پاکستان کے طلبا تنظیموں کے سربراہاں کا ایران دورہ؛

ایران امت مسلمہ کیلئے مشعل راہ ہے/ ایرانی فرقہ ورایت اور لسانیت کی بجائے انسانیت کی بات کرتے ہیں

خبر کا کوڈ: 1325963 خدمت: ایران
ایران و پاکستان

پاکستان کے مختلف طلبا تنظیموں کے سربراہان نے ایران کے دس روزہ دورے کے بعد نہایت مثبت تاثرات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ایران کے خلاف غلط فہمیاں دور کرنے کی ضرورت ہے، ایران کا دورہ کر کے جان لیا کہ یہ ملک امت مسلمہ کیلئے مشعل راہ ہے کیونکہ ایرانی فرقہ ورایت اور لسانیت کی بجائے انسانیت کی بات کرتے ہیں

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق متحدہ طلباء محاذ پاکستان میں تمام طلباء تنظیموں کے سربراہان پر مشتمل ایک پلیٹ فارم ہے جو پاکستان میں طلباء کے تعلیمی مسائل کے حل کے لئے کوشاں ہے متحدہ محاذ کے وفد نے ایران کا دس روزہ تعلیمی دورہ کیا۔

پاکستان واپسی پر تسنیم نیوز نے تمام سربراہان سے لاہور میں ایک نشست کی جس میں دورہ ایران کا احوال جاننے کی کوشش کی گئی جو قارئین کے لئے پیش خدمت ہے۔

مصطفوی اسٹوڈنٹس مووومنٹ کے مرکزی صدر عرفان یوسف کہتے ہیں کہ ایران میں آنے سے ایرانی کلچر کو دیکھ کر بہت سی غلط فہمیاں دور ہوئی ہیں جیسا کہ یہاں کے لوگ فرقہ واریت اور لسانیت کی بجائے انسانیت کی بات کرتے ہیں۔ ایران اور پاکستان دو برادر اسلامی ملک ہیں۔ میں چونکہ پاکستان میں طلباء کی نمائندگی کرتا ہوں تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم شیعہ سنی لڑائی سمیت کسی بھی فرقہ واریت پر یقین نہیں رکھتے ہیں ہم جسد واحد ہیں اور اسلام کی بات کرتے ہیں ایران میں آنے سے اس بات کا بھی اداراک ہوا ہے کہ 38سال قبل یہاں پر آنے والا انقلاب اسلام کے نام پر آیا ہے نا کہ شیعت کے نام پر آیا ہے۔ ایران اور پاکستان میں اتحاد پہلے سے ہی ہے لیکن اگر عالمی طاقتوں کی وجہ سے کچھ دوریاں ہیں تو وہ حکومتوں کی سطح پر تو ہوسکتی ہیں عوام کی سطح پر ہرگز نہیں ہیں۔ پاکستانی و ایرانی عوام کے دل آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ ابھی اس دورہ کے دوران ہم جہاں بھی گئے لوگوں نے ہمارا گرم جوشی سے استقبال کیا ہے یہ ہمارے لئے باعث افتخار تھا۔ ہم خواہش کرتے ہیں کہ ایرانی طلباء بھی پاکستان آئے اور ہمارے کلچر کو دیکھیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کا رہن سہن اور یہاں پر صفائی کا نظام قابل رشک ہے۔

سہیل چیمہ مرکزی صدر مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن بتاتے ہیں کہ ایران کے تعلیمی دورہ سے قبل میں یہ سمجھتا تھا کہ وہاں کوئی ظالم یا جابر قسم کا انقلاب ہوگا لیکن دیکھنے سے اس بات کو جاننے کی کوشش کی ہے کہ لوگوں کی انقلاب کے لئے خواہش اور فکر سے ایسا ممکن ہوا ہے لوگ ایسا نظام چاہتے تھے جس میں کرپشن نہ ہو، حق و سچ کا بول بالا ہو اور خدا کا نظام ہو۔ وہاں کے لوگوں میں اپنے کام کی ذمہ داری کا احسا س موجود ہے اس بات نے بے حد متاثر کیا ہے۔ ایک یونیورسٹی کے ڈین نے اپنے ہاتھوں سے کھانا پیش کیا جو ہمارے لئے ایک حیران کن اور نئی بات تھی کہ ایران کے دوسرے نمبر پر یونیورسٹی کے ڈین کا اس قدر بہتر انداز میں پیش آنا۔

سہیل چیمہ نے بتایا کہ قومیں اپنے اندر تبدیلی لانے سے بنتی ہیں جبکہ ہم اس سے قبل یہ سمجھتے تھے کوئی زبردستی انقلاب لایا گیا ہے جبکہ ایسا ہرگز نہیں وہ لوگ خود انقلاب لائے ہیں۔ پاک ایران تعلقات کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاک ایران تعلقات کی وجہ ہمارے حکمران ہیں کیونکہ ایرانی پاکستانی عوام ایک ہیں کوئی دوری نہیں ہے پاکستانی عوام میں اکثر و بیشتر لوگ یہ کہتے ہیں کاش پاکستان میں خمینی جیسا انقلاب آجائے یعنی یہ ثابت کرتا ہے کہ لوگ ایران سے محبت کرتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران آپسی تعلقات کو بہتر کریں، سہیل چیمہ نے بتایا کہ ایرانی عوام میں اپنی ذمہ داری کا احساس متاثر کن ہے۔

غازی الدین بابر مرکزی صدر جمعیت طلباء اسلام (س) کہتے ہیں کہ پہلے ایران کے بارے یہ تصور تھا کہ یہ ایک دقیانوسی ملک ہے یہاں پر بہت سی چیزوں پر پابندیاں جیسا کہ خواتین اور تفریحی سرگرمیوں پر اور یہ بھی خیال تھا کہ یہ کم ترقی یافتہ ملک ہے لیکن ایران میں جانے سے جانا کہ انقلاب اسلامی نے جہاں لوگوں کو خوشحال کیا ہے وہاں ملک کو بھی خوبصورت بنایا گیا ہے۔ پاکستان میں چند شہروں میں میٹرو ہے جبکہ وہاں پر جدید سفری سہولیات بیشتر شہروں میں دیکھنے کو ملی یہ ترقی کی طرف نشاندہی کرتی ہیں۔ وہاں کے لوگ خوشحال ہیں خواتین کو آزادی حاصل ہے۔ ایران اپنی خارجہ پالیسی میں دنیا میں پاکستان کی طرح کی صورتحال رکھتا ہے ایران کا جو حقیقی اسلامی چہرہ ہے وہ ابھی تک دنیا پر آشکار نہیں ہوا۔ ہر شخص ایران میں جاتا تو عام عوام کو کیسے معلوم ہوگا ایران میں کیا ہے۔ ایران میں شیعہ حکومت ہے جبکہ پاکستان میں مخلوط معاشرہ ہے جس میں شیعہ سنی دونوں مسالک کے لوگ ہیں پاک ایران تعلقات میں مسلکی اختلافات کو فراموش کر دیا جائے تو میں یہ سمجھتا ہوں دونوں ممالک اسٹریجٹک تعلقات کی بنیاد پر بہت ہی مضبوط ہوسکتے ہیں، ایران کے پاس تیل ہے جبکہ پاکستان کے پاس پانی و اجناس ہے دونوں باہم ایک ہوکر ایک دوسرے کی ضروریات کو پورا کر سکتے ہیں۔ یہ پابندیاں دونوں ممالک کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ہیں المیہ یہ ہے کہ پاکستان و ایران حکومتیں عالمی استکبار کے ہاتھوں استعمال ہورہی ہیں ایران کوسوں دور انڈیا سے تعلقات جبکہ پاکستان سعودیہ عرب سے تعلقات بہتر کرنے میں مگن ہے۔ یہ ایک اچھا عمل ہے لیکن پاک ایران تعلقات کو بہتر ہونا اہم ہے دونوں ممالک میں کچھ خاص مختلف نہیں پاکستان میں شیعہ سنی مل کر رہتے ہیں جبکہ ایران میں بھی سنی ہیں جو وہاں آزادی سے رہتے ہیں دونوں ممالک آپس میں ایک ہوجائیں توعالمی طاقتوں سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے آپس کے تعلقات بہتر ہونگے تو دونوں ملکوں میں خوشحالی آئے گی۔ ایران میں صفائی کا نظام اور امن وامان نے بے حد متاثر کیا ہے ایران نے پابندیوں کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے اپنی معشیت کو مضبوط کیاہے جبکہ پاکستان پر اس قدر پابندیاں لیکن ہم خودمختا ر نہیں ہو پارہے ہیں۔

جمعیت طلبا اسلام کے مرکزی معاون کنوئینر حافظ عبدالرحمن کہتے ہیں کہ پاک ایران تعلقات ہمیشہ سے خطے میں اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ ایران کا تعلیمی دورہ کے دوران جو وقت گزرا وہ ایک بہترین وقت تھا مہمان نوازی بھی بہترانداز میں کی گئی بالکل اسی انداز سے جس طرح سے کسی دوسرے ملک کی لیڈر شپ کے ساتھ برتاؤ کیا جاتا ہے جس کے لئے ہم مشکور ہیں۔ ایران ہمارا برادر اسلامی ملک ہے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی ضرورت ہے، دونوں ممالک اگر تعلقات میں رکاوٹ کو ختم کریں تو خطہ میں ایک طاقت بن کر ابھر سکتے ہیں ایران کا نظم ضبط اور اداروں کے کام کرنے کا انداز بہترین تھا ایران نے اپنی تاریخ کو محفوظ کیا ہوا اس عمل نے ہمیں متاثر کیا ہمارے اکابرین ایران میں اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں میں نے وہاں پر تاریخ کو دیکھا جس سے مجھے اسلامی تاریخ پر اور بھی فخر حاصل ہوا۔

متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی صدر اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر سرفراز نقوی کا کہنا ہے کہ متحدہ طلباء محاذ کی جانب سے پاکستان کی تمام طلباء تنظیموں کے سربراہان نے ایران کا دس روزہ یادگار تعلیمی دورہ میں شرکت کی۔ اس دورہ میں تمام طلباء تنظیموں کے نمائندگان نے یہ عہد کیا ہے کہ پاکستان کے مستقبل کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے بالخصوص پاکستان میں تعلیم کے فروغ کے لئے بھی عہد کیا گیا۔ ایران میں بہت سے ماہرین تعلیم اور علماء کرام سے ملاقات ہوئی تو تمام مسئولین نے یہ عزم کیا کہ اسلام کی ترقی کے لئے پاکستان میں مسالک میں باہمی اتحاد سے عملی کام اور اقدامات کیجئے تاکہ اسلامی اقدار کا احیاء ممکن ہوسکے۔ دورہ کے دوران ایرانی کی تعلیمی و اقتصادی میدان میں کامیابی متاثر کن تھی ایران کی خواندگی کی شرح 98%ہے ٹیکنالوجی کے میدان میں ان کی ترقی قابل رشک ہے۔ یہ پاکستان کے لئے قابل تقلید عمل ہے یہاں پر نوجوانوں میں ٹیلنٹ میں کوئی کمی نہیں ہے یہاں بھی یہ اقدامات آسانی سے اٹھائیں جاسکتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک میں باہمی اتحاد کی فضاء سے تعلقات مزید بہتر کئے جاسکتے ہیں کیونکہ یہ خطے کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ایران میں جہاں فارسی بولی جاتی ہے وہیں اردو میں پی ایچ ڈی اور ماسٹر بھی کروایا جارہا ہے یہ ثابت کرتا ہے کہ ایرانی کس قدر پاکستانیوں سے محبت کرتے ہیں ہم نے بھی بحیثیت پاکستانی وحدت و اتحاد کا پیغام دیا ہے۔

سرفراز نقوی کا مزید کہنا تھا کہ وہ طاقتیں جو اسلام کا بول بالا چاہتی ہیں ان کے لئے یہ درس ہے کہ ہم مل جل کر اسلام کی ترقی کے لئے کام کرسکتے ہیں اس انقلاب سے اسلام کا بول بولا ہوا ہے اسلام مخالف امریکہ و اسرائیل بہت سے میدانوں میں ناکام ہوئے ہیں اور وہ خود کو اس خطرہ سے محسوس کرتے ہیں اور سازشوں میں مصروف ہیں۔ ہمیں بحیثیت مسلمان اس انقلاب کی حفاظت کرنی چاہئے اور پاکستان میں اسلامی انقلاب کے لئے عملی کوشش کریں تاکہ اسلامی اقدار کا احیاء ہو کیونکہ یہ انسانی فلاح کے لئے ضروری ہے۔

سابقہ سیکرٹری جنرل اسلامی جمیعت طلباء پاکستان اور ایشین فیڈریشن فار مسلم یوتھ کے نائب صدر فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ ایران پاکستان تعلقات اہمیت کے حامل ہیں۔ وزارت خارجہ بھی تعلقات کی بہتری کے لئے کام کر رہی ہے دونوں ممالک کے مشترکات کی بنیاد پر تعلقات میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔ ایران کے دورہ کے دوران اس بات کو قریب سے جانا کہ یہ ایک واقعی قوم ہے اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اسلامی انقلاب کو انہوں نے ہرگز فراموش نہیں کیا بلکہ ہر آنے والے بچے کو بھی انقلاب کی آئیڈیالوجی اور قربانیوں کے بارے بتایا جاتا ہے یہیوجہ ہے کہ وہ بحیثیت ایک قوم زندگی بسر کررہے ہیں۔

فیصل جاویدنے بتایا کہ ایران پر عالمی دنیا کی طرف سے پابندیاں ہیں لیکن اپنے ملک کے وسائل کو استعمال کیا ہے یہ تمام مسلم ممالک کے لئے مشعل راہ ہے اور اپنے قدموں پر کھڑا ہوکر یہ دکھایا ہے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضوں کے بغیر بھی ملک کو چلایا جاسکتا ہے اور یہ بھی ثابت کیا ہے کہ ملک میں اگر واقعی ایک قوم رہتی ہو تو ملک صحیح راستے پر گامزن ہوسکتا ہے۔ ہم یہ خواہش رکھتے ہیں کہ پاک ایران تعلقات بہتر ہوں پاکستان امت مسلمہ کے لئے فوجی و اقتصادی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے۔ سعودیہ پاکستان و ایران ایک قوم کی اور امت کی حیثیت سے بہتر رول ادا کریں تو امت مسلمہ ترقی کی را ہ پر گامزن ہوسکتی ہے، پاکستان میں ایران بارے جو غلط فہمیاں ہیں انہیں دور کرنے کی ضرور ت ہے۔

    تازہ ترین خبریں