بلوچ آئی ڈی پیز کے واپسی تک مردم شماری کو مؤخر کیاجائے، عبدالمالک بلوچ

خبر کا کوڈ: 1329916 خدمت: پاکستان
سرشماری در پاکستان

نیشنل پارٹی تحصیل سریاب کے جنرل سیکرٹری عبدالمالک بلوچ نے ایک بیان میں مردم شماری پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے مخدوش حالات اور لاکھوں کی تعدادمیں غیر ملکی مہاجرین کی موجودگی میں شفاف مردم شماری ناممکن ہے اور بلوچستانی عوام کے تحفظات حقیقت پر مبنی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق نیشنل پارٹی تحصیل سریاب کے جنرل سیکرٹری عبدالمالک بلوچ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری حاجی محمد حسن بنگلزئی، رابطہ سیکرٹری غلام حسین شاہوانی اور انفارمیشن سیکرٹری عارف کرد نے اپنے ایک بیان میں مردم شماری پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے مخدوش حالات اور لاکھوں کی تعدادمیں غیر ملکی مہاجرین کی موجودگی میں شفاف مردم شماری ناممکن ہے اور بلوچستانی عوام کے تحفظات حقیقت پر مبنی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تربت آوران، پنجگور، کوہلو اور ڈیرہ بگٹی سے لاکھوں کی تعداد میں بلوچ نقل مکانی کر چکے ہیں اور ان علاقوں کی مخدوش حالات کی وجہ سے مردم شماری کا تصور ناممکن ہے اس صورتحال میں بلوچستانی عوام کے خدشات کو دور کرنے کیلئے غیر ملکی مہاجرین کو فوری طور پر کیمپوں تک محدود کرنے کے علاوہ بلوچ آئی ڈی پیز کے واپسی تک مردم شماری کو مؤخر کیاجائے۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکیوں کو کسی بھی ملک کے مردم شماری میں شامل نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ان کو کوئی دستاویز دیا جاتا ہے۔ غیر ملکیوں کی موجودگی میں بلوچستان کے عوام معاشی، معاشرتی انقلاب اور سیاسی حوالے سے بری طرح متاثر ہور ہے ہیں۔ اور خاص طور پر شمالی بلوچستان کے عوام اقلیت میں تبدیل ہوکر مستقبل قریب میں غیر ملکیوں کے زیر عتاب آجائیں گے۔

انہوں نے 18فروری کو ہونے والے قومی یکجہتی جرگہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے بلوچستان کے حقیقی سیاسی قائدین، قبائلی اکابرین، وکلا برادری، ٹیچرز، مزدور رہنماؤں اور دانشوروں سے بھر پور انداز میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔

    تازہ ترین خبریں