تہران کی جانب سے بعض امریکی اداروں اور افراد پر پابندی کا اعلان

خبر کا کوڈ: 1320081 خدمت: ایران
تحریم

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکیوں کے جارحانہ اور دھمکی آمیز بیانات کی تہران کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں جبکہ بعض امریکی اداروں اور افراد جو داعش جیسی دہشتگرد تنظیموں کی حمایت کر رہے ہیں، پر پابندی عائد کر کے فہرست جلد ہی جاری کی جائیگی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی وزارت کارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے تہران کے خلاف واشنگٹن کے موقف کے بارے میں کہا: جہاں تک میزائل تجربوں اور ایران کے اندرونی معاملات کا تعلق ہے تو یہ ایرانی حکومت اور حاکمیت سے مربوط ہے اور ہمیں کسی کی مشاورت اور بات چیت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی نئی حکومت کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے تک ابھی بھی کافی وقت درکار ہے اور یہ حکومت تاحال مستقل نہیں ہے جس کے بیانات میں بھی تضاد پایا جاتا ہے جبکہ بعض بیانات دھمکی آمیز اور جارح ہیں لہذا یہ بیانات تہران کیلئے کوئی اہمیت نہیں رکھتے کیونکہ گزشتہ تین دہائیوں سے یہی بیانات سنتے آرہے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شرائط و ضوابط دوسروں پر لاگو ہوجاتے ہیں۔

ان کا ایران کیخلاف امریکہ کی نئی پابندیوں کے بارے میں کہنا تھا: "ہمارے پاس امریکہ کے غیر منصفانہ اور غلط اقدامات کے مقابلے میں بعض خاص اقدامات موجود ہیں اور وہ یہ کہ ہم اسرائیل کے ساتھ ساتھ بعض امریکی اداروں اور افراد پر پابندی لگا سکتے ہیں جو داعش جیسی دہشتگرد تنظیموں کی حمایت کرتے ہیں۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے پابندیوں میں شامل اداروں اور افراد کی فہرست کو جلد از جلد جاری کرنے کی بھی خبر دی۔

واضح رہے کہ نئی امریکی حکومت نے ایٹمی معاہدے کی پاسداری کی بجائے بعض ایرانی کمپنیوں پر جدید پابندیاں عائد کی ہیں۔

 

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری