"یوم یکجہتی کشمیر" پریس کانفرنس/

قونصلر جنرل پاکستان: رہبراعظم سید علی خامنہ ای نے مسلمانوں کو مسئلہ کشمیر حل کرنے کی تاکید کی ہے + تصاویر

خبر کا کوڈ: 1319101 خدمت: اسلامی بیداری
یوم یکجہتی کشمیر

ایران کے شہر مشہد مقدس میں تعینات پاکستانی قونصل جنرل نے امام خامنہ ای کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ بھارتی فوج کی نہتے کشمیریوں پر چھرے والی بندوق کے استعمال پر رہبر معظم نے شدید مذمت کی اور فرمایا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ فورا ختم ہونا چاہیئے اور مسلمانوں کو مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے عملی اقدام اٹھانے چاہیئے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران کے شہر مشہد مقدس میں تعینات پاکستانی قونصل جنرل یاور عباس نے قونصلیٹ جنرل آف پاکستان میں ایرانی خبر ایجنسیوں اور روزناموں کے ایڈیٹرز کےساتھ پریس کانفرس کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ہمیشہ دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ آزاد کشمیر پاکستان کے قبضے میں ہے جو کہ نہایت مضحکہ خیز ہے کیونکہ 1947 میں کشمیر کا یہ حصہ تو پاکستانیوں نے آزاد کروایا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ اس حصے کا موازنہ اس حصے سے کریں جو بھارت میں ہے تو دراصل وہ مقبوضہ کشمیر ہے جس پر بھارت نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور وہیں امن و امان کی خراب صورتحال ہے۔

اس کے برعکس کشمیر کا جو حصہ پاکستان میں موجود ہے وہ نہایت پرامن ہے۔ تاہم بھارتی جارحیت سے نمٹنے کے لئے سرحد پر پاک فوج کے جوان موجود ہیں، اس کے علاوہ آزاد کشمیر کا اپنا صدر، اپنا وزیراعظم، اپنی کیبنٹ، اپنی اسمبلی ہے۔

پاکستانی قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ وہ اپنے قوانین آزادانہ طور پر بناتے ہیں، وہ مکمل آزاد ہیں اور ان کو بجٹ میں حصہ بھی دیا جاتا ہے۔

وہ خود کو پاکستانی ہی کہلواتے ہیں، ہم نے ان کو نارمل زندگی گزارنے کے لئے پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کئے ہوئے ہیں۔

تاہم ان کے شناختی کارڈ پر یہ لکھا ہوتا ہے کہ ان کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے۔

یاور عباس نے مزید کہا: ہمارا بڑا سادہ موقف ہے کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق بھارتی کشمیر میں ہی نہیں بلکہ پاکستانی کشمیر میں بھی ریفرینڈم کروایا جائے تاکہ یہ دونوں حصے اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کر سکیں۔

پاکستان اور بھارت دونوں ہی ایٹمی قوتیں ہیں اور کشمیر کے تنازعے نے حالات بہت نازک بنا ڈالے ہیں۔ اگر یہ تناؤ یونہی قائم رہا تو خدا نہ کرے اس کا انجام ایٹمی جنگ کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے اور پاکستان یہ ہرگز نہیں چاہتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہم صرف کشمیر ہی کی بات نہیں کرتے، ایک مسلمان ہونے کے ناطے، ہم نے ہمیشہ فلسطین کا مسئلہ بھی ہر فورم پر اٹھایا۔

ایران کی طرح پاکستان کا بھی اسرائیل سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلکہ شائد آج ایران اور پاکستان ہی ایسے 2 ممالک بچے ہیں جن کا اسرائیل سے ہر لحاظ سے مکمل بائیکاٹ ہے۔

لہٰذا دنیا میں جہاں بھی انسانیت پر ظلم ہوتا ہے، پاکستان اس کے خلاف آواز بلند کرتا ہے۔

انہوں نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ بھارت میں بےتحاشا مسائل ہیں۔ سکھ، بھارت سے الگ ہونا چاہتے ہیں، تامل ناڈو الگ ریاست چاہتے ہیں، بھارتی پنجاب والے بھی بھارت میں نہیں رہنا چاہتے لیکن ہم نے کبھی اس کے اندرونی معاملات میں دخل نہیں دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا ذکر ہم اس لیے کرتے ہیں کہ یہ متنازعہ ہے اور اقوام متحدہ نے اس کے لئے قرارداد منظور کی ہے کہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دیا جائے، جس کا بھارت مسلسل انکار کر رہا ہے۔

انہوں نے ایران کے رہبرمعظم امام خامنہ ای کا بیان نقل کرتے ہوئے بتایا کہ بھارتی فوج کی نہتے کشمیریوں پر چھرے والی بندوق کے استعمال پر رہبر اعظم نے شدید مذمت کی اور فرمایا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ فورا ختم ہونا چاہیئے اور مسلمانوں کو مسلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے عملی اقدام اٹھانے چاہیئے۔

یاور عباس نے تاکید کی کہ رہبر معظم نے بھی کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کیا ہے۔

حافظ سعید کی نظربندی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ حافظ سعید کے خلاف کاروائی امریکہ یا بھارت کی ایماء پر ہرگز نہیں ہوئی، یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ اگر پاکستان امریکہ یا بھارت کے دباؤ میں آ کر کوئی قدم اٹھاتا تو یہ کاروائی بہت پہلے ہو جاتی۔

پاکستانی قونصل جنرل نے بھارت کے بے بنیاد پروپیگنڈوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بھارت میں کہیں بھی دہشتگردی ہوتی ہے وہ فورا پاکستان پر الزام لگا دیتا ہے لیکن آج تک دنیا کو کوئی بھی ثبوت دینے میں ناکام رہا ہے۔

انہوں نے صحافیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کو یہاں بلانے کا مقصد یہ ہے کہ آپ لوگ صرف سچ لکھیں۔ کسی کا ساتھ نہ دیں اور کسی دباؤ میں نہ آئیں، فقط سچ لکھیں۔

پاکستانی قونصل جنرل نے پریس کانفرنس کے اختتام پر ایرانی خبر ایجنسیوں اور روزناموں کے ایڈیٹرز کو اعزازی سرٹیفکیٹ سے نوازا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری