پی ایس ایل 2

فائنل لاہور میں ہوگا / آرمی چیف، وزیراعظم اور تمام وزرا اعلی کو اسٹیڈیم آنے کی دعوت

خبر کا کوڈ: 1334210 خدمت: پاکستان
پی ایس ایل

دبئی میں پی ایس ایل انتظامیہ اور فرنچائز مالکان کے اجلاس میں فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ فائنل پانچ مارچ کو لاہور میں ہوگا جبکہ نجم سیٹھی نے آرمی چیف، وزیراعظم اور تمام وزرائے اعلیٰ کو  اسٹیڈیم آ کر فائنل دیکھنے کی دعوت دیدی ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، پی ایس ایل 2 کا فائنل لاہور میں کرانے یا نہ کرانےسے متعلق اجلاس دبئی میں ہوا۔ 

ذرائع کے مطابق پانچ میں سے 4 فرنچائز کے مالکان اس امرپر متفق تھے کہ پی ایس ایل ٹو کا فائنل لاہور میں ہی ہونا چاہیے جبکہ صرف کراچی کنگز فرنچائزکے مالک نے فائنل لاہور میں کرانے پر تحفظات کا اظہار کیا۔

کراچی کنگز کے مالک سلمان اقبال نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 50 ہزار لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال کر لاہور میں فائنل کرایا جا رہا ہے، کیا یہ درست ہو گا؟ اور کیا آرمی چیف اور نواز شریف سٹیڈیم آئیںگے؟؟

تاہم پی ایس ایل انتظامیہ کے مضبوط عزم اور دیگر فرنچائزز مالکان کی رضامندی کے سامنے کراچی کنگز کے مالک کو بھی ہتھیار ڈالنا پڑ گئے اور بالآخر انہوں نے بھی رضامندی ظاہر کر دی۔

دوسری جانب پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چیئرمین نجم سیٹھی نے وزیراعظم نواز شریف، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو اسٹیڈیم میں آ کر فائنل دیکھنے کی دعوت دیدی ہے۔

پی سی ایل کے چیئرمین نجم سیٹھی نے تمام ممالک کوفول پروف سیکورٹی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ 

یاد رہے کہ چند روز قبل نجم سیٹھی نے یہاں تک دعویٰ کر دیا تھا کہ کھلاڑیوں کو سربراہان مملکت کے برابر سیکورٹی فراہم کی جائے گی۔

اسی طرح وزیرقانون پنجاب رانا ثناءاللہ نے بھی دعوی کیا ہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے فائنل میں سکیورٹی کیلئے پلاننگ مکمل کرلی ہے۔

ذرائع کے مطابق بہت سےغیرملکی کھلاڑیوں نےلاہورمیں فائنل کھیلنے پررضامندی ظاہر کردی ہے تاہم نجم سیٹھی نے واضح کر دیا ہے کہ کوئی آئے یا نہ آئے، فائنل لاہور میں ہی ہوگا۔

ادھر سابق کرکٹر رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ یہ ایک اچھا اور مضبوط فیصلہ کیا گیا ہے۔ پاکستان سپرلیگ کی بقا اسی میں ہے کہ فائنل پاکستان میں ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ شاید اس سال سارے غیر ملکی کھلاڑی نہ ہوں لیکن آئندہ سال غیرملکی کھلاڑیوں کی تعداد بڑھتی جائے گی۔

اسی زمرے میں قومی کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ باﺅلر شعیب اختر نے لاہور میں پی ایس ایل کے فائنل میچ کے انعقاد کو خوش آئند خبر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر غیر ملکی کھلاڑی نہیں بھی آتے تو گارنٹی دیتا ہوں کہ یہ پاکستان کا بہت بڑا فیسٹیول ہو گا اور لوگ جوق در جوق اسٹیڈیم میں آئیں گے۔

ذرائع کے مطابق پی ایس ایل انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے لاہور آ کر کھیلنے والے غیر ملکی کھلاڑیوں کو پی ایس ایل کی جانب سے 10,10 ہزار ڈالرز اضافی دئیے جائیں گے۔

اسی زمن میں فیکا کے چیف ایگزیکٹیو ٹونی آئرش نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لاہور میں سیکیورٹی کا خطرہ موجود ہے اور فیکا نے اس حوالے سے تمام کرکٹرز کو ”ہائی سیکیورٹی رسک“ سے آگاہ کر دیا ہے اب یہ کھلاڑیوں پر منحصر ہے کہ وہ لاہور جانے کے بارے میں کیا فیصلہ کرتے ہیں۔

دھیان رہے کہ فیکا نے پاکستان سپر لیگ کے آغاز پر بھی ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ غیر ملکی کرکٹرز لاہور جانے سے گریز کریں لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ کہتے ہوئے رپورٹ مسترد کر دی تھی کہ یہ حقائق پر مبنی نہیں ہے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو کرکٹ بورڈ کے اس فیصلے کے حوالے سے عوام میں ملا جلا ردعمل دیکھنے کو نظر آ رہا ہے۔

پاکستانی کھلاڑیوں کی طرح بعض افراد نے اس فیصلے کو پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کے لئے بہت خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔

جبکہ دوسری جانب کچھ لوگوں نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے بچگانہ سوچ قرار دیا ہے۔

ان کا موقف ہے کہ خصوصا ان حالات میں جب آئے روز پاکستان میں بم دھماکے ہو رہے ہیں اور انتظامیہ دہشتگردوں کے سامنے مکمل طور پر بےبس نظر آرہی ہے، کیا پاکستانی کھلاڑیوں کی جان اتنی ارزاں ہے کہ محض پاکستان میں پی ایس ایل کا فائنل منعقد کروانے کی ضد میں ان کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی جائیں؟

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری