تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کو وزیر داخلہ کے قریبی حواریوں کی جانب سے مسلسل دھمکیوں کا سامنا ہے، پریس کانفرنس

خبر کا کوڈ: 1330855 خدمت: پاکستان
تحریک جعفریہ

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ مکتب تشیع میں اگر خدا نخواستہ کوئی ناخوشگوار واقع پیش آیا تو اُسکی ذمہ داری وفاقی وزیر داخلہ پر ہو گی کیونکہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کو وزیر داخلہ کے قریبی حواریوں کی جانب سے مسلسل دھمکیوں کا سامنا ہے اور کارکنوں کو بلا وجہ شیڈول فور میں ڈالا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سیکرٹری جنرل سید شجاعت علی بخاری نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں خامیاں اجاگر کرنے پر ٹی این ایف جے کو انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے راولپنڈی اسلام آباد میں ریڈ الرٹ کے دوران ہیڈ کوارٹر مکتب تشیع کے حفاظتی بیرئیر ہٹانا اور پولیس گارڈ کی واپسی نہایت تشویش ناک اور کھلم کھلا انتقامی کاروائی ہے۔

وزیر اعظم ، چیف جسٹس اور آرمی چیف نوٹس لیں، حفاظتی بیرئیرز انتظامیہ نے قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی پر 2005ء میں ہونے والے خود کش حملے کے بعد خود نصب کئے تھے ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم نے وفاقی وزیر داخلہ کو کالعدم جماعتوں کی پذیرائی اور نیشنل ایکشن پلان کے بارے کی کم علمی پر آئینہ دکھایا جس کا وہ اور ان کے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار حواری شدید برا مان گئے ہیں ہیڈ کوارٹر مکتب تشیع میں اگر خدا نخواستہ کوئی ناخوشگوار واقع پیش آیا تو اُسکی ذمہ داری وفاقی وزیر داخلہ پر ہو گی، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کو وزیر داخلہ کے قریبی حواریوں کی جانب سے مسلسل دھمکیوں کا سامنا ہے،کارکنوں کو بلا وجہ شیڈول فور میں ڈالا جا رہا ہے۔

آغا حامد موسوی کا نام تحریک اسلامی کے ساتھ منسوب کرنے پر تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو سکے، مرکز مکتب تشیع پر ماڈل ٹاؤن سٹائل پولیس حملے پر مظلومانہ راہ اختیار کی کیونکہ مظلومیت ہی راہ حسینیتؑ اور فتح کا راستہ ہے۔

مولانا تصور جوادی پر حملے کے مجرموں کو گرفتار کیا جائے کشمیر کے حساس علاقے میں ٹارگٹ کلنگ بھارت کی لے پالک کالعدم تنظیموں کی کارستانی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے علمائے کرام اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے مرکزی رہنماؤں کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

شجاعت علی بخاری نے کہا کہ صحافیوں حضرات سیٹلا ئیٹ ٹاؤن جا کر ملاحظہ کرسکتے ہیں کہ ہیڈ کوارٹر مکتب تشیع کے ساتھ ملحق درجنوں سڑکوں گلیوں میں بیرئیر نصب ہیں لیکن انتظامیہ نے انہیں ہٹانا ضروری نہیں سمجھا اور ایک انتہائی حساس جگہ پر اپنے نصب کردہ بیریئرز کو وزیر داخلہ کے حکم پرہٹا دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے ناسور کے قلع قمع کیلئے سب سے پہلے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے آواز بلندکی، ایکشن پلان موسوی امن فارمولہ کا عکس ہے، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ مکتب تشیع کی واحد نمائندہ تنظیم ہے جو دین و وطن کے مفادات کو ہر شے پر ترجیح دیتی ہے۔ دہشتگردی کے علل و اسباب اور انسداد دہشتگردی کیلئے سابق چیف جسٹس آف پاکستان سید سجاد علی شاہ کے از خود نوٹس پر تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے 20اگست 1997ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی جانب سے دہشتگردی کے اسباب اور انسداد کیلئے 850سے زائد صفحات پر مشتمل موسوی امن فارمولا پیش کیا جسے عدالت عالیہ نے بے حد سراہا مذکورہ فارمولے میں انتہا پسند گروپو ں کی بیرونی امداد بند کرنے، فرقہ ورانہ، لسانی بنیاد پر عملی سیاست میں حصہ لینے اور کسی مسلمہ فرقے کو غیر مسلم کہناقابل تعزیر جرم قرار دینے کے علاوہ انتہا پسند دہشتگرد گروپوں کو ممنوع قرار دینا بھی شامل تھا بعد ازاں سابق وفاقی وزیر داخلہ لیفٹینٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر کی دعوت پروزارت داخلہ اسلام آباد میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں تحریری سفارشات کے طور پر موسوی امن فارمولا پیش کیا گیا جسے وزیر داخلہ نے بذریعہ خصوصی مکتوب نہ صر ف سراہا بلکہ ملک میں امن کیلئے نہایت کارآمد قرار دیا ۔

جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور حکومت میں 16انتہاپسند گروپوں کو سرکاری طور پر ممنوع قرار دیا گیا جو نئے ناموں سے کام کرتے رہے اور حکومیتں آتی جاتی رہیں۔ موجودہ حکومت نے2014ء میں 63کالعدم گروپوں کا اعلان کیا جن کی فہرست وزیر داخلہ نے قومی اسمبلی میں جاری کی جس میں تحریک اسلامی نامی ایک کالعدم تنظیم کے سربراہ کے خانے میں علامہ عارف الحسینی شہید اور آغا سید حامد علی شاہ موسوی کا نام درج تھا جبکہ اس تنظیم کا کوئی وجود ہی نہیں اور نہ ہی قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کا اُس سے کوئی تعلق ہے۔

اس سلسلہ میں معروف صحافی اور کالم نگار سلیم صافی نے جیو نیوز کے پروگرام جرگہ اور روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں حکومت کی لا علمی اور قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کانام مذکورہ کالعدم تنظیم کیساتھ منسوب کرنے پر اظہار افسوس کیا اور واضح کیا کہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کالعدم تنظیموں میں شامل نہیں ہے۔

سلیم صافی کے پروگراموں اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے ردعمل کے بعد حکومت نے اپنے موقف کی کوئی وضاحت نہیں کی اوروہ لسٹ نیکٹا کی سائٹ سے ہٹا لی گئی۔ بعدازاں جو لسٹ نیشنل سیکورٹی پالیسی کے حصہ کے طور پر موجود تھی اس میں سے بھی کالعدم تحریک اسلامی کے سربراہ کے خانے سے آغا سید حامد علی شاہ موسوی کا نام ہٹا دیا گیا۔

شجاعت بخاری نے کہا کہ 14جنوری 2017ء کو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کلر سیداں میں میڈیا ٹاک کرتے ہوئے نئی منطق پیش کی کہ فرقہ وارانہ قتل و غارت گری کو دہشت گردی سے الگ کیا جائے اور دو کالعدم رہنماؤں کا نام لینے کے بعد آغا حامد موسوی کا نام لیتے ہوئے کہا کہ کہ وہ محب وطن ہیں مگر اُن کی تنظیم کالعدم ہے جس کے رد عمل میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے ترجمان نے وضاحتی بیان جاری کیا کہ وزیر داخلہ یہ بات جو ش خطابت میں کہنے سے پہلے نیکٹا کی جاری کردہ کالعدم تنظیموں کی فہرست کا مطالعہ کرلیتے اور یہ بات بھی دہرائی کہ وزیر داخلہ کی کالعدم جماعتوں سے لاعلمی سے قاضی فائز عیسی کی سانحہ کوئٹہ کمیشن رپورٹ سچ ثابت ہو گئی ہے۔ اس ضمن میں وزارتِ داخلہ کو تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی جانب سے وزارت داخلہ کو تحریری لیٹر بھی ارسال کیا گیا۔

تحریک کے اس ردعمل پر وزیر داخلہ شدید سیخ پا ہوگئے اورتحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے خلاف انتقامی کاروائیوں کا آغاز کردیا۔ اُنکے قریبی شیخ اسلم نامی شخصیت نے کئی بار تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے رہنماؤں کو وزیر داخلہ کے بیان کیخلاف رد عمل جاری کرنے پر بذریعہ فون دھمکیاں دیں کہ چوہدری نثار کو سچا ثابت کرنے کیلئے موسوی صاحب کا نام کالعدم جماعتوں کی فہرست میں شامل کر لیا جائے گا۔ اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے دفتر میں گمنام دھمکی آمیز خطوط بھی ارسال کئے گئے۔ اس ضمن میں ٹی این ایف جے صوبائی کونسل بلوچستان کے صدر سردار طارق احمد جعفری، ضلع اسلام آباد کے صدر علامہ بشارت حسین امامی اور دیگر رہنماؤں کو شیڈول فورتھ میں شامل کیا گیا ہے۔ صرف ٹی این ایف جے بلوچستان کے صدر سردار طارق جعفری کی ہی مثال لے لیں انہیں ایک کالعدم تنظیم سے وابستہ کرکے شیڈول فور میں شامل کیا گیا ہے جبکہ مقامی انتظامیہ جو پہلے انہیں کلےئر قرار دے چکی تھی اس کے باوجود ان کا نام شیڈول فور میں شامل رکھاہے اور انتظامیہ افسران کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیر داخلہ کی جانب سے حکم آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ عام انتخابات اور بلدیاتی انتخابات میں حکومتی جماعت کے رہنماؤں کی خواہش کے بعدتحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کوووٹ دئیے تھے اور اسلام آباد میں ٹی این ایف جے پولیٹیکل سیل نے مسلم لیگ (ن)کے ظفر اقبال جھگڑا کے ہمراہ اسی پریس کلب میں پریس کانفرنس کر کے الیکشن میں حمایت کا اعلان کیا تھا۔

شجاعت علی بخاری نے کہا کہ اپنے حقوق کی خاطر ہم نے دور آمریت میں سیکرٹریٹ پر بھی قبضہ کیا تھا اور جنرل ضیاء الحق کے اقدامات کے خلاف چودہ ہزار گرفتاریاں دے کر پرامن احتجاج کے ذریعے مذہبی آزادیوں کو بحال کروایا تھاہمیں کل بھی وطن کی سلامتی و امن ہر شے سے عزیز ترین تھا اور آئندہ بھی رہے گا، ہم زندان سجا سکتے ہیں سولی پر چڑھ سکتے ہیں دہشت گردوں کے بارود گولیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں لیکن کبھی امن محبت انسانیت کی راہ نہیں چھوڑیں گے اور اسی راہ پر گامزن مظلومین کو اللہ نے تاریخ میں ہمیشہ فتح و نصرت سے ہمکنار کیا اور آئندہ بھی سرفرازی بخشے گا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری