امریکہ جانتا ہے کہ دہشتگردی کا اصل منبع وہابیت ہے، محمد جسار

خبر کا کوڈ: 1315881 خدمت: اسلامی بیداری
محمد جسار کارشناس یمنی

یمن مسائل پر گہری نظر رکھنے والے ماہر کا 7 مسلمان ممالک کے شہریوں پر پابندی سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کے حکم نامے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہنا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں بخوبی آگاہ ہیں کہ وہابی افکار دہشتگردی کا اصل سرچشمہ ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق یمن مسائل پر گہری نظر رکھنے والے معروف ماہر "محمد جسار" نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے 7 مسلمان ممالک کے شہریوں پر پابندی کا نیا امریکی قانون حیران کن ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک کے شہری ہی دہشتگردی کی تمام کاروائیوں کے ذمہ دار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایسی حالت میں کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں بخوبی آگاہ ہیں کہ دہشتگردی کا اصل منبع وہابیت ہے اور یہ ایجنسیاں ان عناصر کو بھی بخوبی جانتے ہیں جو دہشتگردوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ خود امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بارہا اعلان کیا ہے کہ وہابی افکار دہشتگرد کاروائیوں کے اصل سرچشمہ ہیں جو دہشتگردوں کو فکری طاقت فراہم کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ وہابی افکار کے عالوہ دنیا کا کوئی بھی مذہب لوگوں کے قتل عام کی اجازت نہیں دیتا۔

محمد جسار نے یمنیوں کے امریکہ داخلے پر پابندی کے بارے میں کہا: یمنی عوام تاریخ میں کبھی بھی دہشتگرد قرار نہیں دئے گئے ہیں اور کبھی بھی کسی دوسرے ملک میں دراندازی یا مداخلت نہیں کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا: اکثر یمنیوں کا مذہب معتدل اور مسالمت آمیز ہے جو صلح و دوستی کو ترویج دیتے ہیں اور ہمیں یہ یاد دلانا چاہئے کہ یمنیوں نے ملایشیا اور انڈونیشیا میں اسلام کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لہٰذا امریکی سیاستدانوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ اپنے فیصلوں پر ایک بار پھر غور و فکر کیساتھ نظرثانی کریں اور وہابیت جو دہشتگردی کا اصل منبع ہے، کا جائزہ لیں۔

    تازہ ترین خبریں