افغانستان پر حملہ بھارت پر حملہ تصور کریں گے، مودی

خبر کا کوڈ: 1336249 خدمت: دنیا
مودی

بھارتی وزیراعظم مودی نے افغان صدر اشرف غنی کے پیغام کے جواب میں یقین دلایا ہے کہ افغانستان پر حملے کو بھارت پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق بھارتی وزیراعظم مودی نے افغان صدر اشرف غنی کے پیغام کے جواب میں یقین دلایا ہے کہ نئی دہلی افغانستان میں کسی بھی ملک کی طرف سے حملے کو بھارت پر حملہ تصور کرے گا اور افغانستان کے عوام کے تحفظ اور ان کی سلامتی کیلئے ہر ممکن حد تک اقدامات کرے گا۔

خیال رہے کہ بھارت میں افغانستان کے سفیر ڈاکٹر شیدا محمد ابدالی نے نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ہنگامی طور پر ملاقات کی تھی اور انہیں پاکستان کی طرف سے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملوں کی آڑ میں مبینہ طور پر شہریوں کی ہلاکت کے حوالے سے صدر اشرف غنی کا خصوصی پیغام دیا تھا۔

جس کے جواب میں بھارتی وزیراعظم مودی نے کہا ہے کہ بھارت افغانستان میں کسی بھی ملک کی طرف سے حملے کو بھارت پر حملہ تصور کرے گا اور افغانستان کے عوام کے تحفظ اور ان کی سلامتی کیلئے ہر ممکن حد تک اقدامات کرے گا۔

علاوہ ازیں مودی نے اشرف غنی کو تسلی بھی دی ہے کہ بھارت کے دورے پر آئے امریکی کانگریس کے اراکین کو خطے میں کسی بھی ملک پر بیرونی جارحیت کے خطرناک اثرات سے آگاہ کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ چند ماہ قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے متنازع بیان کے خلاف بلوچستان میں عوام نے ایک احتجاجی ریلی نکالی تھی اور بھارت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پاک افغان سرحد تک جا پہنچےتھے۔

دوسری جانب افغان شہری بھی ملک کی 97 سالہ یوم آزادی کے موقع پر ایک ریلی کی صورت میں سرحد پر باب دوستی کے سامنے اکھٹے ہو گئےتھے۔

جانے یہ پاکستانیوں کے بھارت خلاف نعروں کا ردعمل تھا یا کیا، لیکن افغانیوں کی جشن آزادی کی ریلی، اچانک پاکستان کے خلاف احتجاجی ریلی میں تبدیل ہوگئی۔

افغان مظاہرین  نے سنگ باری  کرکے نہ صرف باب پاکستان کے شیشے توڑ دئے بلکہ  دروازہ توڑنے کی بھی بھرپور کوشش کی۔

صرف اسی پر اکتفا  نہ کرتے ہوئے افغانی مظاہرین نے پاکستانی پرچم بھی نذر آتش کر دیا تھا۔

بات صرف پاک بھارت سرحد کی ہوتی تو اور بات تھی، دکھ اس بات کا ہے کہ پاک افغان سرحد سے بھی، مسلم برادر ہمسایہ ملک کی جانب سے بھی پاکستان کا سبز ہلالی پرچم جلایا جاتا ہے، پاکستانیوں پر فائرنگ ہوتی ہے، گولہ بارود برسایا جاتا ہے۔

ایک غیرت مند قوم کے لئے اس سے بڑھ کے اشتعال انگیز بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کے بیٹوں کے سامنے اسی کے پرچم کو نذر آتش کر دیا جائے۔

واضح رہے کہ اگر اس لمحے سرحد پر پاکستانی سیکورٹی اہلکار بھی جوابی کارروائی کر دیتے تو افغانستان کا بہت سا جانی نقصان ہو جاتا لیکن پاکستان نے تاریخی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، یہ پاکستان کا ظرف تھا۔

جبکہ دوسری جانب اس افسوسناک سانحے میں ملوث پاکستان کے مجرموں کو سزا تو کیا ملنی تھی، افغانستان نے جھوٹے منہ پاکستان سے معذرت بھی نہ کی۔

دوسری جانب، واشنگٹن کے تھنک ٹینک، وڈرو ولسن سینٹر میں ایشیا پروگرام کے ڈپٹی ڈائیریکٹر اور ساوتھ ایشیا کے سینئیر ایسوسییٹ مائیکل کوگل مین نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی افغانستان سے ہو رہی ہے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے بعد افغانستان سے پاکستان میں دہشتگرد کارروائیاں شروع ہو گئیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری