کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور؛

آج اہل ادب اور اہل ذوق "مرزا غالب" کی 148ویں سالگرہ منا رہے ہیں

خبر کا کوڈ: 1329592 خدمت: دنیا
مرزا غالب

مرزا غالب جو آج بھی اردو زبان کے سب سے بڑے شاعر سمجھے جاتے ہیں، کا 148واں یوم ولادت منایا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، اس میں کوئی شک نہیں کہ 18ویں صدی میر تقی میر کی تھی۔ 19 ویں صدی غالب کی جبکہ 20 ویں علامہ اقبال کی تھی۔

غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کاا صل کمال یہ ہے کہ وہ ز ندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جا کر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کردیتے تھے۔

مرزا غالب کا نام اسد اللہ بیگ خاں تھا۔ باپ کا نام عبداللہ بیگ تھا ۔ آپ 27 دسمبر 1797ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔

غالب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہو گئے۔

نواب احمد بخش خاں نے مرزا کے خاندان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کرا دیا۔ 1810ء میں تیرہ سال کی عمر میں ان کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الہی بخش خاں معروف کی بیٹی امراء بیگم سے ہو گئی شادی کے بعد انہوں نے اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔

شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہو گئے۔ اس دوران میں انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور قرض کا بوجھ مزید بڑھنے لگا۔

آخر مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے قلعہ کی ملازمت اختیار کر لی اور 1850ء میں بہادر شاہ ظفر نے مرزا غالب کو نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب عطا فرمایا، اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کر دیا اور 50 روپے ماہور مرزا کا وظیفہ مقرر ہوا۔

غدر کے بعد مرزا کی سرکاری پنشن بھی بند ہو گئی۔ چنانچہ انقلاب 1857ء کے بعد مرزا نے نواب یوسف علی خاں والی رامپور کو امداد کے لیے لکھا تو انہوں نے سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جو مرزا کو تادم حیات ملتا رہا۔

کثرت شراب نوشی کی بدولت ان کی صحت بالکل تباہ ہو گئی اور مرنے سے پہلے بے ہوشی طاری رہی اور اسی حالت میں 15 فروری 1869ء کو انتقال کر گئے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری