امام خامنہ ای کی ایرانی فضائیہ کے کمانڈروں اور اہلکاروں سے ملاقات؛

ٹرمپ نے ہماری مشکل آسان کردی/ کیا اوباما کا داعش، سازشوں کی حمایت اور "اپاہج کردینے والی پابندیوں" پر شکریہ ادا کریں؟

خبر کا کوڈ: 1320981 خدمت: ایران
رهبری

امام خامنہ ای نے نئے امریکی صدر کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آمریکا اپنا مقصد پورا نہیں کرسکا اور کوئی بھی دشمن ایرانی قوم کو اپاہج نہیں کرسکتا۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے رہبر معظم سید علی خامنہ ای کے اطلاعات و نشریات کے دفتر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی فضائیہ کے کمانڈروں اور اہلکاروں نے امام خمینی (رہ) کے ساتھ فضائی فوج کی تاریخی بیعت کے سالگرہ اور ایران کے "یوم فضائیہ" کے موقع پر آج صبح (19 بھمن بمطابق 07 فروری کو) امام خامنہ ای سے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔

 اس ملاقات میں ایران کی فضائیہ کے کمانڈر، افسر، پائلٹ، اور خاتم الانبیاء ایئر ڈیفنس بیس کے اہلکار شامل تھے۔

امام خامنہ ای نے نئے امریکی صدر کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امریکا اپنا مقصد پورا نہیں کرسکا اور کوئی بھی دشمن ایرانی قوم کو اپاہج نہیں بنا سکتا۔

امام خامنہ ای کے ایرانی فضائیہ کے کمانڈروں اور اہلکاروں سے خطاب کے اہم ترین عناوین درج ذیل ہیں:

امریکہ کے نئے صدر کہتے ہیں کہ ہمیں اوباما کا شکریہ ادا کرنا چاہئے! کیوں؟ داعش، عراق اور شام میں آگ اور ایران میں شمسی سال 1388 میں ہونے والے فتنے کی کھلم کھلا حمایت کی خاطر؟ وہی تھے جنہوں نے ایرانی قوم کو مفلوج کردینے والی پابندیاں لگائیں؛ البتہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوا اور کوئی بھی دشمن ایرانی قوم کو اپاہج نہیں بنا سکتا۔

ٹرمپ کہتے ہیں کہ مجھ سے ڈریے! نہیں؛ ایرانی قوم اس بات کا جواب انقلاب اسلامی کے پرشکوہ سالگرہ کے موقع پر 22 بھمن کو دے گی اور پتہ چل جائے گا کہ ایرانی قوم اس دھمکی کے مقابلے میں کیا موقف اختیار کرتی ہے۔

یہ شخص (ٹرمپ) جو آئے ہیں، ان کا شکریہ! شکریہ اس لئے کہ ہماری مشکل کو آسان کردیا؛ امریکہ کے اصل چہرے کو دکھا دیا۔ وہ جو ہم گزشتہ 35 سال سے کہہ رہے تھے- امریکی انتظامیہ کے اندر سیاسی، اقتصادی، اخلاقی اور سماجی کرپشن- یہ جناب آئے اور انتخابات کے دوران اور اس کے بعد سب کچھ آشکار کردیا۔ ابھی بھی یہ جو کام کررہے ہیں، پانچ سالہ بچے کو ہتھکڑیاں لگاتے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ میں انسانی حقوق کے معنی کیا ہیں۔

امام خامنہ ای کے ایرانی فضائیہ کے کمانڈروں اور اہلکاروں سے خطاب کے دوران ایرانی قوم کی مومن صفت، حاکمانہ، عقلی اور اعتماد بہ نفس تحرکات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی: اگر عقل کو امید اور خدا پر توکل کے تحت استعمال کیا جائے تو خدا کی مدد اس میں ضرور شامل حال ہوگی لیکن اگر عقل شیطان پر اعتماد اور مادی قوتوں کے سائے میں استعمال کی جائے تو سراب کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔

انہوں نے فرمایا: یہ صاحب (ٹرمپ) جو امریکہ میں تازہ آئے ہیں اپنے الفاظ اور اقدامات نے انقلاب اسلامی کی 38 سالوں سے جاری امریکی انتظامیہ میں بدعنوانیوں کو بے نقاب کردیا ہے جبکہ ایرانی قوم ان کے دھمکی آمیز بیانات اور اقدامات کا جواب 22بھمن کو دے گی۔

اس ملاقات میں جو امام خمینی (رہ) کے ساتھ فضائی فوج کی تاریخی بیعت کے سالگرہ اور ایران کے "یوم فضائیہ" کے موقع پر انجام پائی، نے اس حادثے (شمسی سال 1388 کا فتنہ) کو انقلاب اسلامی کی تاریخ میں فیصلہ کن حادثہ قرار دیا اور فرمایا: ایرانی فضائیہ طاغوتی حکومت کے دوران امریکی سیاسی نظام سے وابستہ ایک حصہ تھی، لیکن طاغوتی حکومت کسی بھی صورت میں تصور نہیں کرتی تھی کہ اسی حصے سے بھاری صدمہ کھائے گی۔

حضرت آیت اللہ امام خامنہ ای نے وضاحت کی: انقلاب کے اصحاب، عوام اور حتی امام راحل نے بھی اس عجیب واقعے کی پیش گوئی نہیں کی تھی اور یہ حادثہ اصل میں «رزق لایُحتَسَب» یا غیر قابل انتظار روزی یا غیر قابل محاسبہ کے مصداق ہے جس کی طرف قرآن کریم میں اشارہ کیا گیا ہے۔

امام خامنہ ای نے مزید فرمایا: 19 بھمن 1357 شمسی میں ہونے والے حادثے کا پیغام اور درس یہ ہے کہ ہمیشہ سے ضروری عقلی و مادی محاسبوں کے ساتھ ساتھ مادی مسائل سے بالاتر محاسبوں کو بھی نظر میں رکھنا چاہئے۔

انہوں نے کہا: ہم نے اسلامی انقلاب کے 38 سالوں میں جملہ دفاع مقدس کے دوران ہمیشہ سے خداوند متعال کی مدد کا مشاہدہ کیا اور مادی محاسبوں سے خارج حوادث کا مشاہدہ کرچکے ہیں۔

رہبرمعظم انقلاب نے ہر قسم کے مشکلات اور حوصلہ شکنی کے ساتھ مقابلہ کرنے کا بہترین ذریعہ اللہ تعالی پر توکل اور اعتماد قرار دیتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالی پر اعتماد اور توکل کے بجائے شیطانی قوتوں پر بھروسہ کریں گے تو اس کا نتیجہ ایک سراب کی مانند ہوگا (یعنی امیدوں کے سوا کچھ نہیں ملے گا وہ بھی ایک ایسی امید کہ جس کی کوئی حقیقت نہیں)۔

حضرت آیت‌الله خامنه‌ ای نے ہر قسم کی سفارت کاری اور دیگر ملکی معاملات میں حسن تدبیر کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا: شیطان صفت لوگوں پر اعتماد کرنا اور ایسے نظام سے امیدیں وابستہ رکھنا جو اصل اسلام کے مخالف اور دشمن ہیں ایک بہت بڑی غلطی ہے کیونکہ اس قسم کے حکام پر اعتماد کرنے سے ملک کو سوائے نقصان کے کچھ نہیں ملے گا۔

رہبرانقلاب امام خامنہ ای نے امریکی صدر ٹرمپ کے بیان کہ ایران کو صدر اوباما کا شکرگزار ہونا چاہئے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنا تھا: ہم کس وجہ سے صدر اوباما کا شکریہ ادا کریں؟ اوباما نے ایران کو کمزور کرنے کی سرتوڑ کوشش کی ایران پر سنگین قسم کی پابندیاں عائد کرکے ایران کو نقصان پہنچایا، اگرچہ اوباما اپنی کوششوں میں ناکام رہے اور ملت ایران نے امریکی حکمرانوں کو منہ توڑ جواب دیا۔

امام خامنہ ای نے فرمایا ہم امریکی سابق حکومت کا شکریہ اسلیئے ادا کریں کہ انہوں نے ہم پر ہرقسم کی پابندیاں عائد کردیں؟ ان کا اس لئے شکریہ ادا کریں کہ خطے میں داعش جیسی درندہ صفت تنطیموں کو پروان چڑھایا؟ ہم اس لئے شکریہ ادا کریں کہ اوباما حکومت نے ایران کے داخلی مسائل میں دخالت کرکے سال 88 شمشی کے فسادات کی کھل کرحمایت کی؟

یہ ساری مثالیں اس سابق امریکی حکومت کے کارنامے ہیں جس نے مخملی نرم دستانوں میں آہنی پنچہ چھپا رکھا تھا۔

امام خامنی ای نے صدر ٹرمپ کے بیان کہ ایرانی مجھ سے ڈریں، پر فرمایا: ایرانی قوم کسی سے ڈرنے والی نہیں ہے۔

امام خامنہ ای نے 22 بھمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنا تھا: ایرانی قوم 22 بھمن کے دن ایک بار پھر امریکی دھمکیوں کا منہ توڑ جواب دے گی۔

رہبر معظم نے کنایہ آمیز لہجے میں فرمایا: البتہ ہم صدر ٹرمپ کے شکرگزار ہیں کیونکہ کہ انہوں نے اپنا اصلی چہرہ دینا کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ 38 سالوں سے اسلامی جمہوریہ ایران امریکی تسلط پسندانہ رویوں، اقتصادی، سیاسی، اورسماجی غلط پالیسوں کو دنیا کے سامنے واضح کرتا آیا ہے، اب امریکہ نے اپنے حقیقی چہرے کو دنیا پر واضح کردیا ہے کہ اس کی حقیقت کیا ہے اور وہ کیا چاہتا ہے۔

حال ہی میں امریکی امگریشن حکام کی جانب سے ایک 5 سالہ ایرانی بچے کو ہتھکڑیاں پہنانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: امریکی حقوق انسانی کیا ہے اب دنیا پر واضح ہوگئی، اللہ تعالی حضرت امام خمینی کو غریق رحمت کرے انہوں نے اپنی تقریروں اور تحریروں میں بار بار امریکی چال بازیوں اور شیطنت کی طرف لوگوں کو متوجہ کراتے رہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام کو کسی بھی صورت میں امریکہ پر بھروسہ کرنے سے منع فرمایا اور آج امام راحل کی تمام فرمائشات سب پر واضح ہوگئیں ہیں۔

امام خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران کے مسلح افواج خاص کر جوانوں سے مخاطب ہوکر فرمایا: گزشتہ کی طرح اب بھی اپنی شاندار کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھیں، اللہ تعالی پر توکل اور بھروسہ رکھیں اور پوری ہمت کے ساتھ ملک کے دفاع کے لئے تیار رہیں۔

امام خامنہ ای نے اپنی تقریر کے آخر میں فرمایا: ایران کے سابق نسل نے ایران کے لئے بہت قربانیاں دی ہیں اور موجودہ جوان نسل اس امانت  کی پاسداری کررہی ہے۔

    تازہ ترین خبریں