سال 2017ء میں صحافت پر پہلا حملہ/ صحافی برادری پر سوگ کی کیفیت طاری

خبر کا کوڈ: 1327041 خدمت: پاکستان
سماء کیمرہ مین

کراچی میں نجی ٹی وی سماء کی وین پر نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں اسسٹنٹ کیمرہ مین تیمور شہید ہوگئے جس پر مختلف سیاسی اور حکومتی رہنماؤں کے مذمتی بیانات سامنے آرہے ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، سماء کے کارکن کو 2 گولیاں سینے میں لگیں جبکہ ہیڈ انجری بھی ہوئی تھی، تشویشناک حالت میں عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

نمائندہ سماء فیصل شکیل کے مطابق فائیو اسٹار چورنگی پر پولیس وین پر کریکر حملہ کیا گیا جس کے بعد سماء کی ڈی ایس این جی واقعے کی کوریج کیلئے جارہی تھی کہ نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے فائرنگ کردی۔

گولیاں لگنے سے اسسٹنٹ کیمرہ مین تیمور شدید زخمی ہوگئے جنہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تاہم اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔

واضح رہے کہ ملزمان فائرنگ کے بعد فرار ہوگئے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، حملے ک ذمہ داری تحریک طالبان نے قبولی کی ہے۔

دوسری جانب ملک کی صحافی برادری پر سوگ کی کیفیت طاری ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کا سماء ٹی وی کی ٹیم پر فائرنگ کے واقعے میں انسانی جان کے ضیاع پر مذمت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ حملہ میڈیا پر نہیں اظہار رائے آزادی پر کیا گیا ہے۔

انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ وفاقی حکومت ملزمان کی گرفتاری کیلئے صوبائی حکومت کو مکمل تعاون فراہم کرے گی جبکہ ملزمان کو جلد گرفتار کرکے کیفردار تک پہنچایا جائے گا۔

اسی طرح وزیرمملکت برائے اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے نجی ٹی وی کی ٹیم پر مسلح افراد کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جان کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا  اور کہا ہے کہ  حکومت میڈیا کی آزادی اظہار پر یقین رکھتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کی آزادی پر حملوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، صوبائی حکومت واقعے کی تحقیقات کر کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچائے۔

خیال رہے کہ صحافت معاشرے کے لئے آنکھوں اور کانوں کی سی اہمیت کی حامل ہے بدقسمتی سے لیکن آج دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے تشدد کی وجہ سے اس مقدس پیشے سے تعلق رکھنے والے افراد غیرمحفوظ ہوچکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، گزشتہ ایک دہائی کے دوران دنیا بھر میں 800 سے زائد صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ہلاک ہوچکے ہیں۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ 10 میں سے صرف ایک صحافی کے قاتل اپنے کیفرکردار تک پہنچتے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری