ایرانی رہنما کی پریس کانفرنس/ تصویری رپورٹ

پاک ایران گیس پائپ لائن دونوں حکومتوں کی ترجیحات میں شامل ہے، بروجردی

خبر کا کوڈ: 1309693 خدمت: ایران
بروجردی

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایران پاکستان کے ساتھ اپنی سرحد تک تقریباً ستر کلومیٹر گیس پائپ لائن بچھا چکا ہے، اور امید کی جاتی ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھی مناسب اقدام ہوگا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق مجلس شوریٰ اسلامی (ایرانی پارلیمنٹ) کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ علاء الدین بروجردی نے اسلام آباد میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مابین گہرے تاریخی روابط ہیں، کٹھن وقت میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے، ایرانی صدر حسن روحانی کے دورہ پاکستان اور پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے دورہ ایران کے بعد اب ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کیا جائے اور نئی نئی راہیں تلاش کی جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاک ایران تجارتی حجم کو 5 بلین ڈالر تک لیجانا چاہتے ہیں۔ پاک ایران گیس پائپ لائن کی تکمیل دونوں حکومتوں کی ترجیحات میں شامل ہے، ایران پاکستان کے ساتھ اپنی سرحد تک تقریباً ستر کلومیٹر گیس پائپ لائن بچھا چکا ہے، اور امید کی جاتی ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھی مناسب اقدام ہوگا، یہ پائپ لائن پاکستان کے موجودہ اقتصادی حالات میں تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ دو اہم پورٹس چابہار اور گوادر کو پاک ایران کے مابین سسٹم پورٹس قرار دیا جا چکا ہے، دونوں ممالک کے مابین اس سلسلے میں معاہدے موجود ہیں۔ اس سلسلے میں تعاون کو مزید آگے بڑھایا جائے گا، اور ان دونوں پورٹس کو سنٹرل ایشیا اور چین کے ساتھ ملانے کے لئے ہمارے مذاکرات ہوئے ہیں۔ جائنٹ سیکورٹی کمیٹی اور بارڈر کمیٹی کو فوری طور پر مکمل کرنے کے لئے بھی بات چیت ہوئی۔ چونکہ بارڈر پر ڈرگ ٹریفکنگ کے ساتھ ساتھ شرپسند عناصر کی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تہران میں مسئلہ فلسطین کے موضوع پر عالمی فلسطین کانفرنس کا انعقاد کریگا، اس کانفرنس میں شرکت کے لئے پاکستان حکام کو بھی دعوت دی گئی ہے۔ چونکہ فلسطین کے بارے میں پاکستان اور ایران ایک جیسا موقف رکھتے ہیں، اور ہمیشہ انہوں نے مظلوم فلسطینی عوام کی حمایت کی ہے۔

ایرانی رہنما کا کہنا تھا کہ شام، عراق اور یمن میں پیدا ہونے والی صورتحال پر بھی بات کی گئی ہے، اور دونوں ممالک کا اس پر بات پر اتفاق ہوا ہے کہ مسئلے کو فوجی حل کی بجائے مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ علاقائی ممالک جن میں چین، روس اور پاکستان شامل ہیں، انہیں آپس میں باہمی تعاون کو بڑھانا چاہیے، اس سے نہ صرف علاقائی امن کا قیام ممکن ہے بلکہ اقتصادی طور بھی ترقی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ ہم دونوں ممالک افغانستان میں امن اور خوشحالی کے لئے بھی فوری اقدامات کرینگے۔

بروجردی نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ شامی بحران کا حل وہاں کے عوام آپس میں مل بیٹھ کر حل کریں، اسی موقف کا اظہار آستانہ مذاکرات میں بھی کیا گیا۔ آج کی دنیا میں کسی پر کوئی حل مسلط نہیں کیا جا سکتا، جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے تو ہمارا ملک سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار رہا ہے، ہم نے سترہ ہزار جانیں دیں، جن میں ہمارے ملک کی اعلیٰ پائے کی شخصیات بھی شامل تھیں، اسی وجہ سے ہمارا عقیدہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف شدت کے ساتھ لڑنا چاہیے، ہم علاقے میں اسی پالیسی پر کاربند ہیں، اسی طرح افغانستان میں بھی دہشتگردوں کو کامیابی حاصل نہیں ہو سکے گی، وہاں کے عوام کی امنگوں کے مطابق افغان مسئلے کا حل تلاش کیا جائے۔

انہوں نے یمن جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی سربراہی میں تشکیل پانے والا اتحاد یمنی مسلمانوں کا خون بہانے کے لئے بنایا گیا ہے، یمن کی صورتحال پر دنیا بھر میں آواز اٹھ رہی ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری