بھارت کو سی پیک کے نقصانات کی کہانی، سوئیڈن کے تھنک ٹینک کی زبانی

خبر کا کوڈ: 1317917 خدمت: پاکستان
سی پیک

سوئیڈن کے تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ بھارت حکومت چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ذریعے پاکستان کی معیشت مستحکم ہونے کے روشن امکانات پر فکرمند اور خوفزدہ ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، سوئیڈن کے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے رپورٹ شائع کی ہے جس میں واضح ہے کہ بھارت پاکستان میں جاری سی پیک منصوبے پر تشویش کا اظہار کیوں کررہا ہے اور اس منصوبے کی مخالفت کے ساتھ ساتھ خوفزدہ کیوں ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کے مطابق سی پیک سے ممالک کے درمیان جنوبی ایشیا میں اثرورسوخ بڑھانے کی نئی دوڑ شروع ہو چکی ہے۔

دوسری جانب اس منصوبے سے چین کو نہ صرف بحر ہند اور خاص طور پر بحیرہ عرب تک براہ راست رسائی حاصل ہو جائے گی بلکہ چین گوادر بندرگاہ کے ذریعے بھارت کی فوجی نقل و حرکت پر بھی نظر رکھ سکے گا۔

بھارت کو یہ خدشہ بھی ہے کہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد مسئلہ کشمیر پر چین کی غیر جانبدار پالیسی کا پلڑا پاکستان کے حق میں بھاری ہو جائے گا اور مقبوضہ کشمیر پر بھارتی تسلط بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہوگا جب کہ بھارتی حکومت مسئلہ کشمیر کو دبا کر رکھنا چاہتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مستقبل میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع میسر آنے سے پاکستان کی معاشی حالت میں واضح بہتری بھی آئے گی جس سے بھارت بری طرح سے خوفزدہ اور خائف ہے۔

واضح رہے کہ جب سی پیک کے منصوبہ کا آغاز ہو رہا تھا تو بھارت نے سرتوڑ کوشش کی تھی چین پاکستان کے ساتھ مل کر یہ منصوبہ شروع نہ کرے۔

تاہم چین نے بھارت کی ایک نہ سنی اور اس منصوبے پر کام شروع کر دیا جس کے سبب آج سی پیک کامیابیوں کی منازل طے کرتے ہوئے ایک ایسے مقام پر آن پہنچا ہے کہ جرمنی اور برطانیہ جیسے ممالک اس منصوبے کا حصہ بننے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں