تسنیم کی خصوصی تصویری رپورٹ/

کیا پاکستانی میڈیا اندھا اور بہرا ہو چکا ہے؟؟؟

خبر کا کوڈ: 1327551 خدمت: پاکستان
شیعہ مسنگ پرسنز

کورنگی میں ایک جانور کی موت پر واویلا مچانے والا پاکستانی میڈیا لاپتہ شیعہ افراد کے اہل خانہ کی اسلام آباد میں ہونے والی پریس کانفرنس سمیت اب پریس کلب کراچی کے سامنے احتجاج پر خاموش کیوں ہے؟

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، کراچی میں لاپتہ ہونے والے شیعہ جوانوں کے اہلِ خانہ کے کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج اور اپنے پیاروں کی بازیابی کے مطالبہ کو پاکستانی میڈیا کی کوریج نہ ملنا کسی سانحے سے کم نہیں۔

حادثے سے بڑھ کر سانحہ یہ ہوا
کوئی ٹھہرا نہیں حادثہ دیکھ کر

اتوار کی شام کراچی پریس کلب پر لاپتہ شیعہ جوانوں کے اہل خانہ اکھٹا ہوئے اور اپنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔

بچے چیختے رہے، عورتیں دہائیاں دیتی رہیں مگر پاکستانی میڈیا آنکھیں بند کئے دونوں کانوں پر ہاتھ رکھے کھڑا رہا۔

 ان لاپتہ افراد کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ انکے جوان بیٹوں کو سادہ لباس اہلکار اغوا کرکے لے گئے تھے جن کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں چلا، ان کا سوال تھا کہ یہ کیسا قانون ہے کہ زندہ انسان کو غائب کردیا جائے۔ اگر ان کا کوئی جرم ہے تو ان کو عدالت میں پیش کیا جائے، باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے۔

سوال کا جواب تو کیا ملنا تھا، مظلوموں کے سوال کو ہی دبا دیا گیا۔

گمشدہ افراد کے احتجاج کرنے والے اہل خانہ نے وزیراعظم سمیت آرمی چیف سے درخواست کی کہ بے گناہ افراد کی گمشدگی کے حوالےسے فوری نوٹس لیا جائے اور ہمارے پیاروں کو بازیاب کروایا جائے۔

واضح رہے کہ ملک بھر سے تقریباً ایک سو شیعہ مسلمان بشمول علمائے دین غیر قانونی تحویل میں لئے جا چکے ہیں۔

اس سلسلے میں غائب کر دئیے گئے افراد کے اہل خانہ مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔

یہ سب کون کر رہا ہے، کیوں کر رہا ہے، یہ الگ کہانی ہے مگر پاکستانی میڈیا جس طرح ان واقعات کو مسلسل نظرانداز کر رہا ہے، اس سے صحافت کے مقدس پیشے پر کچھ الگ سوال اٹھتے ہیں۔

مظلوموں کی حمایت کرنا صرف سچی صحافت کا ہی تقاضا نہیں بلکہ دین اسلام بھی اپنے تمام پیروکاروں کو اس کی خاص تاکید کرتا ہے۔  

دنیا کا قانون رہا ہے کہ کسی کے جلتے گھر کو دیکھ کر اپنا دروازہ بند کرنے والے کا گھر زیادہ دیر تک اس آگ سے محفوظ نہیں رہا کرتا۔

آج پاکستانی میڈیا اپنے پاکستانی بھائیوں کے گھر لگی جس آگ کو نظرانداز کئے ہوئے ہیں، خدانخواستہ اس کے شعلے کل ان کے گھر تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری