مسلمانوں کے خلاف زہر کینیڈا میں بھی سرایت کرگیا/ مسلمان رکن پارلیمنٹ کو قتل کی دھمکیاں

خبر کا کوڈ: 1333597 خدمت: اسلامی بیداری
کانادا

کینیڈا میں لبرل پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکن پارلیمنٹ اقرا خالد کو ایمیلز اور فون پر قتل کی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، کینیڈین شہر مسی ساگا، اونٹاریو سے لبرل پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکن پارلیمنٹ اقرا خالد نے ایوان میں اسلامو فوبیا کے خلاف قرارداد کی حمایت میں تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں نفرت آمیز ای میلز موصول ہو رہی ہیں اور کھلم کھلا دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

رکن پارلیمنٹ  نے انکشاف کیا کہ ان کو نہ صرف 50 ہزار سے زائد ایسی ای میلز موصول ہو چکی ہیں بلکہ دھمکی آمیز ٹیلیفون کالز بھی مل رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دھمکی آمیز فون اس تواتر سے آ رہے ہیں کہ انہوں نے اپنے سٹاف کو ایسی کالز سننے سے منع کر دیا ہے اور یہ بھی ہدایت کی ہے کہ ان کی غیر موجودگی میں دفتر بند رکھا جائے۔

اقرا خالد نے نمونے کے طور پر کچھ ایمیلز پڑھ کر سنائیں۔ جیسے "اس کو مار دو، اس سے جان چھڑاؤ، یہ یہاں ہمیں مارنے آئی ہے، یہ مریض ہے، اسے ملک بدر کر دینا چاہئے، ہم تمہاری مسجدیں جلا دیں گے، اسے کینیڈا میں داخل ہی کیوں ہونے دیا گیا، اسے واپس بھیجو، تم ہمارے ملک سے دفع کیوں نہیں ہو جاتیں"۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ رکن پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ یورپ اور امریکہ میں  مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

امریکہ کے تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف حملوں میں 67 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ مجموعی طور پر اقلیتوں کے خلاف نفرت میں 7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یاد رہے کہ نومبر 2016ء میں اٹلی میں ایک مسلمان خاتون پر نقاب کرنے کی پاداش میں 30 ہزار یورو (34 لاکھ 8 ہزار پاکستانی روپے) کا جرمانہ عائد کر دیا گیا تھا۔

اسی طرح جولائی 2016 میں سوئٹزرلینڈ کے علاقے ٹچینو میں مسلمان خواتین پر برقعہ پہننے پر پابندی عائد کردی گئی جس کی خلاف ورزی کی صورت میں 11 ہزار ڈالر جرمانے کا قانون نافذ کردیا گیا۔

تاہم کینیڈا میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری