ایران پر پابندیوں سے تجارتی معاہدوں کا مستقبل غیر یقینی کا شکار، پاکستان اکانومی واچ

خبر کا کوڈ: 1320569 خدمت: ایران
مرتضی مغل

پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ ایران پر نئی امریکی پابندیاں لگنے سے پائپ لائن اور تجارتی معاہدوں کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہو گیا ہے جبکہ دونوں ممالک کے مابین کشمکش سے خطے پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ ایران پر نئی امریکی پابندیاں لگنے سے پائپ لائن اور تجارتی معاہدوں کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہو گیا ہے جبکہ دونوں ممالک کے مابین کشمکش سے خطے پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ایران سے گیس درآمد کرنے کے منصوبے کو سرد خانے میں ڈال کر دیگر ذرائع اختیار کرے۔

انہوں نے کہا کہ ایران پر عائد تازہ پابندیوں سے پاکستان اور ایران کے بڑے تجارتی پار ٹنر بننے کی امیدوں پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

پاکستان کی توانائی مارکیٹ میں انقلاب لانے والا پائپ لائن منصوبہ پہلے سے پابندیوں کی زد میں تھا اور اب صورتحال مزید مخدوش ہو سکتی ہے اس لیے توانائی کے نئے معاہدوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

مرتضی مغل کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے باہمی تجارت 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا مگر پاکستانی برآمدات 128 ملین ڈالر تک گر گئیں جبکہ ایران سے تجارت کرنے والے ذرائع کے مطابق اب اس میں مزید کمی آ سکتی ہے۔

پاکستان اکانومی واچ کے صدر نے کہا کہ ایران سے گیس کی درآمد موجودہ حالات میں ممکن نہیں اس لئے دیگر شعبوں میں تجارت کی جائے جن میں چاول، پھل، سبزیاں، سپورٹس کا سامان اور آئی ٹی وغیرہ شامل ہیں۔

    تازہ ترین خبریں