کی لہوسے آزادی کی فصل بہار آنے والی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق چیرمین امن کمیٹی معروف مذہبی سکالر علامہ پیر سید اظہار بخاری نے مودی جارحیت پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی لہوسے آزادی کی فصل بہار آنے والی ہے۔ رات جتنی گہری ہو، صبح اتنی ہی قریب ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مودی جارحیت کا جواب بیانوں نہیں، میزائلوں سے دینا ہوگا۔ مودی من صاف کرے، نواز شریف کی امن پالیسی کو کمزور نہ سمجھے۔ اس سے پہلے کہ ہم ایٹم بم پر لگی گرد غبار صاف کریں، وہ اپنے ذہن سے گرد و غبار صاف کر لے۔

انہوں نے تاکید کی کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے، اس کا ثبوت دینے کیلیے وزیر اعظم نواز شریف تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کی گول میز کانفرنس بلا کر جراتمندانہ فیصلہ کرکے انڈیا بدمعاشی کا منہ توڑ جواب دیں۔ اس پر صرف زبانی بیان اور چشم پوشی سے قوم کے خدشات بڑھتے جارہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے صدر آزاد کشمیر سردار مسعود احمد خان سے ملاقات کے بعد علماء سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اظہار بخاری نے کہاٹرنپ کو مودی انتہا پسندی کیوں نظر نہیں آتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ انتہا پسندی کا ہیڈ ماسٹر، مودی اس کا ہیٹ کواٹر ہے۔ اسلامی نہیں امریکی اسرائیلی، مودی انتہا پسندی کیلیے عالم اسلام جہاد کا علم بلند کرے۔ کشمیر بھارت کا اٹوک انگ نہیں، کشمیری مودی سے تنگ ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کا نقشہ کشمیر کی آزادی سے مکمل ہوگا۔ مودی کا منہ بند کرنے کیلیے ایٹم بم کا منہ کھولنا ہوگا۔ مسئلہ کشمیر نواز شریف کے دور میں حل ہو جانا عظیم معجزہ ہوگا۔ بھارت کے ساتھ ہمارا کشمیر کے سوا کوئی جھگڑ انہیں۔ اگر بھارت پاکستان کے ساتھ اچھے ہمسائے کی طرح رہنا چاہتا ہے، تو وہ خلوص نیت سے ایک قدم بڑھائے، ہم دس قدم بڑھائیں گے۔

اظہار بخاری نے کہا کہ پاکستانی قوم امن و محبت چاہتی ہے۔ نفرت کی دیواریں ہم نے نہیں بنائیں، بلکہ بھارت نے خود ہی کشمیریوں پر ظلم ڈھا کر نفرت کی دیواریں بنا رکھی ہیں۔ بھارت کبھی سنجیدہ نہیں رہا، وہ ہمارے مذاکرات کو ہمیشہ مذاق سمجھتا رہا۔ کشمیریوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے بعد اس نے پاکستان کو صنعتی و معاشی بحران سے دوچار کر نے کی سازش کی۔ خون بہانا، پانی روکنا، یہ بھارتی دہشتگردی کی بدترین مثال ہے۔ جو بھارت کشمیر میں خون کے دریا بہائے، اور پاکستان کے دریاؤں کا پانی چوری کر لے، اس سے امن اور دوستی کی پینگیں بڑھانا، بے وقوفی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت جب پاکستان کو پسندیدہ ملک قرار نہیں دیتا، تو یکطرفہ تالیاں بجانے کی ضرورت کیا پڑی ہے، بھارت دہشتگرد ملک ہے، اس نے کونسا اچھا کام کیا ہے کہ اسے پسندیدہ ملک قرار دے دیا جائے۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے، کہ بھارت کشمیر کشمیریوں کے حوالے کر دے تو فاصلے قربتوں میں بدل جائیں گے۔ کشمیر کی آزادی ہی بھارت کو ٹوٹنے سے بچا سکتی ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری