امریکہ اور یورپ کے بعد؛

نیوزی لینڈ میں حجاب پہنی مسلم خاتون سے بدسلوکی / شراب اچھال دی

خبر کا کوڈ: 1328266 خدمت: اسلامی بیداری
مہ پارہ خان

حجاب پہنی ایک مسلمان خاتون پر مقامی عورت نے حملہ کیا، اس پر شراب پھینک کر واپس چلے جانے کی دھمکی دی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، کچھ عرصے سے امریکہ اور یورپی ممالک میں مسلم برادی کے خلاف عام عوام میں نفرت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ حال ہی میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک، نفرت اور تعصب کے خلاف اقوام متحدہ میں ایک فورم کا انعقاد کیا گیا، جس میں مغربی ممالک میں مسلمان برادری کے خلاف مسلسل بڑھتے ہوئے نفرت آمیز رویے کا سدباب کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

تازہ ترین واقعہ میں کمیونیکیشن کنسلٹنٹ مہ پارہ خان اپنے دوستوں کے ساتھ آکلینڈ واپس آرہی تھیں کہ راستے میں ایک جگہ آرام کی غرض سے رکیں۔

اسی دوران ریسٹ روم سے نکلنے والی مقامی عورت نے اچانک آکر ان پر چیخنا چلانا شروع کردیا۔ اس نے نہ صرف مسلمانوں کو برا بھلا کہا بلکہ شراب سے بھرا کین بھی ان پر اچھال دیا۔

خیال رہے کہ مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے نزدیک شراب حرام و ناپاک ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان اس سے اس قدر کراہیت کرتے ہیں کہ اسے چھونا بھی حرام سمجھتے ہیں۔

مسلمان خاتون نے واقعے کی وڈیو بنا کر پولیس کو رپورٹ کرادی ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ شکایت کا جائزہ لے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک میں مسلمان برادری کے خلاف امتیازی سلوک بڑھتا جا رہا ہے۔

امریکہ کے تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف حملوں میں 67 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ مجموعی طور پر اقلیتوں کے خلاف نفرت میں 7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یاد رہے کہ نومبر 2016ء میں اٹلی میں ایک مسلمان خاتون پر نقاب کرنے کی پاداش میں 30 ہزار یورو (34 لاکھ 8 ہزار پاکستانی روپے) کا جرمانہ عائد کر دیا گیا تھا۔

اسی طرح جولائی 2016 میں سوئٹزرلینڈ کے علاقے ٹچینو میں مسلمان خواتین پر برقعہ پہننے پر پابندی عائد کردی گئی جس کی خلاف ورزی کی صورت میں 11 ہزار ڈالر جرمانے کا قانون نافذ کردیا گیا۔

    تازہ ترین خبریں