یمن میں غذائی قلت سے متاثرہ افراد کی تعداد 30 لاکھ ہوچکی ہے، اقوام متحدہ

خبر کا کوڈ: 1325480 خدمت: دنیا
سعودی عرب تلوار

اقوا م متحدہ کے تین اداروں کے مشترکہ جائزے کے مطابق یمن کی کل آبادی کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ اس وقت خوراک کے حصول کی جدوجہد میں مصروف ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، اقوام متحدہ کے تین اداروں کے مشترکہ جائزے کے مطابق یمن میں 30 لاکھ افراد اس وقت خوراک کے حصول کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔

یمن میں خوراک اور زراعت کے ادارے کے نمائندے صالح حج حسان نے خوراک میں کمی کا شکار اور تیزی سے بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ آل یہود کی حمایت سے آل سعود کی یمن پر مسلط کردہ جنگ کو 684 دن کا عرصہ گزر گیا ہے اور حملے بدستور جاری ہیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ یمن میں آل سعود کے وحشیانہ حملوں میں 11929 نہتے شہری من جملہ 4398 بچے اور خواتین شہید اور بچوں اور خواتین سمیت 19885 افراد شدید زخمی ہوچکے ہیں۔

زخمی ہونے والوں میں 4227 بچے اور خواتین بتائے جارہے ہیں۔

سعودی اتحادی فوج کے حملوں میں یمن کے بنیادی ڈھانچے تباہ کردیے گئے ہیں، حملوں میں 15 ایئرپورٹ، 4بندرگاہیں، 274 پانی کے ذخائر، 159 بجلی کے پاور پلانٹ اور کھمبے،267 مختلف قسم کے مصنوعات کے کارخانے، 308 ایندھن کے مراکز، 323 آئل ٹینکر وغیر تباہ کردئے گئے ہیں۔

آل سعود کے جنگی طیاروں نے یمن کے 5457 تجارتی مراکز، 653 خوراکی مواد کے ذخائر، کھانے کی اشیا ترسیل کرنے والے 500 بڑے ٹرک، 528 شاپنگ مالز، 196 پولٹری فارم، 2497 عام شہریوں کی گاڑیاں، 1508 کھیت کو نشانہ بنا کر تباہ کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی حملوں میں 319 ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس کے مراکز، 1489 پل اور سڑکیں، 1595 حکومتی ادارے، 269 ہسپتال، 111 کالج اور یونیورسٹیوں کی عمارتیں اور 751 مدارس، 101 اسٹیڈیم اور کھیلوں کے مراکز، 25 ذرائع ابلاغ کے دفاتر اور دیگر اداروں کو نابود کردیا گیا ہے۔

آل یہود اور آل سعود کے حملوں میں 401831 یمنی شہریوں کے مکانات کلی طور پر منہدم کردیے گئے ہیں۔

سعودی اتحاد کے نام نہاد مسلمان فوج نے یمن کی 705 مساجد کو بھی شہید کردیا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری