کیا فلسطینی صدر کا دورہ پاکستان اسرائیلی صدر کے بھارتی دورے کا جواب ہوسکتا ہے؟/ تصاویر

خبر کا کوڈ: 1313810 خدمت: پاکستان
محمود عباس

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے فلسطینی صدر کو خوش آمدید کہنا بھارت کو اسرائیل کے ساتھ نزدیک روابط رکھنے کے پیش نظر اتحاد بین المسلمین کا واضح اور بہترین جواب ہوسکتا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، فلسطینی صدر کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں استقبالیہ تقریب رکھی گئی، جس میں وزیراعظم نوازشریف نےفلسطینی صدر کا پرتباک استقبال کیا۔ فلسطینی صدر محمود عباس کو وزیراعظم ہاؤس میں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔

اس موقع پر فلسطینی صدر محمود عباس نے خوشگوار موڈ میں کہا کہ پاکستان کی مہمان نوازی دنیا بھر میں مشہور ہے۔

انہوں نے عالمی سطح پر فلسطین کی حمایت کرنے اور اسلام آباد میں فلسطینی سفارتخانہ تعمیر کرنے پر نواز شریف کا شکریہ ادا  کیا۔

فلسطینی صدر کا کہنا تھا کہ فلسطین کا مسئلہ حل کیے بغیر خطے میں امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطین مقبوضہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ہم فلسطین سے اسرائیلی آبادی کے انخلاء کی حمایت کرتے ہیں اور پاکستان فلسطین کی حمایت ہمیشہ جا ری رکھے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز فلسطینی صدر محمود عباس تین روزہ دورے پر 5 وزراء اور اعلیٰ سطح کے اہم وفد کے ساتھ پاکستان پہنچے تھے۔

صدر مملکت ممنون حسین نے نور خان ائیر بیس پر ان کا استقبال کیا تھا۔

واضح رہےکہ فلسطینی صدر کے پاکستان دورے کا ایک اہم مقصد اسلام آباد میں فلسطینی سفارت خانےکا افتتاح بھی ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیلی صدر ریوین ریولین نے گزشتہ سال نومبر میں بھارت کا دورہ کیا تھا جس دوران دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

خطے کے سیاسی اور سیکورٹی مسائل پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کی بڑھتی ہوئی دوستی خطے کی سلامتی کیلئے ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آسکتی ہے جبکہ بعض ماہرین کا فلسطینی صدر کے پاکستان دورے سے متعلق خیال ہے کہ یہ دورہ ہندوستان کیلئے ایک واضح پیغام ہوسکتا ہے۔

    تازہ ترین خبریں