سعودی عرب دہشت گردوں کا منبع ہے لیکن امریکہ جاسکتا ہے، کیوں !!!

خبر کا کوڈ: 1330106 خدمت: مقالات
علی رمضان الاوسی

جنوبی عراق کے مطالعاتی مرکز کے ڈائریکٹر نے بعض مسلم ممالک کے بارے میں حالیہ امریکی پالیسی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب، دہشت گردوں کا اصل منبع ہونے کے باجود آزاد ہے اور وہ امریکہ جا سکتا ہے، کیوں؟

تسنیم خبررساں ادارے کو ارسال کردہ کالم میں جنوبی عراق کے مطالعاتی مرکز کے ڈائریکٹر "علی رمضان الاوسی" نے نومنتخب امریکی صدر

امریکی صدر نے دہشت گردی جیسے الزامات لگا کر بعض مسلم ممالک کے شہریوں کو امریکہ داخل ہونے سے منع کردیا ہے جبکہ دہشت گردوں کا اصل منبع اور راہنما مکمل طور پر آزاد ہے۔

میرے خیال میں امریکی سیاسی پارٹیوں "ریپبلکن اور ڈیموکریٹس" کی خارجہ پالسی میں کوئی خاص فرق نہیں ہے ان سب کا ایک ہی موقف ہے، امریکی سیاست ایک ہی ایجنڈے کو لیکر چل رہی ہے اس میں ایک پارٹی کا دوسری پارٹی سے کوئی اختلاف نہیں ہے، البتہ ٹرمپ نے انتخاباتی مہم کے دوران کچھ خارجہ پالیسی کی سرخ لائنوں کی خلاف ورزی ضرور کی ہے، ٹرمپ نے بعض خلیجی عرب ممالک کے لئے بھی حدیں مقرر کیں جو اس سے قبل ایسے نہ تھیں۔

امریکی صدر نے کئی بار کہا کہ خلیجی ممالک کا تیل در اصل امریکہ کا ہی ہے کیونکہ امریکہ نے ان ممالک کی حفاظت کی خاطر اربوں ڈالر خرچ کئے ہیں۔

البتہ یہ بات سب پر عیاں ہے کہ امریکہ کسی بھی صورت میں مشرق وسطیٰ میں امن کا خواہاں نہیں ہے،کیونکہ خطے کو ناامن بنا کر ہی امریکہ کچھ کما سکتا ہے اس لئے امریکہ نے ہمشہ سے خطے کے ممالک کو آپس میں لڑانے کی انتھک کوشش کی ہے اور کررہا ہے، مشرق وسطیٰ میں امریکی اہداف میں سے ایک اسرائیلی فوج کو طاقتور بنانا ہے، اسی پالیسی کے تحت بعض عرب ممالک کی افواج کو نہایت کمزور کرنے کی کوشش کی گئی، خاص طور پر مصر اور لیبیا کی افواج کو اس قدر کمزور کردیا گیا کہ جن کا حال سب پر عیاں ہے۔

سعودی عرب کا تجزیہ ہوئے بغیر رہنا مشکل ہے۔ اب یہ ملک ٹکڑے ہوجائے گا، آل سعود نے خطے کے ممالک خاص کر یمن میں دخالت کرکے بہت بڑی حماقت کی ہے اب یمن سے نجات پانا سعودیوں کے لئے کوئی آسان کام نہیں ہے، دوسری طرف سعودی حکام صدر ٹرمپ پر بھی اعتماد نہیں کرسکتے کیونکہ ٹرمپ کی پالیسی منٹوں میں بدل سکتی ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ خطے میں دہشت گردی کا اصل منبع اور محرک آل سعود ہی ہے، سعودی عرب کو ہی 11 سپتمبر کے حملے کا سہولت کار سمجھا جاتا ہے، اس کے باوجود امریکی حکام سعودی عرب کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں، کیوں؟ ٹرمپ نے ایران اور عراق سمیت بعض مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ داخلے پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ سعودیہ آزاد ہے، ایسا کیوں ہے؟

اصل میں امریکہ سعودی عرب کو ایک اور موقع دینا چاہتا ہے تاکہ مشرقی وسطیٰ کےلئے امریکی منصوبہ بندی میں مددگار ثابت ہو، امریکہ سعودی عرب سے توقع رکھتا ہے کہ وہ جنتا ہوسکے مشرق وسطیٰ میں فرقہ واریت اور قوم پرستی کو ہوا دے تاکہ امریکہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوجائے۔

حقیقت یہ ہے کہ موصل میں عراقی فوج اور شام میں شامی فوج اور اسی طرح لبنان میں پے درپے حزب للہ کی کامیابیوں کی وجہ سے امریکہ کو سخت دھچکا لگا ہے جس کی وجہ سے سعودی عرب کو ہی ان کامیابیوں کے سامنے دیوار بنانا چاہتا ہے، اس لئے سعودی حکام کے ساتھ سختی کے بجائے نہایت نرم مزاجی سے پیش آرہا ہے۔

خطے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے اثر و رسوخ کے پیش نظر، حالیہ مہینوں میں خلیجی ممالک کے حکام کا ایران دوروں سے واضح ہو جاتا ہے کہ سعودی عرب خطے میں امریکی پالیسی کو اجرا کرنے میں بری طرح ناکام ہوا ہے۔

سعودی حکام اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ان کے ملک میں عنقریب ایک بڑی تبدیلی آسکتی ہے اور وہ بھی کسی غیر کی وجہ سے نہیں بلکہ خود سعودی عوام ہی آل سعود کے گریبان پکڑ لیں گے اور ان کا خطرناک طریقے سے حساب لیا جائےگا۔

    تازہ ترین خبریں