پاکستان اور نائیجیریا کے درمیان بڑھتی نزدیکیاں/ آرمی جرنیل کے بعد میڈیا ٹیم کا پاکستان دورہ

خبر کا کوڈ: 1314153 خدمت: اسلامی بیداری
نائیجیرین میڈیا ٹیم

نائیجیریا کا چار رکنی میڈیا وفد اپنے آرمی جرنیل کے پاکستان دورے کے تقریبا دو ماہ بعد اسلام آباد پہنچا ہے۔ یہ ایسے موقع پر ہے کہ پاکستان کے شیعہ مسلمانوں نے نائیجیرین جرنیل کے اسلام آباد دورے پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، نائیجیریا کے چار رکنی میڈیا وفد نے گذشتہ روز وزارت خارجہ میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور خارجہ سید طارق فاطمی کے ساتھ ملاقات کی۔

اس موقع پر سید طارق فاطمی نے افریقی ممالک بالخصوص نائیجیریا کے ساتھ تعلقات میں اضافے کیلئے خواہش کا اظہار کرت ہوئے نوآبادیاتی نظام سے آزادی کیلئے ان کی جدوجہد میں افریقی ممالک کیلئے پاکستان کے اصولی موقف اور حمایت کا بھی اظہار کیا۔

انہوں نے وفد کو معیشت کے استحکام اور توانائی کے بحران کے حل کیلئے حکومت کی پالیسیوں سے آگاہ کیا اور پرامن ہمسائیگی کیلئے حکومت کی خارجہ پالیسی کے مقاصد کی جانب توجہ دلائی۔ انہوں نے نائیجیرین وفد کو جموں و کشمیر کے تنازعہ کی تاریخ اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم سے بھی آگاہ کیا۔

معاون خصوصی نے نائیجیرین وفد کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے پاکستان کے عزم اور آپریشن ضرب عضب کے بارے میں بھی وضاحت دی۔

یاد رہے کہ 2 ماہ قبل نائیجریا کے جرنل بوگنکل نے پاکستان کے ڈی جی ڈیفنس انڈسٹری سے ملاقات کی، اس موقع پر انہیں سرکاری پروٹوکول کے ساتھ ساتھ اعزازی شیلڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔

یاد رہے کہ نائیجرین فوج کے جرنیل نے گزشتہ سال نومبر کے مہینے میں پاکستان کا دورہ کیا تھا جس پر اس ملک کے شیعہ مسلمانوں نے خدشات کا اظہار کیا تھا۔

ماہرین کے مطابق، سال 2015ء میں نائیجریا میں شیعہ مسلمانوں کا قتل عام سعودی ایماء پر کیا گیا تھا جبکہ اس ملک کے جرنیل کا دورہ بھی آل سعود کا اپنے اتحادیوں کے درمیان تعلقات کو تقویت بخشنے کی ایک کڑی ہو سکتی ہے۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق،نائیجیرین جرنیل نے پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا دورہ کر کے اسلحہ خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی وزارت خارجہ کو نائیجریا کی متعصب حکومت اور سعودی نواز فوج کے ساتھ تعاون کرنے سے پہلے اپنے ملک کے مستقبل پر نظر رکھنی چاہئے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ نائیجیرین فوج نے اپنے جرنیل کے پاکستان دورے کے چند روز بعد کونو سے زائریا تک اربعین مارچ میں حصہ لینے والے عزاداروں پر آنسو گیس اور فائرنگ کی تھی۔

اسلامی انسانی حقوق کی تنظیم نے رپورٹ دی تھی کہ نائیجرین پولیس کی فائرنگ سے اس ملک کے شمال میں 100 سے زائد شیعہ عزادار شہید جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

یاد دلایا جاتا ہے کہ سال 2015ء میں کونو سے زائریا جانے والے عزاداروں پر بوکو حرام نامی تنظیم نے خودکش حملہ اور لشکر کشی کی تاہم گزشتہ سال نائیجریا کی سعودی نواز فوج نے بوکو حرام کی جگہ لے لی۔

سال 2015ء میں شہاد ت امام رضا علیہ السلام کی مجلس عزا پر فوج نے حملہ کردیا تھا جس میں ایک ہزار سے زائد عزادار شہید جبکہ نائیجریا میں شیعوں کے قائد شیخ زکزکی کو اپنی اہلیہ سمیت گرفتار کرلیا گیا تھا جو ابھی تک پابند سلاسل ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری