ایرانی وزیر دفاع نے میزائل تجربے کی تصدیق کردی

خبر کا کوڈ: 1315017 خدمت: ایران
موشک

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع کا کہنا ہے: "حالیہ میزائل تجربہ ہمارے دفاعی پروگرام میں شامل تھا اور ہم اپنے دفاعی امور میں کسی غیر کو مداخلت کی اجازت نہیں دیتے۔

تسنیم خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع حسین دھقان نے اقوام متحدہ کی طرف سے ہنگامی اجلاس پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئےکہنا تھا  کہ ایران نے ایٹمی معاہدے کی کسی قسم کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔

وزیر دفاع نے کہا: ہم نے جو کچھ بھی کیا ہے قومی  اور ملکی مفاد کو مد نظر رکھ کر ہی کیا ہے حالیہ میزائل تجربہ ایرانی دفاعی پروگرام میں شامل تھا، جس کے لئے ہمیں کسی دوسرے ملک سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں تھی۔

وزیر دفاع نے مزید کہا: ایک زندہ قوم کو ہمیشہ اعلیٰ ترین سطح پر دفاعی پوزیشن کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی ضرورت ہوتی ہے، حالیہ میزائل تجربہ ایران کی دفاعی پالیسی کا حصہ تھا، اسلامی جمہوری ایران کی وزارت دفاع صدر مملکت کے حکم کے مطابق دفاعی پرگرام کو جاری رکھے گی۔

دھقان کا کہنا ہے کہ ایران، اپنی دفاعی قوت کو بڑھانے کی کوشش کررہا ہے اس کے لئے کسی بھی طاقت سے اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، ایران نے کسی کو نہ دھمکی دی ہے اور نہ کسی کے لئے خطرہ ہے۔

انہوں نے تاکید کی کہ دنیا نے کئی بار اسلامی جمہوریہ ایران کو آزمایا ہے اب کوئی بھی طاقت ایران کو مجبور نہیں کرسکتی ہے، ایران اپنے فیصلے خود کرتا ہے اور اپنے دفاعی امور میں کسی غیر کو مداخلت کی اجازت نہیں دیتا ہے۔

دھقانی نے خلیج فارس میں ہونے والی فوجی مشقوں کے بارے میں کئے گئے سوال کے جواب میں کہا: امریکہ میں ٹرمپ کے جیتنے کے بعد پوری دنیا میں ایک عجیب سی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے جنوبی خلیج فارس کےساحلی ممالک میں بےچینی پھیل گئی ہے، یہ ممالک خلیج فارس میں اپنے وجود کا اظہار کرنا چاہتے ہیں اور اپنے مداحوں کو اعتماد میں لینا چاہتے ہیں، لیکن ان ممالک کا کوئی خاص اثر نہیں ہے وہ حکومتیں جو غیروں کے اشاروں پر چلتی ہیں، آخر وہ کر ہی کیا سکتی ہیں۔

یاد رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے درمیانے فاصلے کا  کامیاب میزائل تجربہ کیا تھا جس پر اسرائیل سمیت ایران دشمن عناصر کی نیندیں اڑ گئی ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری