تحریر: سید عدنان قمر جعفری

لیکن ۔۔۔ چیف جسٹس کو عدلیہ پر فخر ہے !!!

خبر کا کوڈ: 1310407 خدمت: مقالات
ثاقب اکبر

ایک عام پاکستانی کو اس بات سے کچھ لینا دینا نہیں کہ دنیا کی دیگر ممالک میں عدلیہ کیا کر رہی ہیں لہذا ہم 2015 کی ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کی اس رپورٹ کا حوالہ نہیں دیں گے جس میں 102 ممالک کی فہرست میں انصاف کی دستیابی کے حوالے سے درجہ بندی میں پاکستان کا نمبر 98 ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، کراچی میں وکلاء برادری کی جانب سے اپنے اعزاز میں دئیے گئے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی عدلیہ دنیا کی کسی بھی عدلیہ سے کم نہیں اور ہمیں اپنی عدلیہ پر فخر ہے۔

ایک عام پاکستانی کو اس بات سے کچھ لینا دینا نہیں کہ دنیا کی دیگر ممالک میں عدلیہ کیا کر رہی ہیں لہٰذا ہم 2015 کی ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کی اس رپورٹ کا حوالہ نہیں دیں گے جس میں 102 ممالک کی فہرست میں انصاف کی دستیابی کے حوالے سے درجہ بندی میں پاکستان کا نمبر 98 ہے۔ 

تاہم ایک عام شہری کے ذہن میں بجا طور پر یہ سوال تو ضرور اٹھتا ہے کہ ہمارے چیف جسٹس عدلیہ کی کس بات پر، کس عمل پر فخر ہے؟؟

سمجھ سے بالاتر ہے کہ عام پاکستانی کے زخموں پر نمک پاشی کرنے والے چیف جسٹس کے اس بیان پر کیا رد عمل ظاہر کیا جائے۔

بلاشبہ، ان کا یہ دعویٰ ان پاکستانیوں کو خون کے آنسو رلا دینے کے لئے کافی ہے جو انصاف کی تلاش میں در در بھٹکنے کے بعد مایوس ہو کر، رو دھو کر، تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں۔

آج ایک شریف آدمی عدالت اور وکلاء کے نام سے اس طرح ڈرتا ہے جیسے اصولا کسی مجرم کو ڈرنا چاہیئے تھا لیکن، چیف جسٹس کو عدلیہ پر فخر ہے۔

پاکستان کا ایک غریب آدمی عدالت سے انصاف حاصل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا لیکن، چیف جسٹس کو عدلیہ پر فخر ہے۔

وطن عزیز میں ہزاروں نہیں لاکھوں مقدمے التوا کا شکار ہو کر الٹا مدعی کا ہی معاشی قتل کر رہے ہیں لیکن، چیف جسٹس کو عدلیہ پر فخر ہے۔

ملک میں عدالتوں میں خوار ہونے کے ڈر سے ظلم کا شکار ہونے والے لوگ عدالتوں کے باہر ہی مجرموں سے مفاہمت کرنے پر مجبور ہیں لیکن، چیف جسٹس کو عدلیہ پر فخر ہے۔

اراضی کے مقدمات کا فیصلہ عام طور مقدمہ دائر کرنے والے شخص کا پوتا موصول کرتا ہے جبکہ مدعی تو انصاف کی آس میں کب کا مر کھپ چکا ہوتا ہے لیکن، چیف جسٹس کو عدلیہ پر فخر ہے۔

قتل کے جھوٹے الزام میں قید 19 سال بعد لوگ عدالت سے باعزت بری ہونے کا پروانہ ملنے سے پہلے، جیل میں ہی زندگی کی قید سے آزادی کا پروانہ پا لیتے ہیں لیکن، چیف جسٹس کو عدلیہ پر فخر ہے۔

خودکش جیکٹوں اور اسلحے سمیت رنگے ہاتھوں گرفتار ہونے والے دہشتگردوں کا مزید تحقیقات کے لئے نامعلوم مقام پر منتقل ہو جانے کے بعد سراغ ہی نامعلوم ہو جاتا ہے لیکن، چیف جسٹس کو عدلیہ پر فخر ہے۔

چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ انصاف نہ ملنے پر کسی غریب پاکستانی نے عدالت کے باہر خودسوزی کر لی لیکن، چیف جسٹس کو عدلیہ پر فخر ہے۔

سپریم کورٹ کے بورڈ پر ایک کپڑا ٹانگنے پر از خود نوٹس لینے والی ہماری معزز عدالت لاکھوں شیعہ مسلمانوں کے بےگناہ قتل پر خاموش رہتی ہے لیکن، چیف جسٹس کو عدلیہ پر فخر ہے۔

کراچی، کوئٹہ اور پاراچنار سمیت ملک بھر میں پیدا ہونے والے، پاکستان کا شناختی کارڈ رکھنے والے، پاکستان کو ٹیکس دینے والے محب الوطن پاکستانیوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹنے والے اعلانیہ دہشتگردوں کے خلاف کوئی عدالتی کاروائی نہیں، ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں لیکن، چیف جسٹس کو عدلیہ پر فخر ہے۔

  عام عوام نہیں، ملک کے اعلیٰ حکام، آئے روز اپنے بیانات میں اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ پاکستان میں انصاف ناپید ہو چکا ہے لیکن، چیف جسٹس کو عدلیہ پر فخر ہے۔

انصاف کی عدم دستیابی کی جس آگ میں پاکستانی عوام سالوں سے جل رہی ہے، اگر اس پر آپ کو فخر ہے تو عزت مآب چیف جسٹس صاحب، ہم سب کو آپ پر فخر ہے۔

    تازہ ترین خبریں