تحریر: فرحت حسین مہدوی

پاراچنار سبزی منڈی دھماکہ؛ اہم سوالات اور اہم نکتے [حقائق]

خبر کا کوڈ: 1309085 خدمت: مقالات
پاراچنار

دھماکہ ہوا، 25 گھر مکمل طور پر اور دسوں گھر جزوی طور پر اجڑ گئے، کچھ تو معصوم بچے تھے لیکن جو نوجوان تھے وہ گھروں کی معیشت کے ذمہ دار تھے، وہ چلے گئے اور پاراچنار کے سینے پر گذشتہ 2500 زخموں میں مزید 25 ایسے زخموں کا اضافہ ہوا جن سے مدتوں تک خون رستا رہے گا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کو ارسال کئے گئے مقالے میں پاکستانی کالم نگار فرحت حسین مہدوی نے تاکید کی ہے کہ حکام دہشتگردانہ کاروائیوں کے فورا بعد مذمتی بیانات، دعاؤں اور تعزیتوں کے بجائے قوم کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے عملی اقدامات کریں۔ پاکستانی کالم نگار کے مقالے کا متن من و عن پیش خدمت ہے۔

دھماکہ ہوا، 25 گھر مکمل طور پر اور دسوں گھر جزوی طور پر اجڑ گئے، کچھ تو معصوم بچے تھے لیکن جو نوجوان تھے وہ گھروں کی معیشت کے ذمہ دار تھے، وہ چلے گئے اور پاراچنار کے سینے پر گذشتہ 2500 زخموں میں مزید 25 ایسے زخموں کا اضافہ ہوا جن سے مدتوں تک خون رستا رہے گا اور گھرانے جو سرپرست کھو گئے، دربدر کی ٹھوکریں کھائیں گے، ضمیر والے نادار جلتے رہیں گے اور بےضمیر مالدار دیکھ کر نظریں پھیرتے رہیں گے، یہ ہماری قسمت میں اس لئے لکھا ہے کہ ہم ابھی تک انتظامی صلاحیتوں سے عاری ہیں، ہمارے اندر غفلت کا عنصر غالب ہے، ہم اپنے سر پر سے گذرنے والے مصائب کو بھولنے کی کوشش کرنے والوں میں سے ہیں، جس طرح کہ بہت سوں کو جلدی ہوتی ہے کہ محرم اور صفر کے مہینے گذر جائیں تا کہ وہ موسیقی اور ساز و آواز کے کلپ سنیں، یا سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز سے لطف اندوز ہوں، ہم میں سے بہت سوں کی تو آرزو ہوتی ہے کہ کاش محرم اور صفر کے 60 دن بس روز عاشور کے بعد ختم ہوجاتے، یہی صورت ہماری شہداء اور خونی حادثات کے حوالے سے بھی ہوتی ہے، بس جلدی جان چھڑانے کے چکر میں ہوتے ہیں؛ ہم سب اپنے آپ کو حق دیتے ہیں کہ کوئی قیادت قبول کرنے کے بجائے خود ہی قائد بنے رہیں، مجتہد کے بجائے فتوے دیتے رہیں، حدیثوں سے خود اپنے دل کا مطلب لیتے رہیں۔ بہرحال ہمیں جلدی ہوتی ہے کہ شہیدوں کی یاد سے جان چھڑائیں، لیکن یہ بہت خطرناک رجحان ہے اور جو اپنے شہیدوں کو بھلاتے ہیں وہ اپنے مستقبل کی تعمیر سے عاجز ہوتے ہیں، جو شہیدوں کو بھول جاتے ہیں وہ اپنے مقدر کا تعین کرنے میں بےبس ہوجاتے ہیں، اور اپنا تشخص کھو بیٹھتے ہیں اور جب تشخص چلا جاتا ہے تو چھوٹے چھوٹے مسائل پر باہمی جھگڑوں کی باری آتی ہے اور دشمن جری ہوجاتا ہے؛ خدا را شہیدوں کو فوری طور پر بھولنے کی اس عادت کو بدلنے میں کردار ادا کریں اے صاحبان علم و قلم!

نکتے:

دھماکے کے دن مرکزی امام بارگاہ پاراچنار میں کچھ بھائی لوگ حاضر تھے اور انھوں نے اپنا آنکھوں دیکھا حال صرف چند جملوں میں بیان کیا ہے جو ایمانداری سے نقل کیا جاتا ہے، اور اگر بھائی لوگوں کے پاس معلومات ہیں تو وہ بھی اگر چاہیں کمنٹ میں تحریر فرمائیں۔ اس بھائی نے بتایا:

"ہم امام بارگاہ میں تھے اور شہیدوں کی میتیں رکھی ہوئی تھیں، فوج اور ایف سی کے افسران بھی آئے، سول انتظامیہ کے بڑے چھوٹے بھی آگئے، حجت الاسلام والمسلمین آقا فدا مظاہری نے مختصر سی تقریر کی اور اس کے بعد سیکریٹری انجمن نے خطاب کیا اور اس کے بعد سب نے اپنے اپنے عزیزوں کی لاشیں اٹھائیں اور چل دیئے؛ حالانکہ شہیدوں کے جنازے مشترکہ طور پر ایک خاص مقام پر رکھ کر دھرنے اور احتجاج کا اہتمام بھی کیا جاسکتا تھا کیونکہ ماحول ایسے احتجاج کے لئے بالکل سازگار تھا لیکن یہ موقع ضائع ہوا۔

تقاریر کے دوران حکومت سے کوئی خاص اسٹریٹجک مطالبہ نہیں کیا گیا اور یہ مطالبہ بھی نہیں ہوا کہ عوام سے ہتھیار لینے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ البتہ معاوضے کی بات ہوئی اور سیکریٹری صاحب نے کہا کہ دوسرے علاقوں کے شہدا کو 10 لاکھ کا معاوضہ دیا جاتا ہے یہاں بھی اتنا ہی معاوضہ دیا جائے۔

کوئی خاص اور فیصلہ کن شکایت بھی نہیں ہوئی۔

پاراچنار کے بازار میں صبح کے وقت ایف سی والے سراغرساں کتوں کو لے کر گھومتے ہیں جنہیں بظاہر بارود اور دھماکہ خیز مواد کا سراغ لگانے کی تربیت دی گئی ہے۔ اس دن بھی ایف سی والے آئے اور سبزی منڈے  میں بھی گھومے، ان کے ساتھ سراغرساں کتے بھی تھے اور انھوں نے دھماکے کے مقام پر تمام تر کونوں کھدروں کو سونگھا اور جن کریٹوں میں دھماکہ ہوا وہاں بھی آئے اور انہیں بھی سونگھا حتی اس کریٹ کو جس میں بم رکھا ہوا تھا، کتوں نے کریٹوں کو سونگھا لیکن بھونکے نہیں اور کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا!!! اس کا کیا مطلب ہے؟

کیا حملہ خودکش تھا!!!

سرکار پاکستان کا وطیرہ رہا ہے کہ وہ ہر دھماکے کو خودکش دھماکہ قرار دیتی ہے کیونکہ اس کا اپنا اعلان کردہ قاعدہ یہ ہے کہ خودکش دھماکے پر قابو پانا سرکار کے اختیار سے خارج ہے یا یوں کہئے کہ خودکش حملہ چونکہ پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے لہذا وہ ہو کر رہتا ہے [<< خدا ہی بہتر جانتا ہے] لیکن سبزی منڈی دھماکے میں جس شخص کو سرکاری ایجنسیوں نے خودکش حملہ آور کے طور پر متعارف کرایا اس کا جسم یا اس کا سر کہیں نہیں ملا؟ گو کہ سرکاری دعوی یہ تھا کہ انسانی اعضاء کو ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے اسلام آباد منتقل کیا گیا ہے لیکن ایسے کوئی اعضاء تھے ہی نہیں تو اسلام آباد کیسے منتقل کئے گئے؟

پس یقینی بات یہ ہے کہ یہاں کسی حملہ آور کے اعضاء بھی نہیں ملے ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہاں پہلے سے ہی ریاستی دہشت گردوں نے بم رکھا یا رکھوایا تھا؟ صحیح معلومات کس کے پاس ہیں؟

دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان [ایک اہم سوال اور]

ابتداء میں لشکر جھنگوی کے دہشت گردوں نے اور بعد میں تحریک طالبان پاکستان [دونوں کالعدم] نے ذمہ داری قبول کی، ٹی ٹی پی نے ایک دہشت گرد کی تصویر بھی شائع کر دی کہ اس نے جاکر کفر کے ایک بڑے مرکز [سبزی منڈی] کو نشانہ بنایا ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔

اب ثابت ہوچکا ہے کہ دھماکہ خودکش نہیں تھا، ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان بھی دو دہشت گرد ٹولوں نے قبول کیا تو یہ شک و تردد در حقیقت اس ادارے سے تعلق رکھتا ہے جس نے یہ دو اعلان کرائے ہیں۔ یعنی یہ کہ یہ سب جھوٹ ہے اور اگر حملہ خودکش ہوتا تو لشکر جھنگوی ہرگز ذمہ داری قبول نہ کرتا ابتدا میں یا اس کو خودکش قرار دیتا۔۔۔

دوسرا اعلان اس لئے تھا کہ حکومت نے ایک قاعدہ متعارف کرایا ہے کہ "خودکش حملے حکومت کے کنٹرول میں نہیں آتے" اور یوں حکومت اس حملے میں اپنی کوتاہی کو چھپانا چاہتی تھی لیکن تحریک طالبان نے اعلان کیا تو باتیں دو ہوئیں اور جھوٹ کا احتمال قوت پکڑ گیا۔

دھماکے کے مقام پر بھی ایسے بہت سے لوگ موجود تھے جو الحمد للہ صحیح و سالم ہیں اور انھوں نے شہیدوں کو اٹھایا اور زخمیوں کو اسپتال پہنچایا اور ان سب نے بھی خودکش کے منڈی میں داخلے کی تردید کی ہے۔ چنانچہ یہ حملہ خودکش نہیں تھا، اور اعلان درحقیقت حکومت نے کرایا تھا۔

سرکار کے اقدامات

واضح رہے کہ لیویز اور ایف سی والے وغیرہ دھماکے کے بعد 20 منٹ تک غائب تھے اور اس کے بعد اچانک نمودار ہوئے، علاقے کو گھیرے میں لیا، [ویسے ہی] اور پھر حالات پر ان ہی کا کنٹرول تھا۔

بہر حال دھماکہ ہوا اور جو ہوا سب نے دیکھا اور بہت سوں نے اپنے پورے وجود کے ساتھ اس کو محسوس کیا لیکن حاضرین سبزی منڈی کا کہنا ہے کہ یہاں کوئی خودکش وغیرہ نہیں آیا یہ ایک سرکاری شوشہ تھا تاکہ بظاہر رائے عامہ کو کریٹوں میں رکھے ہوئے بم کے مسئلے سے منحرف کیا جاسکے!

اب سوال یہ ہے کہ جن کتوں کو سراغرساں کتوں کے طور پر شہر میں پھرایا جاتا ہے کیا وہ واقعی سراغرساں کتے ہیں یا یہ بھی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ مطمئن ہوں کہ انتظامیہ اور مسلح افواج ان کے تحفظ میں مصروف ہیں؟

کیا ایسا تو نہیں تھا کہ کتوں کو پہلے سے اس لمحے کے لئے تیار کیا گیا تھا یا پھر انہیں بازار میں لانے سے پہلے انہیں کچھ کھلایا پلایا گیا تھا تاکہ وہ اتنی بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد کا سراغ ہی نہ لگا سکیں!!!

یہ بھی سوال ہے بہرحال کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ سراغرساں کتوں کے ذریعے تلاشی لینے کے بعد ایف سی والوں یا ایف سی کی حفاظت میں آنے والے کسی شخص نے خود ہی کریٹوں میں دھماکہ خیز مواد بھر دیا ہو؟ معاف کرنا، سوال ہی تو ہے!

ایک نکتہ یہ کہ جنرل دعاگو کے ساتھ دو ٹی وی چینلز کے نمائندے بھی آئے تھے جنہیں ایک دو کلومیٹر دور کہیں روک لیا گیا اور جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ یہاں کیا کررہے ہیں جنرل صاحب کی مجلس دعا میں کیوں شرکت نہیں کررہے تو انھوں نے کہا کہ ہمیں یہیں روک لیا گیا ہے کہ کہیں ہم کسی خاص بات کا نوٹس نہ لے سکیں!!!

ویسے بڑی عجیب بات ہے کہ ہم بیماری کی حالت میں ڈاکٹر کے پاس جائیں تو وہ ہمیں کوئی تعویذ دے یا دعا کرنا شروع کرے، یا کسی مسئلے کے لئے کسی حاکم سے رجوع کریں تو وہ ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا شروع کرے، یا جس جنرل کے پاس ہمارے علاقے کی سیکورٹی کے تمام تر انتظامات ہیں وہ آگر تعزیتیں دے اور دعائیں دے اور مسئلے کے حل کی طرف توجہ نہ دے، اسلحہ لینے والے فیصلے کو کالعدم قرار نہ دے، انتظامات کو علاقے کے عوام کے سپرد نہ کرے، طوری ملیشیا کو علاقے میں واپس لانے کے عزم کا اظہار نہ کرے، دہشت گردوں کو ٹھکانے لگانے کے لئے کسی عملی اقدام کا اعلان نہ کرے، جبکہ جنرل صاحب جو ہمارے لئے دعائیں اور تعزیتیں لے کر آیا تھا، نے اس سے ایک دن قبل سعودی سفیر سے کہا تھا کہ سعودیوں کی حفاظت پاکستان کی حفاظت کے برابر ہے اور ہمارے درمیان تعاون جاری ہے اور جاری رہے گا۔ گویا پاکستان سعودیوں کے لئے بنا تھا اور ہمارے محافظ ہمارے لئے صرف دعائیں کریں گے۔ ہم پرانے سپہ سالار جنرل (ر) سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ سعودی اتحاد میں شمولیت کے بعد یمنی عوام کو مارتے وقت اور غلطی سے کہیں مکہ و مدینہ جاتے ہوئے ہمارے لئے بھی دعا کیا کریں!

ایک اور تلخ حقیقت؛ [گرفتاریاں]

سرکاری اور عسکری ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ سات یا آٹھ نام نہاد ملزمان کو گرفتار بھی کیا گیا ہے اور انہیں خفیہ مقام پر پہنچایا گیا ہے اور وہ اس وقت زیر تفتیش ہیں اور ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے اداروں میں تفتیش کا مفہوم کیا ہے۔ تفتیش یعنی غیر انسانی تشدد، ریمانڈ یعنی شکنجوں میں کسنا، تاکہ زیر تفتیش افراد ان گناہوں کا بھی اعتراف کریں جو ان کے باپ دادا کے زمانے میں کسی نے انجام دیئے ہوں۔ تفتیش اور ریمانڈ یعنی قرون وسطائی یورپی طرز سلوک۔ [اللہ کی پناہ]

اب یہ بےگناہ افراد جن کا سرمایہ اور ان کے دکانچے یا ٹھپریاں دھماکے میں تباہ ہوئیں ان ہی کو سرکار نے پکڑ لیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کیا یعنی کمیشن ایجنٹوں اور اڑھتیوں اور منشیوں کو پکڑا ہے، جبکہ ابتدا میں جب ہم نے ہمارے زخمیوں کے لئے صحت کی دعا کرنے کے لئے آئے ہوئے جنرل باجوہ صاحب کی تشریف آوری کی خبر کے ساتھ 7 مشتبہ افراد (؟) کی گرفتاری کی خبر سنی تو سمجھے کہ کیا بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہوگا! ہماری فورسز نے تورا بورا کی پہاڑیوں یا پھر کہیں جنگل یا صحرا میں کمانڈو آپریشن کرکے اس دفعہ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہوگا، ہم تو بڑے خوش ہوئے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ جن کو نشانہ بنایا گیا تھا ان ہی کو پکڑ لیا گیا ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ بھی ایک شوشہ تھا تاکہ عوام احتجاج کی ضرورت محسوس نہ کریں۔

دوسری تلخ حقیقت، انصار الحسین پر قدغن لگانا

دھماکے کے دوسرے دن پاکستانی وزارت داخلہ ـ جس کا سربراہ [چوھدری نثار] دہشت گردوں کے سرغنوں کی میزبانی کرتے نہیں تھکتا اور ان کی تنزیہ اور تطہیر میں مصروف ہے اور ساتھ ساتھ یہ دہشت گرد سرغنے پورے ملک میں بڑی آسانی سے دہشت گردی میں مصروف ہیں ـ نے علاقے میں فلاحی اور تعلیمی اور تربیتی کام کرنے والے ادارے انصار الحسین کو غیر معروف اور شدت پسند کہہ کر کالعدم قرار دیا، اور پھر بھی ہم پر ہی وار کیا جو قتل ہوا وہی مجرم قرار دیا گیا۔

یعنی ہماری یہ بات سو فیصد صحیح ہے کہ حکمران ہی ہمارے قاتل ہیں اور وہ درحقیقت اپنا مشن پورا کررہے ہیں، پاراچنار میں ان کا نیا مشن دھماکے سے شروع ہوا، بےگناہوں کو گرفتار کرکے مشتبہ افراد کے طور پر ریمانڈ میں لے جایا گیا، انصار الحسین کا دفتر بند کیا گیا، ہمارے مشران کو پشاور میں اعلیٰ اہلکاروں سے ملنے سے روک لیا گیا، اور اسلحہ جمع کروانے کے موضوع پر بات نہیں کرنے دی گئی۔ اب آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا؟ کیا ہم جاگ کر کچھ کرتے ہیں یا ہمارے ہر مسئلے میں حکومت کو شریک کیا جائے گا؟ یاد رکھو جب تک حکومت ہمارے مسائل اور ہمارے فیصلوں میں شریک ہوگی ہم علاقے اور عوام کے مفاد میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکیں گے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہہمارے اپنے لوگ کیا کرتے ہیں، شہدا اور ان کے خاندانوں اور پاراچنار کے مستقبل کے بارے میں کن کن فیصلوں سے اتفاق کرتے ہیں؟ یہ سال بہت مبہم ہے، اس سال کا آغاز اس دھماکے سے نہیں ہوا بلکہ پاکستان کے دوسرے حصوں میں بھی کئی شیعہ مسلمان قتل کئے گئے، ہاں مگر پاراچنار میں یہ ابتدا تھی، تو اب دیکھنا ہے کہ ہمارے زعماء کیا کیا تدابیر اور کیا کیا انتظامات و اقدامات کرتے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری