امریکی صدر کا پہلا انٹرویو ۔۔۔

تشدد پرمکمل یقین رکھتا ہوں، خفیہ ادارے کے حکام بھی میرے ہم خیال ہیں/ امریکی عوام پھر سے سراپا احتجاج

خبر کا کوڈ: 1308647 خدمت: دنیا
ترامپ و ایران

امریکہ کی صدارت سنبھالنے کے بعد امریکی ٹی وی چینل کو پہلے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کھلے عام تشدد کی حمایت کرڈالی جبکہ امریکی عوام نے پھر اپنے صدر کے خلاف احتجاجی ریلیوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آگ کا مقابلہ آگ سے ہی کیا جا سکتا ہے، تشدد سے فائدہ ہوگا تواس طرف جاؤں گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطی میں انتہا پسند لوگوں کے سرقلم کر رہے ہیں تو کیا میں تشدد پریقین نہیں رکھ سکتا؟ میرا کام امریکہ کو محفوظ بنانا ہے اور اس کے لئے میں کسی بھی حد تک جا سکتا ہوں۔

ٹرمپ نے کہا کہ خفیہ ادارے کے حکام کا بھی یہی کہنا ہے کہ تشدد کا فائدہ ہوتا ہے، میں اپنے لوگوں سے بات کروں گا اور اگر وہ سمجھتے ہیں کے تشدد کرنے سے کوئی فائدہ ہو سکتا ہے تو میں ضرور اس سمت میں جاؤں گا۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سمیت 7 مسلم ممالک عراق، شام، یمن، سوڈان، لیبیا اور صومالیہ کو ویزا دینے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیے ہیں اور اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ اور میکسیکو کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دیں گے۔

علاوہ ازیں انہوں نےغیرقانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کی منظوری بھی دے دی ہے۔

ٹرمپ کے فیصلوں کے خلاف عوام اشتعال میں آگئے۔ عوام نے سراپا احتجاج ہو کر وائٹ ہاؤس کی جانب مارچ کیا اور ان کے فصیلوں کو یکسرمسترد کر دیا۔

مظاہرین نے صدر ٹرمپ سے مذکورہ فیصلے واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ہم ٹرمپ کی پالیسوں اور ان کے فیصلوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری