سیہون شریف دھماکہ؛ شہداء کی تعداد 80 ہوگئی، 200 سے زائد زخمی/ تصاویر

خبر کا کوڈ: 1330755 خدمت: پاکستان
سیہون شریف

سہون میں درگاہ لعل شہباز قلندر کے احاطے میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں خواتین و بچوں سمیت 80 افراد شہید اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق دھماکا درگاہ لعل شہباز قلندر کے احاطے میں اس وقت ہوا جب وہاں دھمال ڈالی جارہی تھی، جبکہ دھماکے کے بعد لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی اور درگاہ کے احاطے میں آگ لگ گئی۔

دھماکے کے بعد پولیس کی ٹیموں نے درگاہ لعل شہباز پہنچ کر جائے وقوع کو گھیرے میں لے لیا، جبکہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو درگاہ کے قریب واقع ہسپتال منتقل کیا۔

انسپیکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کا کہنا تھا کہ اب تک 80 افراد شہید اور 200 سے زائد زخمی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زخمیوں میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک ہے اور جیسے ہی نیوی کے ہیلی کاپٹرز اور سی ون 30 طیارہ قریبی ایئرپورٹ پہنچے گا، ان زخمیوں کو کراچی منتقل کیا جائے گا۔

اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس (اے ایس پی) سہون کا کہنا تھا کہ خودکش حملہ سنہری گیٹ کے ذریعے درگاہ میں داخل ہوا اور دستی بم پھینک کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جبکہ دستی بم نہیں پھٹا۔

شدید زخمیوں کو دادو اور جامشور کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا جبکہ دادو، جامشور اور بھان سید آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

ایس ایس پی جامشورو طارق ولایت نے ڈان سے بات کرتے ہوئے دھماکے کے خودکش ہونے کی تصدیق کی۔

ان کا کہنا تھا کہ خودکش دھماکا درگاہ میں خواتین کے حصے میں ہوا، جبکہ دھماکے کی جگہ سے ملنے والے سر کے خدو خال سے معلوم ہوتا ہے کہ حملہ آور خاتون تھی۔

درگاہ پر خودکش حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم داعش نے قبول کر لی ہے۔

ایک نجی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ عرب ٹی وی الجزیرہ کے مطابق کالعدم تنظیم داعش نے لعل شہباز قلندر درگاہ پر خودکش حملے کی ذمہ داری ویب سائٹ "عماق" کے ذریعے قبول کر لی ہے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکا کے لیے نامزد سفیر اعزاز چوہدری کا کہنا ہے کہ داعش پاکستان میں داخل ہو سکتی ہے۔

اعزاز چوہدری کے مطابق داعش کے لوگ افغانستان میں جمع ہوچکے ہیں جس سے پاکستان کو خطرہ ہے، جبکہ جیسے جیسے شام کا مسئلہ حل کی طرف جائے گا داعش کے لوگ پاکستان کا رُخ کریں گے۔


اسلام آباد ایئر یونیورسٹی میں پاکستان کی خارجہ پالیسی پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اعزاز چوہدری نے کہا کہ داعش کے بیشتر لوگ افغانستان میں داخل ہوچکے ہیں اور مزید جمع ہو رہے ہیں، جبکہ ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے پاکستان کو اس پر تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ داعش کے لوگوں نے پشاور میں پمفلٹس اور پرچے گرائیں، اس پر انہیں کسی نے پذیرائی نہیں دی، جبکہ یہ پاکستان میں قدم نہیں جما سکتے کیوں کہ پاکستان کے لوگ دہشت گردوں کے خلاف متحد ہوچکے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں امریکا کے لیے نامزد سفیر کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں شیعہ سنی خون بہانے والی کالعدم تنظیموں کے خلاف بھی ایکشن شروع ہوچکا ہے، جبکہ یہ تنظیمیں پاکستان کے خلاف ہیں۔

    تازہ ترین خبریں