کیا سائبر اسپیس پر دین کی ترویج گناہ ہے؟

خبر کا کوڈ: 1329172 خدمت: مقالات
سائبر اسپیس

ہمارے تمام نوجوان ہمارے "یوسف" ہیں اور اگر ہم انہیں محفوظ رکھنا چاہیں تو اس کے لئے ایک ہی راستے سے استفادہ نہیں کیا جاسکتا بلکہ تمام راستوں اور تمام تر امکانات اور وسائل سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کو ارسال کردہ یادداشت میں پاکستانی تجزیہ نگار فرحت حسین مہدوی نے کہا ہے کہ کسی شخص نے ایک صوتی پیغام ٹیلی گرام پر نشر کیا تھا اور فرمایا تھا کہ "قرآن کی آیات کریمہ اور رسول و آل رسول کی حدیثوں کو سائبر اسپیس پر نہ لگایا جائے کیونکہ انہیں مٹایا جاتا ہے اور آپ ان لوگوں میں شمار ہونگے جو اپنے ہاتھوں سے قرآنی آیات کو مٹا دیتے ہیں" اور بہت سی دوسری باتیں جو قابل ذکر نہ تھیں تو محسوس ہوا کہ ہمیں بھی دیکھنا چاہئے کہ سائبر اسپیس پر قرآن مجید کی تبلیغ کی صورت کیا ہے؟

سائبر اسپیس اور جدید مواصلاتی روشوں سے استفادہ ان اہم مسائل میں سے ہے جو آج کل مختلف حوالوں سے زیر بحث آتے ہیں، ان کے جائزے لئے جاتے ہیں ان پر تنقید ہوتی ہے۔

یہ امکان بہت ہی تیزرفتاری سے وسعت پارہا ہے اور ممکن ہے کہ کم ہی لوگوں نے اس موضوع کے دینی پہلو کی طرف توجہ دی ہے۔

استاد قرآن جناب حجۃ الاسلام والمسلمین محسن قرائتی نے ایک ینگ رپورٹرز کلب کے نام ایک یادداشت لکھی ہے اور اس مسئلے کی تشریح فرمائی ہے۔

سایبر اسپیس پر دین و مذہب کی ترویج کے سلسلے میں علوم قرآنی کے نامی گرامی استاد محسن قرائتی کی ہدایات کا متن ملاحظہ فرمائیں:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: "وَقَالَ یَا بَنِیَّ لاَ تَدْخُلُواْ مِن بَابٍ وَاحِدٍ وَادْخُلُواْ مِنْ أَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ"۔ (یوسف/67)

ترجمہ: اور انھوں نے کہا: اے میرے بیٹو! ایک دروازے سے شہر کے اندر نہ جانا اور مختلف دروازوں سے جانا۔

یعنی جب تم یوسف علیہ السلام کی تلاش کی غرض سے شہر میں داخل ہوتے ہو تو ایک دروازے سے مت داخل ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہوجاؤ۔

ہمارے تمام نوجوان ہمارے یوسف ہیں اور اگر ہم انہیں محفوظ رکھنا چاہیں تو اس کے لئے ایک ہی راستے سے استفادہ نہیں کیا جاسکتا بلکہ تمام راستوں اور تمام تر امکانات اور وسائل سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔

آج سائبر اسپیس، چینلز، سیٹلائٹس، ویب سائٹیں، انٹرنیٹ اور موبائل فون میں سے ہر ایک بذات خود ایک مواصلاتی ذریعہ ہے اور آج کل پوری دنیا ـ بالخصوص نوجوان نسل ـ ان سے استفادہ کررہی ہے۔

خداوند متعال قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: "وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ بِلِسَانِ قَوْمِهِ"؛ (ابراهیم/4)

ترجمہ: اور ہم نے نہیں بھیجا کوئی پیغمبر مگر اس کی قوم کی زبان کے ساتھ  [ہر پیغمبر کی زبان اس کی قوم کی زبان ہوتی ہے]؛

اور آج سائبر اسپیس نوجوان نسل کی زبان ہے اور نوجوان زیادہ تر معلومات یہیں سے حاصل کرتے ہیں۔

قرآن مجید مؤمنین سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے: "وَأَعِدُّواْ لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ"؛ (انفال/60)

ترجمہ: اور مہیا رکھو ان کے لیے جو تم فراہم کر سکو طاقت کی قسم سے۔

یعنی دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے طاقت کے لئے ضروری ہر قسم کے آلات اور وسائل کو تیار کرو۔

اس زمانے میں سائبر اسپیس پر دشمن وسیع سرگرمیوں میں مصروف ہے اور مسلم اقوام کے اندر اثر و نفوذ بڑھانے اور ان پر تمدنی اور ثقافتی تسلط جمانے کے لئے اس امکان سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ تو کیوں نہ ہم بھی قرآن اور اہل بیت علیہم السلام کے معارف و تعلیمات کی تبلیغ اور ترویج کے لئے اس میدان میں اتر کر ان کا مقابلہ کریں؟

فرض کریں سڑک کے کنارے ایک دیوار ہے اور ہر کوئی اپنا اشتہار اس دیوار پر لگا سکتا ہے اگر مذہبی لوگ اس دیوار سے فائدہ نہ اٹھائیں تو یقینی بات ہے کہ وہ لوگ اس دیوار سے ناجائز فائدہ اٹھائیں گے جو دین و مذہب پر وار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

جدید اور ترقی یافتہ وسائل سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت

اولیائے خدا اور ائمۂ معصومین علیہم السلام ہر موقع سے بہترین انداز سے فائدہ اٹھاتے تھے اور ہم اپنے آپ سے پوچھتے ہیں کہ ہم جو سائبر اسپیس سے استفادہ کرسکتے تھے لیکن ہم نے ایسا کیا نہیں، کیوں؟

عبادت کے لئے ماہ مبارک رمضان ایک مناسب موقع ہے، معاد اور آخرت [کو سمجھنے] کے لئے بہار ایک مناسب موقع ہے؛ آیات قرآن کے نزول کے لئے شان نزول ایک مناسب موقع ہے، سائبر اسپیس بھی دین کے معارف و تعلیمات کی ترویج اور تبلیغ کے لئے ایک سہولت اور ایک مناسب موقع ہے۔

حدیث میں ہے: "الفرصةُ سریعةُ الفَوتِ بَطئیةُ العَودِ!" (بحار/ج78/ص113)

ترجمہ: مواقع بڑی تیزی سے گذرتے اور بڑی دیر سے ہاتھ آتے ہیں؛  اور 

"بَادِرِ الْفُرْصَةَ قَبْلَ أَنْ تَکُونَ غُصَّةً"۔ (مکتوب نمبر 31 نهج البلاغه)

ترجمہ: اندیشوں میں مبتلا ہونے سے قبل ہی مواقع سے فائدہ اٹھاؤ۔

ہم سب کو جان لینا چاہئے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا مقابلہ کرنا معقول نہیں ہے۔

امام خمینی (رضوان اللہ تعالی علیہ) جب پیرس سے وطن واپس آکر شہداء کے مقبرے "بہشت زہرا (س)" میں حاضر ہوئے تو فرمایا: "ہم سینما کے خلاف نہیں ہیں، ہم غلط فلموں کے خلاف ہیں"۔

آج سایبر اسپیس ایک اوزار اور وسیلے کے طور پر سب ـ بالخصوص نوجوانوں ـ کی دسترس میں ہے۔ کم خرچ اور تیزرفتار، بین الاقوامی، دلچسپ اور دو طرفہ [اور چند طرفہ] وسیلہ، جو درحقیقت ایک اعلی سہولت اور قیمتی موقع ہے۔ تصویر، ویڈیو، صوت، متن اور ہر قسم کے مواد کو اس اسپیس پر شائع کیا جاسکتا ہے؛ حالات ایسے پیش آئے ہیں کہ ہمیں ضرور اس وسیلے، اس موقع اور اس سہولت سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔

عُمرہ اور حج کا ایک عمل مسجد الحرام کے ساتھ ہی واقع صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا ہے، حاجی کو یہ رستہ سات مرتبہ طے کرنا پڑتا ہے۔ اسلام سے قبل کوہ صفا پر بھی ایک بت رکھا ہوا تھا اور کوہ مروہ پر بھی ایک بت تھا۔

طلوع اسلام کے بعد مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سے عرض کیا کہ چونکہ ان دو پہاڑیوں پر بت رکھے ہوئے ہیں لہذا ہم سعی کا عمل انجام نہیں دیں گے۔

آیت نازل ہوئی جس کا مفہوم یہ تھا کہ "مت کہو کہ چونکہ ان دو پہاڑیوں پر بت ہیں لہذا ان کے درمیان سعی نہیں کریں گے بلکہ جاکر شعائر الہیہ کو تقویت پہنچاؤ: "إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَآئِرِ اللّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْهِ أَن یَطَّوَّفَ بِهِمَا"۔ (بقره/158)

ترجمہ: بلاشبہ صفا و مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو شخص خانہ کعبہ کا حج یا عمرہ بجا لائے اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا کہ وہ ان دونوں کا چکر لگا لے۔

سایبر اسپیس پر حق کا کام بھی انجام دیا جاسکتا ہے اور باطل کا بھی؛

اگر ہمارے علماء، طلبہ، فضلا، تعلیم و تربیت سے وابستہ افراد، اساتذہ اور اہل علم و ثقافت سایبر اسپیس کو حق سے پر کرسکتے ہیں، اور اس صورت میں باطل کی موجودگی اور ان کی سرگرمیاں ماند پڑ سکتی ہیں۔

میری اپنا نظریہ یہی ہے اور اس سلسلے میں اقدامات بھی عمل میں لا چکا ہوں۔ اس وقت ہمارے رفقائے کار اور دوست کوشش کررہے ہیں کہ سایبر اسپیس کی سہولتوں سے قرآنی تعلیمات و معارف کی ترویج کے سلسلے میں فائدہ اٹھایا جائے۔

بعض ویب سائٹس ہیں جن کے ذریعے کتب، حوالہ جات، ویڈیوز اور وہ سب کچھ جو ہم نے چالیس سالہ تبلیغ کے دوران حاصل کیا ہے، کو بلامعاوضہ صارفین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔

اگر دنیا کے کسی دور دراز کے علاقے سے کوئی شب قدر کے بارے میں کچھ جاننا چاہے تو وہ اس سائٹ میں اسے پا سکتا ہے اور جان سکتا ہے کہ "قرائتی نے شب قدر کے بارے میں کیا کہا ہے"، میں چھتیس سالوں سے ٹیلی ویژن پر قرآنی دروس کی تدریس کررہا ہوں، میں نے ہر سال قدر کی راتوں کو اس سلسلے میں بحث کی ہے، یوں چھتیس سالہ تقاریر اس موضوع پر یہاں دستیاب ہیں۔

سایبر اسپیس پر دشمنوں کے اہداف

یہ جاننا ضروری ہے کہ موجودہ زمانے میں ہمارے دشمن اور عالمی استکبار مختلف اہداف و مقاصد کے لئے اس سہولت کو بروئے کار لاتے ہیں:

کچھ لوگ شیطانی مقاصد کے حصول کے لئے انحرافی عقائد اور افکار نیز گمراہانہ رویوں کی ترویج و تشہیر کرنے کے لئے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں؛

قرآن مجید میں خداوند متعال ارشاد فرماتے ہیں: "إِنَّ الشَّیَاطِینَ لَیُوحُونَ إِلَى أَوْلِیَآئِهِمْ لِیُجَادِلُوکُمْ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّکُمْ لَمُشْرِکُونَ"۔ (انعام / 121)

ترجمہ: بلاشبہ شیطان ہیں جو اپنے حوالی موالی کو القا کرتے ہیں کہ وہ تم سے جھگڑا [اور مجادلہ] کریں اور اگر تم ان کا کہنا مانو تو یقینا تم مشرک ہو جاؤ۔
یعنی کچھ شیاطین ایسے ہیں جو اپنے غلط عقائد اور نظریات اور افکار اور رویوں کو لوگوں کے ذہنوں میں ڈالتے ہیں کہ وہ کیا کریں اور کس قسم کے اعمال سرانجام دیں اور وسوسے سب شیطان کی طرف کے ہیں۔

اور بعض لوگ چین اور سکون اور آرام و آسائش کو لوگوں کے دلوں سے چھیننے میں مصروف ہیں اور ان کا اصل ہدف معاشرے میں بےچینی اور آشوب پھیلانا ہوتا ہے۔ یہ لوگ بعض واقعی اور کچھ جعلی فلمیں اور تصویریں شائع کرتے ہیں اور اس ذریعے سے لوگوں کے طبقات اور حکومت اور عوام کے درمیان کی وحدت، اعتماد، اتحاد و یکجہتی اور صداقت کی فضا کو نیست ونابود کرنے کے درپے ہوتے ہیں تاکہ اپنے ہاتھوں بنائے ہوئے گارے پانی سے مچھلی پکڑ سکیں [اور حالات خراب کرکے اپنے مقاصد تک پہنچ سکیں] تفرفے اور انتشار کی مچھلی اور دین و نظام [اور نظم و امن] تباہ کرنے کا مقصد۔

خداوند متعال قرآں مجید میں ارشاد فرماتا ہے: "وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوسَى مِن بَعْدِهِ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلاً جَسَداً لَّهُ خُوَارٌ"۔ (طه/88)

ترجمہ: سامری نے ان کے لئے ایک گوسالے [بچڑے] کا مجسمہ بنایا جو [حقیقی] گوسالے کی آواز پیدا کرتا تھا، تو وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: "یہ تمہارا خدا اور موسی کا خدا ہے"۔

ہاں! سامری جیسے بہت ہیں جو فن و ہنر اور شور و غل کے اوزاروں سے فائدہ اٹھا کر لوگوں غافل کرکے موسی علیہ السلام سے دور کرنا چاہتے ہیں [اور یہ کام وہ بڑی کامیابی سے کررہے ہیں]۔

سایبر اسپیس پر کیا کریں اور کیا نہ کریں؟

ان حقائق کی بنیاد پر ہمیں بھی ضروری مواد کی تیاری کا اہتمام کریں لیکن اس حساس اور پیجیدہ فضا میں بعض مسائل کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں: جان لینا چاہئے کہ اس فضا کے کیا حقوق ہیں اور اس پر موجود صارفین کے کیا حقوق ہیں اور جان لینا چاہئے کہ کس طرح کے تحفظات کو مد نظر رکھنا چاہئے۔
قرآن کریم اس سلسلے میں کیا حکم دیتا ہے:

* [سایبر اسپیس پر] لوگوں کا پہلا حق یہ ہے کہ ہم جو تحریریں ان کو پڑھنے کے لئے پیش کرتے ہیں اور جو خبریں پیش کرتے ہیں، وہ صحیح بھی ہوں اور مستند بھی ہوں؛ وہم و گمان پر مبنی نہ ہوں، توہین و تہمت سے پاک ہوں، افواہ اور پراپیگنڈا نہ ہو، صارف کے اپنے تصورات سے برآمد نہ ہوئی ہوں۔

کبھی ممکن ہے کوئی کسی خبر یا تحریر کا حوالہ دے اور کہہ دے کہ جناب یہ تو ساری ویب سائٹوں پر درج ہو لہذا صحیح ہے، تو اس امکان کو ہرگز نظروں سے دور نہیں رکھنا چاہئے کہ تمام تر ویب سائٹوں نے خطا کی ہو۔ [چنانچہ معقول اور منطق پر مبنی ہونا بھی مد نظر ہونا چاہئے]۔

* خداوند متعال اپنی کتاب میں ارشاد فرماتا ہے: "یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِن جَاءکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَیَّنُوا"۔ (حجرات/6)

ترجمہ: اے ایمان لانے والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو۔

اگر آپ کوئی خبر کہیں سے لے کر یا خود بنا کر نشر کریں اور اس کے بارے میں آپ نے تحقیق نہ کی ہو اور اس کے درست یا غلط ہونے کا اطمینان حاصل نہ کیا ہو، لہذا تحقیق کرنا لازمی ہے۔

ہدہد نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے کہا: "فَقَالَ أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ وَجِئْتُکَ مِن سَبَإٍ بِنَبَإٍ یَقِینٍ"۔ (نمل/22)

ترجمہ: تو اس [ہدہد] نے آ کر کہا: میں نے وہ ایک بات معلوم کی ہے جو آپ کو نہیں معلوم اور میں سبا سے ایک یقینی اطلاع آپ کے لئے لایا ہوں۔

* دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہر تحریر، ہر مضمون، ہر خبر اور ہر موضوع کو اس کے اہل لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہئے، کیونکہ تمام لوگ تمام امور کو نہیں سمجھ پاتے، اور ان کی ظرفیت و صلاحیت ان کے لئے مناسب نہیں ہوتی۔ حضرت موسی بن عمران علیہ السلام اولو العزم پیغمبر تھے لیکن جب خضر علیہ السلام کی معیت میں سفر پر روانہ ہوئے تو ثابت ہوا کہ وہ ہر چیز کے جاننے اور دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

قرآن کریم کے فرمانے کے مطابق سب کی صلاحیتیں ایک جیسی نہیں ہوتیں؛ ارشاد ہوتا ہے: "یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُواْ لاَ تَسْأَلُواْ عَنْ أَشْیَاء إِن تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ"۔ (مائده/101)‌

ترجمہ: اے ایمان لانے والو ! ایسی چیزوں کے متعلق دریافت نہ کرو [اور نہ پوچھا کرو] کہ اگر وہ تمہارے لیے ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں صدمہ ہو [اور ان کا جاننا تمہارے لئے تکلیف دہ یا نقصان دہ ہو]۔

چنانچہ ہمیں ایسی خبریں نہیں نقل کرنا جاہئیں جس کی وجہ سے معاشرے اور صارفین کی فکری اور نفسیاتی ماحول کی سلامتی درہم برہم ہو۔

* ایک نکتہ یہ ہے کہ مسائل اور تحریریں وقت کے عین مطابق اور جدید [Up to Date] ہوں۔ ایک کتاب میں ایک دلچسپ واقعہ پڑھنے کو ملا؛ کسی شخص نے اپنی چھت سے برف اٹھا کر پڑوسی کے صحن میں پھینک دی تھی۔ پڑوسی نے عدالت میں شکایت کی تھی اور عدالت نے فیصلہ موسم گرما میں سنایا تھا اور فیصلہ یہ تھا کہ وہ شخص جاکر پڑوسی کے صحن سے برف پلٹا دے! جبکہ برف کا کہیں نام و نشان تک نہ تھا؛ یہ فیصلہ علاج بعد از موت کا مصداق ہے۔

خداوند متعال مصر سے حضرت موسی علیہ السلام کے فرار کا ماجرا سناتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: "وَجَاء رَجُلٌ مِّنْ أَقْصَى الْمَدِینَةِ یَسْعَى"۔ (قصص/20)

ترجمہ: اور آیا شہر کے آخری حصے سے ایک شخص دوڑتا ہوا۔

جب فرعون کے دربار نے موسی علیہ السلام کو گرفتار یا قتل کرنے کا فیصلہ کیا؛ ایک شخص تیز رفتاری کے ساتھ شہر میں آیا اور موسی علیہ السلام کو فرعون کے فیصلے سے آکاہ کیا؛ اور اگر وہ بروقت پہنچ کر خبر نہ دیتا تو حضرت موسی علیہ السلام کا کام تمام تھا۔

* ایک مسئلہ یہ ہے کہ سایبر اسپیس پر بھی اور سایبر اسپیس سے باہر بھی ہمیں دشمن کی سرگرمیوں اور ان کی حرکات و سکنات پر بھی نظر رکھنا پڑے گی؛ دیکھنا چاہئے کہ دوسری ویب سائٹوں، نیٹ ورکس اور گروپوں کے اندر کیا ہورہا ہے اور کیا کہا جارہا ہے۔ دین اور ملک و ملت کے دشمنوں سے غفلت نہیں کرنا چاہئے، گوکہ یہ کام ابتدائی طور پر عمائدین اور راہنماؤں کا اور پھر مبلغین اور مدافعین کا ہے، علماء اور دانشور حضرات معاشروں کے زعیم ہیں اور ان کی ذمہ داری ہے کہ تبلیغ اور ترویج و دفاع کی ایک وسیع حرکت کی راہنمائی کا کام سنبھالیں [جبکہ اس وقت افراتفری کی سی حالت ہے اور جو چار جملے لکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہ اپنے آپ کو صاحب رائے بھی سمجھ لیتا ہے کیونکہ ان کی کوئی نگرانی نہیں ہوتی اور جو اصل ذمہ دار ہیں وہ شاید جانتے ہی نہیں ہیں کہ ہو کیا رہا ہے]۔

خداوند متعال نے قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے کہ جب حضرت موسی علیہ السلام کی والدہ نے اپنے نوزائیدہ بچے کو صندوق میں قرار دیا اور صندوق کو نیل کی لہروں کے سپرد کیا تو اس کو اپنے حال پر نہیں چھوڑا بلکہ "وَقَالَتْ لِأُخْتِهِ قُصِّیهِ فَبَصُرَتْ بِهِ عَن جُنُبٍ وَهُمْ لَا یَشْعُرُونَ"۔ (قصص/11)

ترجمہ: اور مادر موسی نے ان [موسی] کی بہن سے کہا: اس کے پیچھے جاؤ تو اس نے اسے دور سے دیکھا درحالیکہ ان لوگوں کو خبر نہ تھی۔

یعنی حضرت موسی علیہ السلام کی والدہ اپنے نونہال سے غافل نہیں ہوئیں بلکہ فیصلہ کیا کہ "ہمیں بھی اس کی نگرانی کرنا چاہئے"۔

بسا اوقات ہم بعض واقعات سے ایسے مواقع پر آگاہ ہوجاتے ہیں کہ وقت ہمارے ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔ [چڑیاں کھیت کو چگ چکی ہوتی ہیں؛ چنانچہ دشمن کو خبر دیئے بغیر اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا، اس کے لئے تیاری کرنا اور اس کی سرگرمیوں کا مؤثر جواب دینا]۔

خبروں کا تبصرہ پڑھے لکھے، بصیر اور ماہر افراد کے توسط سے ہونا چاہئے؛ خداوند متعال کا ارشاد ہے: "وَإِذَا جَاءهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُواْ بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُوْلِی الأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِینَ یَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ"۔ (نساء/83)

ترجمہ: اور جب ان کے سامنے کوئی بات امن و امان یا خوف و اندیشہ کی آتی ہے تو اور اسے مشہور کر دیتے ہیں، حالاں کہ اگر اس میں رجوع کریں پیغمبر کی طرف اور فرمان روائی کا حق رکھنے والوں کی طرف جو ان میں سے ہوں تو اسے جان لیں کے وہ لوگ جو ان میں سے اس کی تہہ تک پہنچ سکتے ہیں۔

یعنی اگر معاشرے کی خبریں پیغمبر اور ائمہ تک [اور معاشرے میں ان کی براہ راست عدم موجودگی کی صورت میں ان کے نائبین اور وارثین یعنی علماء اور صاحب عقل و دانش] تک پہنچا دی جائیں تو وہ لوگوں کو مسائل کی جڑ تک پہنچائیں گے؛ [چنانچہ جب ہمیں کوئی خبر ملتی ہے تو اس پر تبصرہ لکھنے سے قبل صاحبان علم و فکر سے مشورہ کرنا چاہئے یا ان ہی سے کہنا چاہئے کہ اس بارے میں کچھ تحریر کریں]۔

*‌ سایبر اسپیس کو صحتمند ہونا چاہئے اور اور تبلیغ و ترویج یا دفاع کرتے وقت ذاتی حب و بغض کا کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہئے، [ذاتی رجحان، محبت یا دشمنی وغیرہ کو مؤ‎ثر نہیں ہونا چاہئے]۔

قرآن مجید میں خداوند عادل و حکیم کا فرمان ہے: "یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُواْ کُونُواْ قَوَّامِینَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاء لِلّهِ وَلَوْ عَلَى أَنفُسِکُمْ أَوِ الْوَالِدَیْنِ وَالأَقْرَبِینَ". (نساء/135)

ترجمہ: اے ایمان والو!تمہیں انصاف پر استقلال کے ساتھ قائم رہنا چاہیے اللہ کا گواہ ہوتے ہوئے خواہ خود اپنے خلاف ہو یا ماں باپ اورعزیز و اقارب کے۔

یعنی خدا کے لئے لکھو، خدا کے لئے بولو، خدا کے لئے گواہی دو خواہ یہ تحریر، یہ تقریر یا یہ گواہی تمہاری ذات کے لئے نقصان دہ ہی کیوں نہ ہو، یا تمہارے اقربا اور اعزاء کے نقصان میں کیوں نہ ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ بھی لکھنے اور کوئی بھی خبر دینے کے وقت اپنے مفاد یا اپنی ذات کو نہیں بلکہ صرف اور صرف خدا اور اس کی رضا اور خوشنوی کو مد نظر رکھنا چاہئے۔

* خیال رہنا چاہئے کہ آپ کا قلم کسی بےگناہ کو نقصان نہ پہنچائے، اور افراد کی عزت و آبرو کو نشانہ نہ بنائے؛ میں نے سنا ہے کہ ویب سائٹوں پر بعض مشہور اور غیر مشہور افراد کی تصویریں اور ویڈیوز شائع کی جاتی ہیں اور ان کے خصوصی حریم [اور privacy] کا لحاظ نہیں رکھا جاتا اور ان تصاویر اور ویڈیوز کو دست بدست گھمایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے: "أَن تُصِیبُوا قَوْماً بِجَهَالَةٍ"۔ (حجرات/6)

ترجمہ: کہیں کسی جماعت کو تم نادانستگی میں ضرر نہ پہنچادو۔

* خیال رکھنا چاہئے کہ جو مواد ہم شائع کرتے ہیں، اس کا نتیجہ منفی نہ ہو، اس سے کسی بھی حوالے سے کوئی نقصان پہنچنے کا خدشہ نہ ہو، اور ایسا مواد شائع نہ کریں جو دشمن کے ہاتھ میں ہتھیار بن کر ہمارے خلاف بروئے کار لایا جائے۔

قرآن مجید کا ارشاد ہے: "یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُواْ لاَ تَقُولُواْ رَاعِنَا وَقُولُواْ انظُرْنَا وَاسْمَعُوا ْوَلِلکَافِرِینَ عَذَابٌ أَلِیمٌ"۔ (بقره/104)‌

ترجمہ: اے ایمان والو! راعنا۔ نہ کہا کرو! انظرنا۔ کہا کرو اور بات کو سنا کرو اور کافروں کے لئے تو درد ناک عذاب ہے۔

یعنی جب مؤمنین رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سے آیات قرآنی کے ادراک کے لئے مہلت کی درخواست کرنا چاہتے تو کہتے تھے کہ "راعنا" اور اللہ نے تعالی نے فرمایا کہ مت کہو کہ "راعنا" بلکہ کہا کرو کہ "انظرنا" کیونکہ راعنا دو معنی لفظ ہے اس کے ایک معنی ہیں: "ہمیں مہلت دیں"؛ اور اس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ "ہمیں بیوقوف بناؤ"۔ اور یہ دشمن کے لئے ایک دستاویز تھی۔

* "عَنْ أَبِی عَبْدِ اللّهِ علیه السلام قَالَ "خَطَبَ النّبِیّ صلی الله علیه وآله بِمِنًى فَقَالَ أَیّهَا النّاسُ مَا جَاءَکُمْ عَنّی یُوَافِقُ کِتَابَ اللّهِ فَأَنَا قُلْتُهُ وَمَا جَاءَکُمْ یُخَالِفُ کِتَابَ اللّهِ فَلَمْ أَقُلْهُ‏"۔ (الکافی، کافى، جلد 1، ص 89، حدیث 5)

ترجمہ: امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے مِنٰی میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! جو کچھ مجھ سے نقل کرکے سنایا جائے دو دیکھ لو کہ جو کچھ کتاب اللہ کے موافق ہے وہ میں نے کہا ہے اور جو کچھ تمہیں سنایا جائے اور کتاب اللہ کے خلاف ہو تو جان لو کہ وہ میں نے نہیں کہا [بلکہ مجعول اور موضوع ہے]۔

یعنی یہ کہ اگر آپ حدیث کا حوالہ دینا چاہئے تو پہلے یقین کرلیں کہ یہ حدیث صحیح اور مستند ہے اور قرآن مجید سے مطابقت رکھتی ہے ورنہ تو جھوٹی حدیثیں کچھ کم نہیں ہیں۔ [حدیث کے صحیح یا غیر صحیح ہونے کا علم مجتہدین اور علمائے حدیث کے پاس ہے لہذا کبھی جو بعض لوگ مجتہدین کی رائے کے مقابلے میں بعض احادیث کا حوالہ دیتے ہیں انہیں بھی جان لینا چاہئے کہ مجتہدین پہلے حدیث کے عالم و حافظ ہوتے ہیں اور اس کے بعد افتاء کے مرحلے میں پہنچتے ہیں اور اگر ہم کسی حدیث کا حوالہ دینا چاہیں اور ہمیں معلوم نہ ہو کہ صحیح ہے یا غیر صحیح، تو علمائے حدیث سے رجوع کرنا چاہئے ورنہ تو ہم سے ایک دن جھوٹی حدیث کا حوالہ دے کر لوگوں کو گمراہ کرنے کے حوالے سے بازخواست ہوگی]۔

[امیرالمؤمنین علی علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے بستر پر لیٹے اور آپ(ص) کو ہجرت کا موقع میسر آیا تو] آیت کریمہ نازل ہوئی: "وَمِنَ النَّاسِ مَن یَشْرِی نَفْسَهُ ابْتِغَاء مَرْضَاتِ اللّهِ وَاللّهُ رَؤُوفٌ بِالْعِبَادِ"۔ (بقره/207)

ترجمہ: اور آدمیوں ہی میں وہ بھی ہے جواپنی جان بیچ ڈالتا ہے اور اللہ کی مرضی کی طلب میں اور اللہ بندوں پر بڑا شفیق ہے۔

معاویہ جب اقتدار پر قابض ہوا تو اپنے حاشیہ برداروں سے کہا: اگر کوئی حدیث وضع کرکے اعلان کردے کہ یہ آیت علی بن ابی طالب کی شان میں نہیں بلکہ ان کے قاتل ابن ملجم کی شان میں نازل ہوئی ہے تو میں اس کو انعام دوں گا۔ سمرۃ بن جندب نے ایمان کا سودا کرتے ہوئے ایک حدیث گھڑ لی اور کہا کہ یہ آیہ کریمہ ابن ملجم کی شان میں نازل ہوئی ہے اور معاویہ نے اس کو چار لاکھ درہم بطور انعام ادا کئے۔ (تفسیر نمونہ، ج‏2، ص: 78)

* سایبر اسپیس مجازی فضا ہے لیکن اس کو حقیقی فضا کے سامنے رکاوٹ نہیں بننا چاہئے؛ ایسا نہ ہو کہ ہم اس فضا میں مصروف ہوکر گھر اور گھرانے کے مسائل سے غافل ہوجائیں اور نماز جمعہ و نماز جماعت سے دور پڑ جائیں، جان لیں کہ اس مجازی فضا میں ہم جو دیدار اور جواب دیدار کرتے ہیں، یہ دو بدو ملاقات اور صلۂ رحمی کے مترادف نہیں ہے۔

* اور آخری نکتہ یہ کہ ہم سرخ لکیروں اور حدود و حریم کا خیال رکھیں، مقدسات کے تقدس کو پامال نہ کریں اور حرمت شکنی نہ کریں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ، خدا کے بعد دوسرے ہیں، ان کا مقام آپ امیرالمؤمنین اور دوسرے ائمہ علیہم السلام سے پوچھیں تو بہتر ادراک ممکن ہوگا،

سید المرسلین اور اول ما خلق اللہ ہیں، حبیب خدا ہیں لیکن خداوند متعال ان کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں: "وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِیلِ * لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْیَمِینِ * ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِینَ * فَمَا مِنکُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِینَ"۔ (حاقه/44-47)

ترجمہ: اور اگر وہ [ہمارے رسول] ہم پر کوئی قول خود بنا کر منڈھتےتو * ہم ان کا دہنا ہاتھ پکڑتے * پھر ان کی رگ حیات کو کاٹ دیتے * تو تم میں سے کوئی [ہمارے اس [اقدام] کے آگے سد راہ نہیں ہو سکتا تھا۔

یعنی اللہ حتی اپنے پر جھوٹ باندھنے والے کو ہرگز معاف نہیں کرتا خواہ وہ اس کے حبیب ہی کیوں نہ ہوں؛ فرماتا ہے کہ اگر وہ ہماری طرف کوئی جھوٹی نسبت دیتے تو ہم اپنی قوت سے انہیں پکڑ لیتے اور ان کے قلب کی رگ کو کاٹ ڈالتے اور تم میں سے کوئی بھی اس سزا کے آگے رکاوٹ نہیں بن سکتا تھا۔ یعنی یہ کہ توحید ویکتا پرستی اور خدا پرستی اور الہی مقدسات و شعائر کا تحفظ اس قدر اہم ہے کہ خدا اس کے لئے اپنے محبوب پیغمبر تک کو سزا کی وعید دیتا ہے۔

میرے آخری جملے کا خطاب ان لوگوں سے ہے جو انحرافی اور گمراہ کن مواد تیار کرتے ہیں اور بدنیتی کی بنا پر [یا دشمن کے حکم پر کچھ درہم و دینار یا ڈالر و ریال لے کر] معاشرے اور عوام کے چین و سکون کو غارت کرنے کے درپے رہتے ہیں [یا انہیں گمراہ اور ان کے درمیان انتشار ڈالنا چاہتے ہیں] ان لوگوں سے جو ایسی خبریں اور ایسا مواد شائع کرتے ہیں جو معاشرے میں بےچینی پھیلا دیتے ہیں۔

قرآن مجید نے ایسے افراد کے ساتھ شدید قسم کا رویہ اپنانے کا حکم دیا ہے اور سورہ احزاب کی آخری آیات کریمہ میں ارشاد ہوتا ہے: "الَئِن لَّمْ یَنتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِینَ فِی قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِی الْمَدِینَةِ لَنُغْرِیَنَّکَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُونَکَ فِیهَا إِلَّا قَلِیلاً * مَلْعُونِینَ أَیْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِیلاً *سُنَّةَ اللَّهِ فِی الَّذِینَ خَلَوْا مِن قَبْلُ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِیلاً"۔ (احزاب/60-62)

ترجمہ: اگر باز نہ آئے منافق لوگ اور وہ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور مدینے میں غلط افواہیں پھیلانے والے تو ہم آپ کو ان کے خلاف حرکت میں لے آئیں گے، پھر وہ اس (مدینہ) میں آپ کے پاس نہ رہ سکیں گے مگر بہت کم * وہ مورد لعنت ہیں جہاں بھی وہ پائے جائیں پکڑے جائیں اور پوری طرح قتل کیے جائیں * جیسا ہوا ان کے بارے میں جو ان سے پہلے تھے اور اللہ کے طریقہ کار میں کبھی تبدیلی نہ پاؤ گے۔

جی ہاں! چین و سکون کے ساتھ زندگی بسر کرنا لوگوں کا حق ہے، اگر کوئی شخص سایبر اسپیس پر کوئی شعر، طنریہ فقرہ، کارٹون، ویڈیو، [جھوٹی خبر، جھوٹی افواہ، جعلی حدیث، جعلی فتوی وغیرہ] شائع کرکے معاشرے پر لرزہ طاری کردے تو خداوند متعال نے اس کے لئے جلاوطنی، معاشرے سے دور کرنے، اور اگلے مراحل میں قید و بند اور اس سے بھی اگلے مرحلے میں قتل کی سزا کا حکم مد نظر رکھا ہے اور آیت کے آخر میں ارشاد فرماتا ہے کہ یہ قانون سابقہ امتوں میں بھی نافذ رہا ہے"، یعنی یہ قانون صرف اسلام ہی کا نہیں ہے۔ جو بھی حکومت یا فرد یا افراد معاشرے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دے، خداوند متعال ان کے ساتھ شدید رویہ اپنانے کا حکم دیتا ہے۔

ترجمہ و ترتیب: فرحت حسین مہدوی

    تازہ ترین خبریں