تحریر: فرحت حسین مہدوی

امریکہ کی سالمیت پر ٹرمپ کے حملے + خاکہ

خبر کا کوڈ: 1329430 خدمت: مقالات
ٹرمپ

ٹرمپ نے تاحال امریکی سالمیت پر جس قدر حملے کئے اتنے کسی بھی دوسرے ملک یا کسی جماعت یا تنظیم نے نہیں کئے۔ اس نے ایران کے خلاف جن پالیسیوں کا اعلان کیا وہ کچھ ہی عرصے میں امریکہ کی پشیمانی کا سبب بنیں گے لیکن اس وقت تک امریکہ کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ چکی ہوگی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کو ارسال کئے گئے اپنے مقالے میں پاکستانی کالم نگار فرحت حسین مہدوی نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

پاکستانی کالم نگار کے مقالے کا متن من و عن پیش کیا جاتا ہے:

ٹرمپ نےاپنی صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد امریکی سالمیت پر جس قدر حملے کئے اتنے کسی بھی دوسرے ملک یا کسی جماعت یا تنظیم نے نہیں کئے۔ اس نے ایران کے خلاف جن پالیسیوں کا اعلان کیا وہ کچھ ہی عرصے میں امریکہ کی پشیمانی کا سبب بنیں گے لیکن اس وقت تک امریکہ کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ چکی ہوگی۔

ٹرمپ سب سے پہلے امریکہ کا دشمن ہے۔ ہم کہتے تھے کہ اسرائیل اور سعودی حکمرانوں کی حمایت امریکہ کی سالمیت کے لئے خطرات کا سبب ہے اب ٹرمپ آیا ہے تو ہر موضوع میں انتہاپسندی ہی انتہا پسندی نظر آنے لگی ہے۔

مذہبی انتہا پسندی: مسلمانوں پر مختلف قسم کی پابندیاں؛ نسلی انتہا پسندی: دوسری نسلوں کے لوگوں کو لاحق ہونے والے شدید خطرات؛ اور سیاسی انتہاپسندی: کیونکہ ٹرمپ ایک غیر سیاسی اور نہایت جذباتی شخص ہے اور اس کی کابینہ اس سے بھی بدتر غیر سیاسی اور انتہا پسند ہے۔ اب امریکہ کی خیر نہیں۔

خاکے کی تشریح:

جنرل ٹرمپ کا یہ خاکہ جرمن ہفتہ وار جریدے اشپیگل نے شائع کیا ہے جس میں ٹرمپ کو مجسمۂ آزادی کا سر قلم کرکے ہاتھ میں لہراتے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ اس کے دوسرے ہاتھ میں خونی چھری ہے، سر سے بھی اور چھری سے خون کے قطرے گررہے ہیں۔ اس خاکے نے تنازعے کھڑے کئے جرمنی کے اندر بھی اور باہر بھی۔

گو کہ اس خاکے میں کچھ تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں۔ [فیس بک یوزر کی طرف سے]

اس خاکے کے ساتھ لکھا ہوا ہے "'America First'" گویا کہ دنیا کو نابود کرنے کا ارادہ کیا ہوا ہے ایک نفسیاتی مریض نے اور سب سے پہلے امریکہ کو نابود کرے گا!!!

اس خاکے کا تخلیق کار کیوبن فنکار "Edel Rodriguez" ہے جس نے 1980 میں سیاسی پناہ گزین کی حیثیت سے امریکہ ہجرت کی اور اس نے اپنے اس خاکے کے بارے میں واشنگٹن پوسٹ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: "یہ درحقیقت جمہوریت کو ذبح کرنے کے مترادف ہے؛ ایک مقدس علامت کو ذبح کرنا۔"

یہ الگ بات ہے کہ ہم امریکہ کے مارے ہؤوں نے کبھی بھی امریکی ورژن والی آزادی پر اعتماد نہیں کیا اور نہیں کریں گے لیکن اندرونی سطح پر تشہیر شدہ آزادیاں بھی اب امریکیوں کو بھی اور امریکہ کو جنت سمجھ کر وہاں ہجرت کے سپنے دیکھنے والوں کو بھی مرتی دکھائی دے رہی ہیں اور اب تو جلاد بھ متعین ہوچکا ہے!

اس تصویر نے جرمنی میں بھی اور جرمنی سے باہر بھی کافی بحث و جدل کے اسباب فراہم کئے ہیں اور امریکہ کے سیاست سے نابلد نئے حکمرانوں کی طرف سے جرمنی کی پالیسیوں پر تنقید میں بھی اضافہ ہوا ہے اور گویا یہی ایک خاکہ وہ بھی آزادی بیان اور آزادی اظہار کے دعویدار ملک کے حکمرانوں کے عجیب و غریب رد عمل کی بنا پر جرمن امریکی تعلقات پر بھی اثرانداز ہوچکا ہے اور تعلقات خراب ہورہے ہیں گویا۔

جرمنی اور جاپان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات خراب ہونے کا مطلب بہت واضح ہے آپ بھی سمجھتے ہیں کہ امریکہ کس سمت میں گامزن ہوچکا ہے!!

اس سے قبل جرمنی کی خاتون وزیر اعظم امریکہ نواز سیاستدان کے طور پر پہچانی جاتی تھیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری