افغان حکام کی جی ایچ کیو طلبی/ طورخم بارڈر غیر معینہ مدت کیلئے بند

خبر کا کوڈ: 1330784 خدمت: دنیا
نقشه افغانستان و پاکستان

پاکستان کے عسکری حکام نے جہاں افغان سفارتخانے کے اعلیٰ حکام کو سیہون شریف دھماکے سے متعلق احتجاج ریکارڈ کرانے کیلئے جی ایچ کیو طلب کیا ہے وہیں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد طورخم بارڈر سے ہر قسم کی آمد و رفت پر پابندی عائد کرکے غیر معینہ مدت کے لیے بند کردیا۔

 خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ملک میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کی کڑیاں افغانستان سے ملنے کے بعد پاک افغان تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی ہے جبکہ حکومت پاکستان نے آج درگاہ لعل شہباز قلندر میں خود کش دھماکے کے بعد طورخم پر پاک افغان بارڈر کو غیر معینہ مدت تک بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاک افغان طور خم بارڈرسے ہرقسم کی آمدورفت پر پابندی رہے گی جبکہ بارڈر پر امیگریشن کا عمل روک کر ایف سی تعینات کردی گئی ہے۔

دوسری جانب افغان سفارتخانے کے اعلیٰ حکام کو جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) طلب کرکے افغانستان میں چھپے 'انتہائی مطلوب' 76 دہشت گردوں کی فہرست حوالے کردی گئی۔

پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں بتایا کہ افغان سفارت خانے کے حکام کو جی ایچ کیو طلب کرکے انھیں 76 دہشت گردوں کی فہرست دی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ یا تو ان دہشت گردوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے یا پھر انھیں پاکستان کے حوالے کردیا جائے۔

ترجمان آئی ایس پی آر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دو روز قبل بھی پاکستانی وزارت برائے خارجہ امور کے ایک عہدے دار نے اسلام آباد میں تعینات افغان ڈپٹی ہیڈ آف مشن سید عبدالناصر یوسفی سے ملاقات میں افغانستان میں سرگرم تنظیموں کی جانب سے پاکستان پر حملوں کا معاملہ اٹھایا تھا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری