کیا 7 مسلم ممالک میں پاکستان بھی شامل ہو رہا ہے؟

خبر کا کوڈ: 1326442 خدمت: پاکستان
عبدالغفور حیدری

سات مسلمان ملکوں کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد پاکستان پر پابندی کے حوالے سے امریکی حکام کی جانب سے واضح طور پر نفی کی گئی تاہم اس کے باوجود بھی پاکستان کے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی ویزہ درخواست رد کر دی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، امریکہ نے سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری کو ویزا جاری کرنے سے انکار کردیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری کی قیادت میں پاکستانی سینیٹرز کے وفد نے امریکہ کا سرکاری دورہ کرنا تھا اور وہاں 13 اور 14 فروری کو نیویارک میں ہونے والے مباحثے میں شرکت کرنا تھی۔

امریکہ جانے کیلئے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی جانب سے دو ہفتے پہلے امریکی سفارتخانے کو درخواست جمع کرائی گئی تاہم انہیں ویزا جاری کرنے سے انکار کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سینیٹر ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل صلاح الدین ترمذی نے بھی اسی مقصد کے لئے امریکہ ویزے کی درخواست دی تھی جسے 2 روز قبل قبول کر لیا گیا ہے۔

قابل ذکر امر یہ ہے کہ ماضی میں فوج سے وابستہ شخصیت کو ویزا جاری کیا گیا ہے تاہم اسی مقصد کے لئے ایک مذہبی اور حکومت کے اتحادی جماعت سے تعلق رکھنے والی شخصیت کو اسی ویزے سے انکار کر دیا گیا ہے۔

امریکہ کی جانب سے ویزا جاری کرنے سے انکار پر چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے شدید احتجاج کیا ہے۔

انہوں نے پاک امریکہ پارلیمانی سفارتی تعلقات کو ختم کرتے ہوئے امریکی معافی نامے اور وضاحت سے مشروط کردیا اور اپنے سینیٹرز کے وفد کو امریکہ جانے سے بھی روک دیا۔

چیئرمین سینیٹ نے ویزا جاری نہ کرنے کے حوالے سے اقوام متحدہ کو خط بھیجنے کا حکم بھی دیا ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ ویزے کے اجرا میں تاخیر سے متعلق امریکی حکومت کی وضاحت تک سینیٹ کا کوئی وفد امریکی دورے پر نہیں جائیگا اور نہ ہی سرکاری طور پر کسی امریکی وفد، رکن کانگریس یا سفارتکار کا خیر مقدم کیا جائے گا۔

اس حوالے سے مولانا عبدالغفور حیدری سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ امریکی حکام دعوت نامے کے باوجود ممبر پارلیمنٹ کے ساتھ کیا کر رہے ہیں اور تاخیری حربے کیوں استعمال کئے جا رہے ہیں۔

مولانا عبدالغفور حیدری نے مزید کہا کہ امریکی سفارتخانے اور امریکی حکام کا ہمیشہ سے پاکستانی آفیشلز کے ساتھ یہی رویہ رہا ہے۔ اس لئے ہمیں بھی کوئی شوق نہیں کہ امریکہ جائیں۔ امریکہ اپنے حقوق کا تحفظ تو کرتا ہے لیکن اسے دوسرے ملک کی عزت و احترام کا خیال نہیں۔

دوسری جانب جمیعت علما اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمن نے بھی اس واقعے پر احتجاج کرتے ہوئے نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے امریکی حکام سے بات کریں۔

امریکہ نے تو پاکستان کے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو ویزہ دینے سے انکار کر دیا، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاکستان ایران کی طرح یہ ہمت کر سکتا ہے کہ امریکیوں کے پاکستان میں داخلے پر پابندی عائد کر سکے؟؟

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری