کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک!

غیرمسلم کے پہلو میں بیٹھ کر مسلم ملک کیخلاف کام کرنے کا عندیہ

خبر کا کوڈ: 1308175 خدمت: اسلامی بیداری
آمریکا و عربستان

اس پر بحث نہیں کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان جاری کشیدگی میں کس کا قصور ہے؟ نہایت افسوس کے ساتھ تحریر کرنا پڑ رہا ہے کہ آج عالم اسلام پر یہ وقت آ چکا ہے کہ غیرمسلم کے پہلو میں بیٹھ کر ایک مسلم ملک، دوسرے مسلم ملک کے خلاف مسلمانوں کے ہی کھلے دشمن کے ساتھ تعاون کی بات کر رہا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، اسلام کے نام نہاد علمبردار ملک سعودی عرب نے ڈونلڈ ٹرمپ کی متعصب امریکی حکومت کیساتھ خطے میں ایران کے خلاف کام کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی انتظامیہ کے ساتھ روابط کے حوالے سے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تمام شعبوں میں مضبوط تعلقات استوار ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے کے بارے میں ہمارا موقف بڑا واضح ہے اور وہ یہ کہ ایران کو اس کی حقیقی روح کے مطابق پاسداری کرنی چاہیے۔

اپنی بات بڑھاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ خطے میں ایران کے خلاف ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔

جہاں ایک جانب دنیا بھر کے مسلمان، ٹرمپ کے اسرائیل کی حمایت میں بیانات کے سبب ناخوش اور خدشات کا شکار ہیں، وہیں سرزمین حجاز نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک امریکیوں کے فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے دارالحکومت الریاض میں اپنے فرانسیسی ہم منصب ڑاں مارک آیرو کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس پر بحث نہیں ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان جاری کشیدگی میں کس کا قصور ہے؟ نہایت افسوس کے ساتھ تحریر کرنا پڑ رہا ہے کہ آج عالم اسلام پر یہ وقت آ چکا ہے کہ غیرمسلم کے پہلو میں بیٹھ کر ایک مسلم ملک، دوسرے مسلم ملک کے خلاف مسلمانوں کے ہی کھلے دشمن کے ساتھ تعاون کی بات کر رہا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری